زراعت میں نجات

کالم: امتیاز احمد شاد


زراعت میں نجات

پاکستان میں زراعت کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے جس کی تقویت سے اقتصادیات مضبوط جبکہ انحطاط سے معاشی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ زراعت پر جہاں دو تہائی آبادی کا براہ راست انحصار ہے وہاں بڑی بڑی صنعتوں کا دارو مدار بھی زرعی شعبہ پر ہے جبکہ غیر ملکی زرمبادلہ کا بیشتر حصہ بھی بلاواسطہ یا بالواسطہ اسی شعبہ سے حاصل ہوتا ہے ان زمینی حقائق کے پیش نظر ارباب حل و عقد بالخصوص اکنامک مینجرز کو ملکی ضروریات کی فراہمی اور غیر ملکی احتیاج سے نجات کی خاطر پوری سنجیدگی سے اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ اگر یہ شعبہ سال بہ سال ترقی کی مطلوبہ شرح کی بجائے روبہ زوال ہے تو اس کے دوررس منفی اثرات سے بچنے کیلئے جن ٹھوس تدابیر کی ضرورت ہے ان کو ترجیحی بنیادوں پر پختہ عزم کے ساتھ رو بہ عمل لایا جائے۔ ظاہر ہے زرعی شعبہ کے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے جہاں دیہات میں خوشحالی کا دور دورہ نظر آئیگا وہاں ٹیکسٹائل ، رائس شیلرز، شوگر، آئل ، فلور ملز اور لیدر جیسی صنعتوں کا پہیہ سارا سال رواں دواں رکھنے میں مدد ملے گی۔ زرعی خام مال کو مشینری سے گزار کر قیمتی اشیا میں تبدیل کرنے سے در آمدات میں کمی اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ سے غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدن کو بڑھاواملتا ہے دوسری طرف زراعت کے انحطاط پذیر ہونے پر اس کا منفی پہلو بھی پوری شدت سے سامنے آتا ہے۔ دیہی آبادی میں مالی بدحالی کے نتیجہ میں مایوسی پیدا ہونے سے آبادی کے شہروں میں منتقل ہونے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے جس سے وہاں پر انتظامی سماجی اور معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ زرعی پیداوار کے بحران کا شکار ہونے پر صرف صنعتوں کی پیداواری صلاحیت ہی متاثر نہیں ہوتی شہروں میں تجارتی سرگرمیاں بھی ماند پڑ جاتی ہیں۔بدقسمتی سے ملک کے بیشتر حصوں میںمعشیت کی انتہائی منفی اور ناخوشگوار صورتحال کارفرما ہے۔ پاکستان کی بڑی فصلیں سنگین بحران سے دوچار ہیں ان کی پیدواری لاگت میں اضافہ، پیداوار میں کمی اور قیمت میں اتنی گراوٹ آچکی ہے کہ کسان اگلی فصل کی کاشت کے تقاضے پورا کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور بہت سے یہ آبائی پیشہ ترک کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جبکہ کوئی متبادل روزگار بھی دسترس میں نظر نہیں آرہا۔تحریک انصاف کی حکومت پر لوگوں کی بہت امیدیں تھیں ۔عمران خان کو عوام اپنی آخری امید کے طور پر سامنے لائے مگر ان پانچ ماہ میں ملک کی معیشت کا جو نقشہ سامنے آرہا ہے وہ انتہائی تاریک مستقبل کا آئینہ دار لگتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کسان گنا لے کر سڑکوں پر ہے، ملز مالکان خریدنے سے انکاری ہیں، دیگر فصلیں اونے پونے بیچ کر کسان اپنے بچوں کا بمشکل پیٹ پالنے پر مجبور ہے، دوسری جانب حکومت نے درخت لگانے کی مہم جاری کر رکھی ہے جبکہ کسان اگلی فصل بونے کے لیئے درخت اور جانور فروخت کر کے بیج اور کھاد خریدنے پر مجبور ہیں۔ موجودہ تشویش ناک حالات برقرار رہنے کی صورت میں 65/70فیصد دیہی آبادی کا 90فیصد حصہ شدید مالی بد حالی کا شکار ہونے کے باعث دیوالیہ پن کے قریب پہنچ جائے گا جس کے دوررس سماجی انتظامی اور سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔ہمارے ملک میں زراعت کا ایک بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ اس شعبہ کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تحقیق کے پہلو کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر متعدد ممالک نے جہاں زیادہ پیداوار دینے والے بیج تیار کئے وہاں پیداواری لاگت میں نمایاں کمی کے طریقے دریافت کرنے پر فوری توجہ دی۔ پھر اس تحقیق کے ثمرات سے بہرہ ور ہونے کیلئے کسانوں کو اس کی مکمل آگاہی دینے کے ساتھ بیج کھاد پانی ادویہ جیسی ضروریات کی بآسانی فراہمی کو بھی یقینی بنایا۔ اس طرح امریکہ و یورپ ہی نہیں مشرق وسطی جنوبی ایشیا اورمشرق بعید کے ممالک نے بھی کسان کی انفرادی اور ملک کی مجموعی آمدن میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ ہماری سرحد کے اس پار بھارت بیجوں، کھاد، بجلی اور ادویہ کی ارزاں نرخوں پر فراہمی سے نہ صرف خوفناک قحط کی صورت حال سے نکل چکا ہے بلکہ عالمی منڈی میں مقابلہ کی بہتر پوزیشن میں ہونے کی وجہ سے اس کی برآمدی اجناس بھاری زرمبادلہ حاصل کر رہی ہیں۔ جبکہ ہم جو کبھی کپاس اور چاول جیسی فصلوں کی برآمد کے سلسلے میں عالمی منڈی میں ممتاز مقام رکھتے تھے بین الاقوامی مارکیٹ سے باہر ہو چکے ہیں اور پیاز ٹماٹر جیسی سبزیاں بھارت سے در آمد کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں نہ ہی اپنی کوتاہیوں کے ازالے کیلئے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔وطن عزیز معاشی مشکلات اور قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے عالمی اداروں اور بعض حکومتوں کے سخت دباو¿ میں ہے جس سے نجات کیلئے لازم ہے کہ زراعت کی بحالی و ترقی کیلئے ہنگامی منصوبہ پر کام کیا جائے۔ تحقیقی اداروں کو پوری طرح فعال کر کے چاول گندم کپاس گنا چارہ سبزیوں کے بیج اور پیداواری لاگت کم کرنے کے طریقے دریافت کرنے کا ٹاسک دیا جائے اور مکمل وسائل مہیا کئے جائیں۔اس طرح ایک طرف ہم غذائی خود کفالت حاصل کرنے کے ساتھ عالمی منڈی میں مقابلہ کی بہتر پوزیشن میں آنے پر چاول کپاس گندم اور پھلوں سے بھاری زرمبادلہ بھی حاصل کر سکیں گے تو دوسری طرف خام مال ارزانی و فراوانی سے میسر آنے پر صنعتیں سارا سال چلتی رہنے سے برآمدات کے علاوہ روزگار کے مواقع میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا جو قرضوں کی لعنت اور عالمی اداروں کی کڑی شرائط سے نجات اور عالمی برادری میں باوقار اور خوشحال قوم کے طور پر اپنا مقام بنانے کا باعث بنے گا۔بھارت اپنے ملک کی کل آمدنی کا 2.5فیصد جبکہ پاکستان اپنی ملک کی کل آمدنی کا 0.4فیصد زراعت پر خرچ کر رہا ہے جو بھارت سے 7گنا کم ہے۔ بھارت اپنے کسانوں کو 40ارب ڈالر کی سبسڈی دے رہا ہے،وہاں ڈی اے پی کھادکی قیمت 1100روپے ہے جبکہ پاکستان میں 3700روپے کے لگ بھگ ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں زراعت کیلئے بجلی، کھاد، بیج بہت مہنگے ہیں اور اس پر باالوسطہ طور پر بہت زیادہ ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے کسان اور زمیندار پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔ پاکستان میں زراعت کی طرف توجہ نہ دینے کی صورت میں زرعی زمینیں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں اور پاکستان کے تمام شہروں میں پراپرٹی کی قیمتوں میں انتہائی اضافہ ہوا ہے کیونکہ پاکستان کے کسانوں کو زراعت میں کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی زمینوں کو پراپرٹی کے بزنس میں تبدیل کر رہے ہیں پاکستان کے 60فیصد پارلیمنٹیرینز کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے مگر بدقسمتی سے یہی قانون ساز دیہی علاقوں اور زراعت سے وابستہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر رہے ہیں۔
حکومت کو چاہئے کہ وہ کسانوں کو سبسڈائزڈ ریٹس پر کھاد اور دوسری ضروری اشیاءمہیا کرے اور بجلی، تیل اور ٹریکٹر کی قیمتوں میں کمی کرے تاکہ زراعت سے وابستہ لوگ اس پیشے اور صنعت سے نہ بھاگیں اور اپنی زمینوں کو پلازوں اور پلاٹوں میں تبدیل کرنے سے باز رہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے