یہ بھٹو

محمد عثمان جامعی

یہ بھٹو
محمد عثمان جامعی


اتنے ہیں ستم اتنے مسئلے
کس کس پر شور مچائیں گے
ہے ظلم یہاں کوچہ کوچہ
کتنی آواز اٹھائیں گے
ہر گام ہے راج اندھیرے کا
تو کتنے دیپ جلائیں گے
توپوں بندوقوں والوں سے
لڑسکتے ہیں، لڑ پائیں گے؟
کیا بگڑا رائوانور کا
اب کس سے پنجہ لڑائیں گے
یہ پھنسے ہیں اتنے پھندوں میں
ڈرتے ہیں پھر پھنس جائیں گے
امید تو چھین چکے ہو تم
اُمید کہاں سے لائیں گے
بس اب یہ لگائیں گے نعرے
بس اب یہ تالی بجائیں گے

اس دیس کے ان داتا، مالک
مکار بھی اور زورآور بھی
دولت بھی ان کے ہاتھوں میں
قانون بھی اور مقدر بھی
وہ یک جاں اور منظم بھی
سفاک بھی اور طاقت ور بھی

جن کو تم ”بھٹو“ کہتے ہو
کیا ان سے لڑنے آئیں گے؟
اتنا دم چھوڑا ہے تم نے
کہ وہ میدان سجائیں گے؟

جیسا تیسا اک بھٹو تھا
پھندے پر جس کو وار دیا
اور بچاکھچا بھٹو تم نے
خود اپنے ہاتھوں مار دیا

اب سائیں تمہارے یہ بھٹو
کیا جاں دیں گے اور سر دیں گے
خود کو منوانے نکلیں گے؟
یہ جان گنوانے نکلیں گے

گھر گھر سے بھٹو نکلے بھی تو کتنے بھٹو نکلیں گے
گر سارے بھٹو نکلے بھی تو نکل کے بھی کیا کرلیں گے

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے