عارضی پسپائی

وغیرہ،وغیرہ|عبداللہ طارق سہیل

عارضی پسپائی

وغیرہ وغیرہ|عبداللہ طارق سہیل

سندھ کے سر سے بلا فی الوقت ٹل گئی ہے ورنہ خاں صاحب’’رلائوں گا‘‘ کا ساز اونچے سروں میں بجانے پر تل گئے تھے۔ پہلے مشورہ دیا گیا کہ بس ‘فی الوقت اتنا کافی ہے‘ اب ’’یو ٹرن‘‘ لے لو۔ خاں صاحب نے مشورے کی نرمی نظر انداز کی تو ڈانٹ پڑ گئی۔ ایسی سخت کہ ’’کیفیت‘‘ ایک ہی پل میں ہرن ہو گئی۔(کیفیت مذکر ہے یا مونث؟ ۔مذکر ہے تو یوں پڑھیے کہ ہرن ہو گیا) اور ہرن ہوتے ہی وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس کر دی کہ ہمارا ارادہ تو سندھ حکومت بدلنے کا تھا ہی نہیں‘ ہم تو محض وزیر اعلیٰ بدلنے کا ’’مشوم‘‘ سا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن ایک دن پہلے کے اخبارات اور مسلسل دو تین دنوں کے ٹی وی انٹرویوز‘ ٹاک شوز تو ذرا الگ کہانی کہہ رہے تھے۔ تحریک انصاف کے ایک کے بعد ایک آنے والے رہنما سندھ اسمبلی میں اکثریت ‘ کی حمایت حاصل کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ ایک نے کہا‘ پیپلز پارٹی میں 21ارکان کا فارورڈ بلاک بن گیا‘ ظاہر ہونے والا ہے‘ دوسرے نے کہا ہماری حکومت آ رہی ہے۔ وغیرہ۔ دو روز پہلے شاہی پروٹوکول مارکہ گورنر سندھ عمران اسمٰعیل بھی اپنے تام‘ جھام کے ساتھ سکھر پہنچے۔ اہلیان سکھر نے شاہی قافلے کو حیرت سے دیکھا‘ پھر ان پر یہ عقدہ کھلا کہ سندھ میں تبدیلی کا وردد ہونے والا ہے‘ گورنر صاحب سکھر میں اسی کی سہولت کاری کے لئے تشریف لائے ہیں۔ پھر یہ التوا‘ جس کے بارے میں علم نہیں کہ کتنے دن کا ہے‘ کن اسباب کی بنا پر ہوا۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ زرداری بھاری پڑ گیا‘ اس نے تیور دکھائے اور دانت چمکائے تو ہوا پلٹ گئی۔ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں۔ کچھ باخبروں کی خبر ہے کہ رپورٹیں جہاں جاتی ہیں‘ وہاں کا تجزیہ یہ تھا کہ بلاول کو گرفتار کیا گیا تو 2007ء کے حالات کا ری پلے کئی گنا اضافے کے ساتھ متوقع ہے۔ کہتے ہیں سندھ ایسا اونٹ ہے جس کی کمر پر آخری تنکا بے نظیر کی شہادت کی صورت رکھا جا چکا۔ اب مزید کی گنجائش نہیں‘ بس یہی ہوا ہو گا ورنہ خان صاحب تو محض تبدیلی ہی نہیں‘ زرداری اور بلاول دونوں کی گرفتاری کا ’’عزم‘‘ کر چکے تھے۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ یو ٹرن اگلے ہی موڑ پر ہے۔ ممکن ہے یہی مذکورہ بالا اندیشے ہوں۔ ممکن ہے کچھ اور مصلحتیں ہوں‘ بہرحال‘ ایک بار تو یوٹرن ہو گیا۔
خبر ہے کہ پنجاب میں جرائم پچھلے چار ماہ کے دوران 40فیصد بڑھ گئے۔ ایسی خبر دینا یعنی کسی صوبے کو سنگل آئوٹ کرنا ناحق بات ہے۔برحق بات یہ ہے کہ جرائم سارے صوبوں میں بڑھے۔ خیبر میں تو آئے روز قصور کی زینب قتل ہو رہی ہے‘ کراچی میں 2013ء پھر سے پلٹ آیا ہے۔ اس بار ٹارگٹ کلنگ تو اتنی نہیں بڑھی لیکن دیگر ہر قسم کے جرائم کا سونامی آ گیا ہے۔ پنجاب میں ہر روز ڈاکو ڈکیتی مرڈر کی زیادہ خبریں آ رہی ہیں۔ سچ پوچھئے تو ’’یہ بھی ایک مثبت بات ہے‘ لوگ خدا کو یاد کر کے گھروں سے نکلتے ہیں‘ خدا کا نام لے کر‘ ورد،وظائف کرتے ہوئے دن گزارتے ہیں اور رات کو ایک بار پھر خدا کے کلمے پڑھ پھونک کر سوتے ہیں۔ مملکت خدا داد کے عوام خدا کو شبانہ روز یاد کریں‘ کتنی مثبت بات ہے۔
وزیر خزانہ نے سنائونی سنا دی ہے‘ منی بجٹ جنوری کے وسط میں آ ئے گا‘ یعنی بس دس بارہ دن منی قیامت آنے میں رہ گئے۔ نئے پاکستان کا دستور بھی سنا ہے۔ اب اعلانیہ بجٹ سال میں چار بار‘ غیر اعلانیہ بارہ بار آیا کریں گے۔ آنے والے منی بجٹ میں 155ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جائیں گے۔ عوام کو نچوڑا جائے گا پھر اس سے وہ خوشحالی کشید کی جائے گی جس کے لانے کا وعدہ خاں صاحب نے الیکشن سے پہلے کیا تھا۔ خاں صاحب نے ان وعدوں کے ساتھ ایک اور بات بھی عوام کو حفظ کرا دی تھی۔ یہ کہ جب حکومت ٹیکس لگائے‘ ڈالر مہنگا کرے‘ غیر ملکی قرضے لے تو اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے اور وہ یہ کہ حکومت کرپشن کر رہی ہے۔ خاں صاحب نے سچ ہی کہا تھا۔
ایوب خاں کادور اس لئے بھی سنہری تھا کہ اس دور میں پاکستان غیر ملکی قرضوں کا اسیر بنا۔ اب جو سنہری دور عمران خاں کی حکومت کے روپ میں پلٹ کر آیا ہے تو اس کا بنچ مارک بھی غیر ملکی قرضے ہیں۔ خبر چھپی ہے کہ چار ماہ کے دوران حکومت نے ہر مہینے 383ارب کے (اندرونی و بیرونی) قرضے لئے ہیں اور یہ اوسط سابقہ حکومت کے اوسط سے 33فیصد زیادہ ہے۔ قرضے لینے کا عمل سنہری کارکردگی ہے تو یقینا خاں صاحب کی حکومت سابقہ ادوار پر 33فیصد کے مارجن سے بازی لے گئی ہے۔

خبر ایک یہ بھی آئی ہے کہ پنجاب میں پچھلے کچھ مہینوں سے جرائم کی شرح میں 35سے 40فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ جبھی تو… کئی بار اخبار پڑھتے ٹی وی دیکھتے یہ لگتا ہے کہ شاید پرویز الٰہی کا سنہری دور پلٹ آیا ہے اور اس بار کچھ زیادہ ہی سنہری ہے تو اس اضافی تڑکے کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمرانی دور ہے۔ یہ اشتراکِ مرشدانہ پنجاب کی حد تک اشتراک حکومت بھی بن گیا ہے تو پھر جرائم میں یہ ایزدادی برکت تو ہونا ہی تھی۔ ویسے صرف پنجاب ہی نہیں‘ کراچی میں بھی جرائم بڑھ گئے ہیں اور خیبر پختونخواہ میں بھی۔ وفاقی دارالحکومت کا حال تو پوچھئے مت‘ لوگ سی سی ٹی وی کے سامنے آ کر قتل کرتے ہیں‘ نام پتہ معلوم ہونے کے باوجود پولیس پکڑنے کی جرأت نہیں کرتی‘ خیالِ خاطر عمران کا پاس رکھتی ہے۔ چلئے‘ جرائم میں اضافے کا ایک مثبت پہلو بھی تو ہے۔ لوگ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ لیجئے جناب‘ یہاں تو خود بخود مثبت رپورٹنگ ہو گئی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے