ڈریسنگ روم کا ماحول اچھا نہیں، فیلڈنگ کوچ کا اعتراف

پاکستان کرکٹ ٹیم میں کھلاڑیوں، کوچز اور انتظامیہ کے درمیان نوک جھوک کی باتیں منظر عام پر آنے کے بعد اب بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے بھی لب کشائی کردی۔

زمبابوے سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے ڈریسنگ روم کے ماحول میں گڑبڑ کی جانب اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی کھلاڑیوں کی ٹیم میں جگہ خطرے میں ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں گرانٹ فلاور نے کہا کہ ڈریسنگ روم کا ماحول اس وقت اچھا نہیں ہے، اور ویسے بھی شکست کے بعد ڈریسنگ روم میں خوش نہیں رہا جاسکتا۔

بیٹنگ کوچ نے اعتراف کیا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے سنچورین ٹیسٹ میں شکست کے بعد کھلاڑیوں کی سرزنش کی تھی کیونکہ کبھی کبھی اس کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خبر کسی نے لیک کی اس کے بارے میں علم نہیں ہے، تاہم جس کھلاڑی نے بھی خبر کو باہر نکالا ہے اسے خود بھی سوچنا چاہیے کہ ٹیم ایک فیملی ہے اور وہ ایک فیملی کا رکن ہے، تاہم آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

گرانٹ فلاور نے انکشاف کیا کہ جنوبی افریقہ سے شکست کے بعد کئی کھلاڑیوں کی ٹیم میں جگہ خطرے میں ہے اور اگلے میچ کے دوران ٹیم میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔

تجربہ کار کھلاڑی اسد شفیق کے بارے میں بات کرتے ہوئے گرانٹ فلاور کا کہنا تھا کہ مڈل آرڈر بیٹسمین اس وقت دباؤ میں ہیں اور جب بھی ان پر تنقید ہوتی ہے وہ سنچری کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوچ مکی آرتھر اور کھلاڑیوں کے درمیان کوئی بدنظمی نہیں ہوئی، ٹیم انتظامیہ

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اسد شفیق کو ایک مرتبہ پھر موقع دیا گیا تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔

کپتان سرفراز احمد کے بارے میں بیٹنگ کوچ کا کہنا تھا کہ وکٹ کیپنگ کے ساتھ کپتانی کرنا کرکٹ کا سب سے مشکل کام ہے مگر سرفراز کو اب دماغی طور پر مضبوط ہونا ہوگا۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کے ہاتھوں سنچورین ٹیسٹ میں شکست کے بعد میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ کوچ مکی آرتھر اور کھلاڑیوں کے درمیان نوک جھوک ہوئی تھی جس کی وجہ سے ڈریسنگ روم کا ماحول خراب ہوگیا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے