منطق الطیرجدید

مستنصر حسین تارڑ کا نیا ناول

مستنصر حسین تارڑ کا نیا ناول ”منطق الطیر جدید“

تبصرہ: احمد خیال

خواجہ فریدالدین عطارنیشا پوری کی مثنوی ”منطق الطیر“مستنصر حسین تارڑ کے حواس پر ایسے چھائی کہ اُن کے ناولز ہوں یا حقیقی زندگی، پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ اور چہکار گونجتی سنائی دیتی ہے،تارڑ کے ناولز میں موجود پرندوں سے تو آپ یقیناً آگاہ ہوں گے، حقیقی زندگی میں اُن کے گھر میں موجود طائران خوش نوا اور باغ جناح کے گھنے جھنڈ میں اُن سے ہمکلام ہوتے ایک اجنبی پرندے کا تذکرہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا، انہیں یقین ہے کہ کائناتی بھیدوں کے پردے چاک کرتی سائنس ایک دن ضرور اس مقام پر پہنچے گی جہاں پرندوں اور جانوروں کی زبان کو ڈی کوڈ کیا جا سکے گا، اُن کے روحانی گُرو فریدالدین عطار کی مثنوی”منطق الطیر“کے پرندے جو سیمرغ کی تلاش میں سات وادیوں سے گزرتے ہوئے عرفان ذات کا ادراک حاصل کرتے ہیں فارسی کا ایک شاہکار ادب پارہ ہے، فریدالدین عطار نے پرندوں کی زبانی تصوفانہ روایات، واقعات اور تماثیل کو ایسے انداز میں بیان کیا ہے جس نے منطق الطیر کو ایک ماسٹر پیس بنا دیا، مستنصر حسین تارڑ جو ایک عرصے سےاپنے روحانی مرشد کی اس باکمال تخلیق کے سحر میں گرفتار چلے آ رہے تھے منطق الطیر جدید کی صورت میں ایک ناول لکھ کر اپنے قارئین کو حیرت زدہ کر دیا، مختلف وقتوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے سات پرندے اُڑتے ہیں اور جہلم سے بیس کلو میٹر دور سطح زمین سے 3200 فُٹ بلند چوٹی ٹلہ جوگیاں آن اُترتے ہیں،وہی ٹلہ جوگیاں جسے آج سے تقریباً 2000 سال قبل ایک جوگی گورکھ ناتھ نے آباد کیا تھا،جہاں سیالکوٹی شہزادے پُورَن بھگت نے دھونی رمائی،جہاں سنسکرت زبان کا عظیم ماہر لسانیات، فلسفی اور شاعر بھرتری ہری ایک عرصے تک موجود رہا، جہاں گرو نانک نے چھ ماہ عالم استغراق میں گزارے،جہاں رانجھے نے اپنے کان چھدواتے ہوۓ ہیر کے عشق میں جوگ لیا، وہی ٹلہ جوگیاں، ناول کے مطابق ایک پرندہ کوہ طُور کی جلی ہوئی جھاڑی سے نکلتا ہے، ایک غار حرا کے نور بھرے شگافوں سےاُڑتا ہے، ایک عیسٰی علیہ السلام کی صلیب کی درزوں سے پر پھڑاتا ہوا نمو دار ہوتا ہے، ایک زرتشت کے آتش کدے کی بُجھی ہوئی راکھ سے، ایک فرات کے پانی میں تیرتی منصور حلاج کے بدن کی راکھ سے جنم لیتا ہے، ایک پرندہ ایران کی بے مثال شاعرہ اور بہائی(بابی) مذہب کی مبلغہ قراہ العین طاہرہ کی قتل گاہ(نگارستان کا کنواں، جہاں انہیں سزا کے طور پر دھکیل کر کنویں کو پتھروں سے پاٹ دیا گیا تھا) سے اَڑان بھرتا ہے اور ایک پرندہ جو مہاتما بدھ کے فاقہ زدہ بدن سے نمودار ہوا تھا دیگر پرندوں کی اڑان کے الہام کے بعد ٹلہ جوگیاں کی سمت مائل بہ پرواز ہوتا ہے،وہاں کچھ اور مقامی پرندے بھی پہنچتے ہیں، کرشن کی بانسری سے نکلا ہوا پرندہ، ہیر، سوہنی اور صاحباں کے پرندے، یہاں مستنصر حسین تارڑ ناول کے انسانی کردار موسی حسین،مختلف مذاہب اور ان کی اساطیر کے علم،تاریخ کے بھر پور مطالعہ، عشق کے گھاٹ اترتے سر پھروں اور مجذوبوں کے لہو میں جلتے جستجو و طلب کے چراغوں سے آگاہی اور اپنے جاندار و منفرد اسلوب کے ذریعے سے فنی نقطہ کمال کو چُھوتے دکھائی دیتے ہیں، کوہ طُور کی جھاڑی، عیسی کی صلیب اور غار حرا سے اُڑاے گئے پرندے سامی مذاہب کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ زرتشت، مہاتما بدھ اور کرشن سے منسوب پرندے غیر سامی مذاہب کے نمائندہ ہیں، منصور حلاج اور قراہ العین طاہرہ کے پرندے جُداگانہ نظریات اور جَرات-اظہار کی علامت ہیں، ہیر، سوہنی اور مہینوال کے پرندے جن کے پروں پرعشق مجازی کے رنگوں کی دھاریاں ہیں اپنی منقاروں سے سُریلے گیت بکھیرتے دکھائی پڑتے ہیں،ناول کے مطالعہ کے بعد بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت،ایک دوسرے کے نظریات کا احترام، سوال اٹھانے والوں کی جرات مستانہ کو خراج-تحسین اورعشق کے آتش کدے کی راکھ بن جانے والوں کے حوالے سے ہمدردی جیسے جذبات کا قاری کے دل میں اُبھرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، مستنصر حسین تارڑ اپنی قوت-متخیلہ اور طبع صد رنگ کے سہارے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگرمختلف وقتوں سے آۓ ہوۓ رنگ رنگ کے ان پرندوں کا باہمی اختلاط ہو جائے تو ان کے بچے کیسے ہوں گے؟ ایک بڑے ادیب کا بڑا ناول صاحب مطالعہ قاری کے لیے جام جم سے کم نہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے