کراچی کا یادگار مشاعرہ،چند تاثرات

تحریر:عمیر نجمی

کراچی میں گزرے دو یادگار دن اور ادبی محفلیں
تحریر:عمیر نجمی

دو ہزار نو میں پہلی بار ایک کام کے سلسلے میں اس شہر جانا ہوا تھا۔ دو دن کا قیام تھا جن میں سے ایک دن ایک کمرے میں کتاب پڑھتے ہوئے اور دوسرا کام میں گزر گیا تھا۔ سمندر بھی دیکھا لیکن ویسے نہیں جیسے دیکھنے کا حق ہوتا ہے۔
نو برس بعد پھر اسی شہر میں دو ہی دن رہا لیکن یہ دو دن ان نو برسوں پر بھاری ہیں۔ اسے روشنیوں کا شہر کیوں کہتے ہیں اب اندازہ ہوا۔ ایسے روشن لوگ، ایسی اجلی روحیں۔
گیسٹ ہاؤس پہنچنے پر لاہور سے تشریف لائے حسین مجروح اور حسن عباسی جبکہ اسلام آباد سے آئے حسن عباس رضا اور علی یاسر سے ملاقات ہوئی۔ میرے ساتھ کمرے میں کوٹ ادو سے مہدی حسن کا قیام تھا۔ کمرے میں پہنچتے ہی پیغام آیا کہ کچھ لوگ ملاقات کے لئے آئے ہیں۔ لابی میں پہنچا تو تین نامعلوم افراد نے محبت کی نوک پر اجنبیت چھین لی۔ فیضان بھائی، اسد شاہ صاحب اور تحسین بھائی نے فیضان بھائی کےہی الفاط میں ایسا کام اتارا کہ میٹر بس سے باہر ہو گیا۔ ان سے مل کر کمرے میں پہنچا تو بدن تھکن کے بجائے محبت اور شکرگزاری کے جذبات سے شل تھا۔
رات ساڑھے سات بجے کے قریب مشاعرہ گاہ پہنچے تودونوں میزبان ، محسن رضا دعا(جنرل سیکریٹری تہذیب انٹرنیشنل) اور کشور عدیل جعفری (صدر تہذیب انٹرنیشنل) دونوں اپنے اپنے نام کی تجسیم کی صورت موجود تھے۔
ان کے علاوہ اسد قریشی، سحر تاب رومانی، فہیم شناس کاظمی، شاعر علی شاعر اور عقیل جعفری صاحب سے بھی محبت وصول کی۔
قسیم زیدی، حمزہ اور ان کے دوستوں سے بھی ملا اور اب تک جدا نہیں ہو سکا۔
ڈاکٹر شاداب احسانی کا جشن تھا اور واقعی جشن تھا ۔ ان پر ان کے چاہنے والوں نے کھل کر گفتگو کی اور خراج تحسین پیش کیا۔
مشاعرہ میں اہلِ کراچی نے اپنی بے پناہ محبت اور داد سے مجھے لوٹ لیا۔ ایسے سامعین کوسنانے کے لئے ہی شعر کہے جاتے ہوں گے۔
صدارت ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کر رہے تھے اور مہمان خصوصی پروفیسر سحر انصاری تھے۔ صدر مشاعرہ کے تعریفی الفاظ جو مشاعرہ کے بعد طعام گاہ کی طرف جاتے ہوئے انہوں نے کہے وہ میں نے کسی خزانے کی طرح سنبھال رکھے ہیں۔
کھانے کے بعد پھر مجھے فیضان بھائی، اسد شاہ اور تحسین بھائی نے گاڑی میں بٹھایا اور سمندر کے ساتھ واقع ایک ریستوران میں چائے کے لئے لے گئے۔ ہم وہاں ہنسے، روئے، شاعری میں غرق ہوئے۔ فجر سے کچھ دیر پہلے وہ مجھے واپس گیسٹ ہاؤس چھوڑ گئے جہاں تمام مہمان شعرا ایک بار پھر نظمو نظمی ہو گئے۔
اگلی صبح تازہ مہمان شعرا کی کمک پہنچ چکی تھی جن میں امجد اسلام امجد صاحب، عباس تابش صاحب، باقی احمد پوری صاحب اور میرے شہر سے شہباز نیر شامل تھے۔ ان سے مل کر نکلا کہ عبدالرحمان مومن نے اپنے سٹوڈیو میں بلایا ہوا تھا جہاں ایک مختصر انٹرویو ہوا اور میرے ویر احمد جہانگیر سے ملاقات بھی ہوئی۔ میں ان کی محبت اور چائے سے بھر کر واپس پہنچا۔ میرا ویر احمد جہانگیر مجھے گیسٹ ہاؤس کے دروازے تک چھوڑنے آیا۔
ابھی اپنے بستر پر دراز ہوا ہی تھا کہ پھر پیغام آیا کہ کوئی ملنے آیا ہے۔ لابی میں پہچا تو گھبرا گیا کہ وہاں پولیس کے باوردی اہلکار حلقہ بنائے کھڑے تھے جس میں سے نکل کر کرتہ پائجامہ اور چپل میں ملبوس ایک نفیس اور دبلا شخص میری طرف بڑھا۔ گذشتہ رات جب فیصل سبزواری بھائی نے رابطہ کیا تھا اور شہر میں خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ یہ کہا تھا کہ ملاقات ہو گی تو میرا خیال تھا کہ ایسی مصروفیت میں سے کون وقت نکال سکتا ہے۔ میں اسی پر خوش تھا کہ انہوں نے میرا نمبر لے کر رابطہ کیا اور خوش آمدید کہا۔ لیکن اس وقت جب انہیں لابی میں موجود پایا تو حیرت سے ساکت اور جامد ہو گیا۔ ایسے تپاک سے ملے کہ میں کچھ کہہ نہ سکا۔ وہ مجھے اپنے ساتھ ایک کیفے میں لے گئے جہاں ارادہ تو آدھ پون گھنٹہ بیٹھنے کا تھا لیکن ڈیڑھ گھنٹہ نشست رہی۔ لوگ آ کر ان سے ملتے رہے اور کہتے رہے ہم آپ کے فین ہیں اور وہ کہتے رہے شکریہ! لیکن میں اس وقت ان کو وقت دینا چاہتا ہوں جن کا میں فین ہوں۔ فیس بک پر میرے اشعار پڑھتے ہیں اور حافظہ ایسا کہ وہ شعر بھی سنائے جو میں خود بھول چکا تھا۔ سیاست، شاعری، تاریخ سمیت بہت سے موضوعات پر گرفت رکھتے ہیں۔
سات بجے کے قریب مجھے اوراس شام کی خوبصورت یاد گیسٹ ہاؤس چھوڑ گئے۔
پھر تمام شعرا کے ساتھ دو روزہ جشن کے اختتامی مرحلے کے لئے سکاؤٹس آڈیٹوریم پہنچے تو میر احمد ناوید اور کاشف حسین غائر سے ملاقات ہوئی ۔ درویشی اگردیکھنی ہے تو ان دونوں سے ضرور مل لیجئے۔ ایسا انکسار، ایسی محبت۔۔
وہیں شاہزیب خان سے بھی ملا۔
تقریب کے دوران ہی نکلنا پڑا کہ اگلے دن گھر موجودگی ضروری تھی۔ قسیم زیدی، حمزہ ، شہباز نیر وغیرہ باہر تک چھوڑنے آئے۔
خیر اتوار کی صبح جب گھر پہنچا تو سامان کے علاوہ دو یادگار دن، اوقات سے زیادہ محبت، بہت سی کتابیں اور ایک گفٹ پیک ساتھ تھا جس میں ایک کارڈ پر لکھا تھا ”پیارے بھتیجے کے لئے، کراچی والے چاچو کی طرف سے“

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے