’دانشور‘بچے اور شہرت کا چسکا

تحریر| فرحان احمد خان

’دانشور‘بچے اور شہرت کا چسکا


تحریر| فرحان احمد خان


کچھ عرصے سے محسوس کر رہا ہوں کہ لوگ اپنے بچوں کی خاص انداز میں فیس بک اور یو ٹیوب پر مارکیٹنگ کرنے لگے ہیں ۔ اب تو یہ باقاعدہ مقابلہ سا بنتاجا رہا ہے ۔ بچوں کے فیس بک پیج اور یوٹیوپ چینل بنا کر انہیں پیسے لگا کر مشہور کیا جا رہا ہے۔ یہ اچھا رجحان نہیں ہے ۔ سرمائے کی بے رحم منڈیوں میں اُجلے دماغوں والے ان معصوموں کی بولی نہیں لگنی چاہیے۔

ذہین بچے قدرت کا تحفہ ہیں لیکن انہیں ’دانش ور‘ باور کروانے کے لیے مارکیٹ میں پھینکنا ان کے ساتھ ظلم ہے ۔ شخصیت کی تعمیر میں تدریجی ارتقاء کی اپنی خاص اہمیت ہے ۔ چھوٹے بچے کو ’’بڑی بڑی باتیں‘‘ زبانی یاد کروا دینا اور کیمرے کے سامنے وہ آموختہ دہرانے کی مشق کروا دینا دراصل اس کے بے ساختہ پن کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ ان بچوں کی ویڈیوز اور باتیں سُن کرمجھے اُن پر ترس اور ان کے والدین پر غصہ آتا ہے۔ ان کو وہ باتیں سکھائی جا رہی ہیں جو کسی اور کے نتائجِ فکر ہیں ۔ ضروری نہیں کہ وہ ٹھیک بھی ہوں۔

اگر بچہ آزادانہ طور پر چیزوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کرے گا ، مرضی کے کھیل کا انتخاب کرے گا ، چھوٹے چھوٹے ایڈونچر کرے گا ، اپنے ہم عمروں کے ساتھ وقت گزارے گا تو ان کا انداز فکر اورلائف اسٹائل جینوئن ہوگا ۔ اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر اس کی جو رائے بنے گی ، وہ اسی کی ہوگی ، خالص ہوگی ۔ایک اور نقصان یہ ہے کہ بچے کو اس کی فطری معصومیت ، بولنے کی صلاحیت اور اچھی یادداشت کی بنیاد پر مسلسل سراہے جانے کی وجہ سے یہ احساس بھی لاحق ہو سکتا ہے کہ ’’میں واقعی کچھ بن چکا ہوں‘‘ اور یہ ذہن میں آتے ہی اس کی سوچ وفکر کا ارتقاء رُک جائے گا۔

ایسی کئی مثالیں ہم اپنے ارد گرد دیکھ چکے ہیں ۔ ہمارے بچپن میں پی ٹی وی پر ایک پروگرام نشر ہوتا تھا۔ اس میں کچھ بچے بھی ہوتے تھے ۔ ہم اس وقت رشک کرتے تھے کہ یہ بچے کتنے خوش قسمت ہیں کہ روز ٹی وی پر آتے ہیں ۔ پھر بیس بائیس برس بعد انہی میں سے ایک کو لاہور میں خوار پھرتے دیکھا ۔ اس نے اپنا وزیٹنگ کارڈ بنوا رکھا تھا ، جو اس نے مجھے دیا لیکن اس بے چارے کے پلے کچھ بھی نہیں تھا ۔ کارڈ پر اس نے وہی پی ٹی وی والا تعارف لکھا ہوا تھا۔ اس وقت بھی میں نے سوچا کہ ابتدائی عمر کی مصنوعی سی شہرت بچے کی شخصیت کو کس طرح تباہ کر سکتی ہے۔

اگر بچے اپنی سوچ وفکر کے مطابق کچھ دلچسپ چیزیں ایکسپلور کر رہے ہیں ۔ وہ پوری آزادی کے ساتھ آئیڈیاز کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔ کوئی تخلیقی کام کرتے ہیں تو ان کو ضرور سراہنا چاہیے ۔ انہیں اپنی ذہنی و جسمانی صلاحتیوں کے بھرپور استعمال کے مواقع فراہم کرنے چاہییں لیکن کنٹرولڈ اسٹائل میں انہیں چیزیں رٹوا کر ان کی ویڈیوز بنانا اور پھر مارکیٹ میں پھینک دینا زیادتی ہے ۔ ایسے والدین کو ٹھنڈے دماغ سے سوچنا چاہیے کہ وہ ننھے منے بچوں کو ’دانشور‘ پورٹریٹ کروا کے آیا ان کے ساتھ بھلائی کر رہے ہیں یا ان کی شخصیت مسخ کر رہے ہیں۔ میڈیا ایک بے رحم انڈسٹری ہے ۔ وہ ہر انوکھی چیز کوجنسِ بازار بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ جدید میڈیا کا مقصد ناظرین کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ رکھنا ہوتا ہے ۔ بچے مَن کے سچے ہی رہنے چاہییں، انہیں شہرت کی منڈی کی جنس بنا کر برباد نہ کریں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے