میڈیا بحران اور کارکن صحافیوں کی برطرفیاں

دوسروں کو انصاف دلانے والے خود انصاف سے محروم کیوں؟

”اخباری بونے“| عابدعبداللہ


خار زار صحافت میں گزارے چھبیس ستائیس سالوں کے دوران ملک کے اس چوتھے ستون کو کبھی قوت گویائی سے محروم دیکھا تو کبھی پابند سلاسل پایا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بھی جس طرح صحافت اور صحافیوں کے لیے زمین تنگ اور حالات کو مشکل بنایا جا رہا ہے اسے دیکھ کر اردو کے ممتاز اور بے مثال شاعر فیض احمد فیض کا یہ مصرعہ بے اختیار یاد آگیا کہ ”کوئے دار سے نکلے تو سوئے دار چلے“ مگر یہ بھی محض لبوں پر ہی آکر رہ گیا کیونکہ پاکستان کی اکہتر سالہ تاریخ میں صحافت کبھی ”کوئے یار“ تو رہی نہیں البتہ ”سوئے دار“ کے مراحل سے بے شمار بار گزری۔
صحافت اور صحافیوں کو کچلنے میں کسر کسی آمر نے چھوڑی نہ کسی عوامی رہنما نے لیکن پاکستان تحریک انصاف، جس کے کشکول کو کامیابی و کامرانی سے بھرنے میں صحافت اور صحافیوں کا کردار کسی بھی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، نے تو جیسے تمام حدیں ہی پھلانگ لی ہیں۔
عمران خان نے وزیراعظم کا حلف اٹھاتے ہی میڈیا کے لیے اپنی دوغلی پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا اور اسے ایسے خوبصورت انداز میں آگے بڑھایا کہ ابتدا میں بہ ظاہر یوں محسوس ہوا کہ ان سے بڑھ کر میڈیا کا درد بانٹنے والا کوئی اور ہے ہی نہیں۔
مثلاً ایک جانب محترم وزیراعظم اے پی این ایس، سی پی این ای اور پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے وفد کو حکومتی تعاون اور صحافیوں کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانی کرا رہے تھے اور دوسری جانب نوائے وقت گروپ کا ”وقت ٹی وی چینل“ بند اور اس کے سینکڑوں کارکن بے روزگار ہو رہے تھے۔ الزام حکومت وقت کے سر آیا کہ سرکاری اشتہارات کے کوٹے میں کمی اور سرکاری واجبات کی عدم فراہمی سے ادارہ مالی دباؤ کا شکار تھا جس کی وجہ سے اسے مزید چلانا ممکن نہ رہا تھا۔
”وقت ٹی وی“کے ساتھ ہی جیسے بے روزگاری اور بندشوں کی ہوا چل پڑی۔ دیکھتے ہی دیکھتے مختلف اداروں سے تین ہزار کے لگ بھگ اخباری کارکن فارغ اور کئی میڈیا ہاؤسز بند کر دیے گئے۔
بے روزگار ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد روزنامہ جنگ اور اس کے ذیلی اداروں کے کارکنوں کی تھی جس نے ایک تیر سے دو شکار کیے اور اپنے وہ اخبار بند کیے جو کسی نہ کسی طور نقصان میں جا رہے تھے اور ایسے کارکن فارغ کیے جو بہ ظاہر عضو معطل تھے لیکن اس بار بھی حکومت کو ہی مورد الزام ٹھہرایا گیا کہ اس کی ”صحافت دشمن“ پالیسیاں اس ”شٹ ڈاؤن“کا سبب بنی ہیں۔
پاکستان میں صحافت کے ساتھ اس ناروا سلوک کی داستان پرانی ہے۔ ستمبر 2017 میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
سی پی جے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے لیے جان کے خطرات میں کمی آئی ہے تاہم ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو اب بھی بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بعض مقتدر اداروں کی طرف سے موثر انداز میں رپورٹ کرنے پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں جب کہ سیلف سنسر شپ کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔
صحافتی برادری، کمیٹی کی رپورٹ کے مندرجات سے متفق تھی اور کئی سینیئر صحافیوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں۔
فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے ایک اہم عہدے دار کے خیال میں آنے والے دنوں میں پاکستانی صحافیوں پر مزید کڑا وقت آنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کمیٹی کی رپورٹ کے کئی نکات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے بقول ”ملک میں سیلف سنسر شپ اپنے عروج پر ہے لیکن کوئی اس کے لیے بولنے والا نہیں کیونکہ میڈیا گروپوں نے ایڈیٹرز کا شعبہ ختم کر دیا ہے۔ اب ایڈیٹر خود مالک یا اس کا بیٹا ہوتا ہے۔ صحافت میں سرمایہ دار طبقہ آگیا ہے۔ ملک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اس طرف اشارہ کر چکی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ایک منظم انداز میں اختلاف رائے اور تنقید کرنے والوں کو دبا رہی ہے۔ اگر صحافتی تنظیمیں آگے نہ بڑھیں تو پاکستان میں رہی سہی آزادی بھی ختم ہو جائے گی“
متعدد اینکر پرسنز بھی یہ سمجھتے ہیں کہ مقتدر اداروں پر تنقید کرنے والے اور جمہوریت کے حق میں بولنے والے صحافیوں کو ہدف بنایا جارہا ہے۔ جن صحافیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہیں اور جمہوریت کے حامی ہیں، ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ان کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے۔ انہیں ملک دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس سے اشتہار دینے والوں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ ان لوگوں کے پروگراموں کو اشتہار دیا تو کچھ طاقتور عناصر ناراض ہو جائیں گے۔
نئے چینلز کے لائسنس جاری کر کے ایسے لوگوں کو اس شعبے میں لایا جا رہا ہے، جو نظریاتی ہیں نہ پروفیشنل حالانکہ پیمرا کے اپنے قوانین کے مطابق مارکیٹ کی گنجائش کو دیکھ کر نئے چینلوں کی اجازت دی جاتی ہے لیکن یہاں نئے چینل اس لیے لائے جارہے ہیں تاکہ پرانے چینل یا اخبارات والے، جو نظریاتی ہیں یا جمہوریت پسند ہیں، انہیں تنہا کیا جائے۔ رپورٹرز کو بتایا جارہا ہے کہ کیا چھپے گا اور کیا نہیں چھپے گا تو اس میں شک نہیں کہ آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔
لیکن اس صورتِ حال کے ذمہ دار صرف طاقتور ملکی ادارے ہی نہیں بلکہ صحافتی تنظیمیں بھی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے ان میں بھی دھڑے بندیاں کرا دی ہیں اور ان میں مختلف مفادات کے لوگ آگئے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ تنظیمیں بھی فوراﹰ دباؤ میں آجاتی ہیں۔
پی ٹی آئی حکومت کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ اسے بہ طور خاص مسلط کیا گیا ہے چنانچہ جب اس کی طرف سے صحافت کے خلاف بعض اقدامات سامنے آئے تو اسے آڑے ہاتھوں لیا گیا اور کھل کر اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ ان فیصلوں کے پیچھے وہی قوتیں ہیں جو اسے بر سر اقتدار لائی ہیں۔
اخباری کارکنوں کی برطرفی یا بے روزگاری کوئی نیا مسئلہ نہیں کیونکہ ماضی میں یہ معاملات اکثر رونما ہوتے رہے ہیں لیکن موجودہ پس منظر میں ان کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی کہ ان بے روزگاروں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے پے در پے کئی ایسے اقدامات بھی سامنے آئے جن سے کھل کر یہ ظاہر ہونے لگا کہ یہ سب حکومت کی کسی سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے۔
کارکنوں کی برطرفی کے فوری بعد میڈیا کے سرکاری اشتہارات کے نرخوں میں انتہائی بے دردی سے کی جانے والی کٹوتی نے اس تاثر کو ہوا دی کہ یہ حکومت ہی ہے جو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا گلا گھونٹنا چاہتی ہے۔ اشتہارات کے ان نرخوں میں کمی کے خلاف ایک جانب عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا گیا تو دوسری جانب وفاقی وزارت اطلاعات سے مذاکرات کا ڈول بھی ڈالا گیا۔
پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن نے وزارت اطلاعات کو ایک خط بھی تحریر کیا جس میں شکوہ کیا گیا تھا کہ نرخوں میں یہ تبدیلی اس کی مشاورت سے کی جانی تھی لیکن فیصلے یک طرفہ طور پر کر لیے گئے۔ وزارت اطلاعات نے پہلے تو چپ سادھے رکھی لیکن جب سپریم کورٹ نے دو ہفتوں میں وزارت اطلاعات سے نرخوں کی تبدیلی پر رپورٹ طلب کر لی تو گویا وزیر اطلاعات بھی جاگ اٹھے۔
11 جنوری 2019 کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کی ایک ٹویٹ سامنے آئی
اس کے ساتھ ہی پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کا ایک مختصر بیانیہ بھی سامنے آیا جس کے مطابق وزیراطلاعات چوہدری فواد حسین کی ہدایت پر سیکرٹری اطلاعات شفقت جلیل نے کراچی میں پی بی اے کے عہدے داروں سے ملاقات کی اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے اشتہارات کے نرخوں کا معاملہ احسن انداز سے حل کر لیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ طے ہونے والی اشتہارات کے نرخوں کی نئی سلیبز سے حکومت کو 70 فیصد بچت ہو گی، اشہتارات کے سرکاری نرخوں کا اطلاق پیک آورز پر ہو گا جبکہ تمام وفاقی و صوبائی محکمے اور خود مختارادارے نرخوں کے اطلاق کے پابند ہوں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کی ٹویٹ کے مطابق اشتہارات کے نرخوں کے تعین سے میڈیا انڈسٹری کو فائدہ ہوگا، ان کے بقول اشتہارات کے سرکاری نرخوں کا تعین میڈیا کو مضبوط بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے اور حکومت میڈیا اور اظہاررائے کی آزادی کے لیے پرعزم ہے۔
اعلامیے کے مطابق مذاکرات میں پی بی اے کی نمائندگی چیئرمین شکیل مسعود، درید قریشی اور جنرل سیکرٹری سلطان علی لاکھانی نے کی۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پی ٹی آئی حکومت، میڈیا کو اپنی اپوزیشن جماعت سمجھتی ہے چنانچہ اس ٹویٹ اور اعلامیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنے ایک مخالف دھڑے کے ساتھ نمٹنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ یہ مذاکرات کن شرائط پر کامیاب ہوئے، فی الحال ان کی تفصیلات دستیاب نہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی سامنے آجائے گا کہ ان مذاکرات میں دباؤ کتنا تھا اور خیر سگالی کتنی۔
یہاں لگے ہاتھوں یہ تذکرہ بھی کر دیا جائے کہ الیکٹرانک میڈیا کا گلا صرف اشتہارات کے نرخ کم کرکے ہی نہیں گھونٹا گیا بلکہ بعض مصدقہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ کچھ مقتدر اور طاقتور حلقے پرائیویٹ اداروں پر دباؤ ڈال کر نجی میڈیا چینلز کو اشتہارات دینے سے روک رہے ہیں جس کا مقصد میڈیا کو گھٹنے ٹیکنے اور اسے صرف اور صرف اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے 2017 کی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی اس رپورٹ کو تقویت ملتی ہے کہ بعض مقتدر اداروں کی طرف سے موثر انداز میں رپورٹ کرنے پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں، سیلف سنسر شپ کا رجحان بڑھ رہا ہے اور پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں۔
پرنٹ میڈیا کی طرف نظر دوڑائیں تو وہاں کارکنوں کی برطرفیوں کے بعد کئی ایسے ”اخباری بونے“ پیدا ہو گئے ہیں جو ان بے روزگاروں کی مظلومیت کو اپنی لیڈری چمکانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے کم وبیش ہر شہر میں یہ نام نہاد لیڈر روزانہ گنتی کے چند لوگوں کو جمع کرکے احتجاج کے نام پر کتبے اور بینر لہراتے ہیں، اخبارات اور اشاعتی اداروں کے مالکان کو زیادتی کے نام پر مغلظات سے نوازتے ہیں اور بے روزگار کارکنوں کو طفل تسلیاں دیتے ہیں کہ اگر انہیں روزگار نہ ملا تو وہ اداروں کی تالہ بندیاں کر دیں گے لیکن ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ کسی ”اخباری بونے“ نے اب تک ایک بھی بے روزگار کارکن کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے اپنی ملازمت چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا۔
چند روز قبل ڈیوس روڈ لاہور پر برطرف صحافیوں اور کارکنوں نے احتجاج کیا۔ بے روزگار ہونے والے ایک کیمرہ مین نے پیٹرول چھڑک کر خود سوزی کی کوشش کی جسے ساتھیوں نے ناکام بنا دیا۔ اس موقع پر ایک ”اخباری بونے“نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا کہ میڈیا مالکان نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو وہ جان لیں کہ کارکنوں کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں لیکن تمہارا کچھ نہیں بچے گا۔
اس لہجے اور الفاظ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان نام نہاد لیڈروں کا مقصد شاید اپنے بے روزگار ساتھیوں کو روزگار دلانا نہیں بلکہ میڈیا مالکان کو اس امر پر مجبور کرنا ہے کہ اگر وہ کسی طرح روزگار کے کچھ مزید مواقع پیدا کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو ایسے لوگوں کو دوبارہ ملازمت نہ دیں جو ان کی عزتیں سربازار نیلام کرتے ہوں یا اپنا رزق کمانے کے بجائے ”صحافتی سیاست“کے لیے گھروں سے نکلتے ہوں۔
اب یہ فیصلہ بے روزگار ہونے والے ملازمین نے کرنا ہے کہ انہوں نے اپنے روزگار کے حصول کی جدوجہد کرنی ہے یا ایسے لوگوں کا ساتھ دینا ہے جو ان کے کندھوں پر سوار ہو کر محض اپنا قد اونچا کرنا چاہتے ہیں۔
گزشتہ دنوں الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن (ایمرا) کی جانب سے ایک اپیل سامنے آئی جس نے نہ صرف بہت سے سوالوں کو جنم دیا بلکہ یہ حقیقت بھی آشکار کر دی کہ خود صحافتی تنظیمیں بری طرح اختلافات اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
ایمرا کے صدر اور سیکرٹری کی جانب سے جاری ہونے والی اس اپیل میں کہا گیا تھا کہ تمام صحافتی دوستوں کو مل کر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کامیاب کرنا چاہیے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں لاہور پریس کلب، پی ایف یو جے اور پی یو جے سمیت تمام تنظیمیں اور ایسوسی ایشنز شامل ہیں۔
اپیل میں یاد دہانی کرائی گئی تھی کہ لاہور کے صحافیوں کی ساری قیادت مشترکہ طور پر صحافیوں کے مسائل اور ایشوز پر اکٹھی ہے، تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ چاہے اخبارات کے ایشوز ہوں یا الیکٹرانک میڈیا کے، یا پھر کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی ایشوز ہوں تو وہ فوری طور پر خود کوئی اقدام کرنے کے بجائے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو اطلاع کریں یا پھر درخواست جمع کرائیں تاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس پر فوری حکمت عملی تیار کرسکے۔
اپیل میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر ہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو مضبوط کریں گے تو ورکرز خود بھی مضبوط ہوں گے۔ اس وقت آپس کے لڑائی جھگڑوں کو چھوڑ کر ہمیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر صحافیوں کی جنگ لڑنی چاہیے۔ اپنی انا اور نفرت کو ختم کرکے اتفاق اور اتحاد پیدا کرنا ہوگا تاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی صورت میں ورکرز کی ایک مضبوط آواز صحافتی مالکان اور حکومتی ایوانوں میں جا سکے۔
صحافیوں کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ دوسروں کو انصاف دلانے کی آواز بلند کرتے ہیں اور اس سے کسی کو انکار بھی نہیں لیکن اس اپیل کی روشنی میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ دوسروں کو انصاف دلانے والے خود انصاف سے محروم کيوں ہیں۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی سامنے آتی ہے کہ اخباری کارکنوں کے خود ساختہ لیڈروں اور صحافت کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اب اپنے مفادات کی جنگ شروع کر دی ہے ورنہ لاہور کی ایک تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کی موجودگی میں صحافتی برادری کے ایک ‘معزز رہنما’ اپنے خطاب میں ایک مخصوص ٹی وی چینل کے مالک کے بارے میں ہرزہ سرائی کبھی نہ کرتے حالانکہ اس ٹی وی چینل سے کسی ایک کارکن کو بھی برطرف نہیں کیا گیا۔
تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر مالی طور پر بے حد مستحکم میڈیا ہاؤسز میں بھی معمول کا عمل ہے چنانچہ ایسے میں ایک مخصوص ٹی وی چینل کے مالک کو ہدف تنقید بنانا کسی طور پر مستحسن فعل نہیں تھا کیونکہ اس چینل سے کسی کو بے روزگار نہیں کیا گیا۔
صحافتی اداروں سے چھانٹیوں اور جبری برطرفیوں کے خلاف احتجاج اچھا عمل ہے لیکن یہ احتجاج میڈیا ہاؤسز کے سامنے ہی کیوں، برطرفیوں کی آڑ میں اپنا قد بڑھانے والے ”اخباری بونے“ اسمبلی ہال کیوں نہیں جاتے کیونکہ اخباری کارکنوں پر ظلم کرنے والے وہیں بیٹھے ہیں اور ظالم کو اس کے سامنے ظالم کہنا اور اس کے مقابل حق و انصاف کی آواز بلند کرنا ہی احسن عمل ہے۔ صحافی بھائیوں اور اخباری کارکنوں سے گزارش ہے کہ خود کو مظلوم ظاہر کرنے کے بجائے اپنے حقوق کے حصول کے لیے ڈٹ جائیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں مظلوم کا ساتھ دینے کے بجائے اسے مزید تختہ مشق بنانے کی رسم عام ہے اور یہی رسم ”اخباری بونوں“ کی پیدائش اور افزائش کا باعث بھی بنی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے