کمراٹ۔کوہِ ہندوکش کا جھومر

جہاں گرد:عرفان شہود

کمراٹ جہاں فطرت انسان سے کلام کرتی ہے

جہاں گرد| عرفان شہود

دراز قد پائن کی گوریاں اپنے سروں پر حیادار چھتریاں سجائے ہلکورے کھاتے پنجگوڑہ کے کنارے سیاحوں کو خوش آمدید کہتی ہیں۔صنوبر اور دیودار اپنے مہکتے بدن سے کوہستان کے جنگلات میں گہری سبز خوشبو بکھیرتے جاتے ہیں۔چہار سمت بڑھتے اور پھیلتے پربتوں پر نوری پرندہ اپنے سفید پروں کو لامتناہی انداز میں کھولتا ہے اور قادر سائیں ہمارے سِروں پر جمالیات کا ہُما بٹھاتا ہے۔زندگی جیسے سخت ہچکولے کھاتے راستوں کے پتھروں پر ہمارے جِسم تھک چکے تھے۔مگر کمراٹ کے پہلے ہی لمس کو چکھنے کے بعد ہم پر جیسے تازگی اور جوش کا چھڑکاؤ کر دیا گیا ہو اور بہار کی تتلیوں کے رنگ ہماری آنکھوں کے پردے میں سما گئے ہوں۔کمراٹ میں آسودگی اور خوبصورتی کی علامتوں کا وسیع نظام موجود ہے۔ایک ایسی متنوع وادی جو قدم قدم پر اپنے اشجار کے بدلتے لباس اور سطح زمین کے راحت آمیز گھاس کے شیڈز کو دلکش بناتی جاتی ہے۔سنتری اور کہیں نارنگی عکس نمایاں ہیں۔چراگاہوں کی سبز گھاس تو تلمبہ کی گائیوں کے سپنوں کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔آنکھوں کے کیمرے زوم اِن کرتے ہی تھل کی کئی رنگدار ندیاں ہمارے جسموں کے پانیوں میں اُترنے لگیں تھیں۔اور ہم باسی زہنیت کو پوّتر فضاوں میں تروتازہ کرنے لگتے ہیں۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر فلاحِ انسانیت کے لیے اتارے گئے تھے تو کیا یہ فطرت کا حُسن بھی کوئی پیغمبر ہو سکتا ہے؟ جو مخصوص انسانوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔میں نے اپنے دل میں رب سے سوال پوچھا؟

اپر دیر سے چار گھنٹے کی مسافت پر شاداب کمراٹ ویلی ہمیں قلعہ موج گڑھ کے ریتلے ٹِیلوں سے اُٹھا کر اپنے پاس ُبلاتی ہے۔فطرت سرکش و بے باک روحوں کو لذتِ دیدار سے نوازتی ہے۔مجھ ایسے بے ہنر کو دو ہنرمند احباب کی رفاقت حاصل تھی۔سعید سادھو جو کفِ زیست میں بھانت بھانت کی بولیاں سجائے ہمارے دِلوں کو تسخیر کرتا رہتا اور ثمینہ تبسم جو فطرت کی حضوری کی معراج حاصل کرنے کو عجز و مُراد کا بُت بنی خاموش موجِ نسیم کے سنگ اُڑتی چلی جاتی۔شورشِ مال و زر میں محتاجِ نوائے فطرت ہونا بھی کتنا دلچسپ ہے۔

دِیر بالا کی یہ وادی سطح سمندر سے تقریبا 5890 فٹ بلند کوہِ ہندوکش کے دامن میں آباد ہے۔کمراٹ نام سنتے ہی مردانہ وجاہت کا احساس ہوتا ہے۔مگر یہ وادی نرم و نازک احساسِ جمال رکھتی ہے۔منحنی سی یہ وادی اپنے اندر رس بھری آبشاریں اور زندگی سے بھری ندیاں سموئے ہوئے ہیں۔تھل جو کمراٹ کے وسط میں آباد گاوں ہے اِس میں داخل ہوتے ہی چار صدیاں قدیم مسجد دارالاسلام ہمیں اپنی محبت میں گرفتار کرتی ہے۔اس پر تاریخی طور پر تو 1953 کی ایک تختی لگی ہوئی ہے۔مگر اِس کے پرہبت ستون اور رنگ دار لکڑی کی دیواریں صدیوں کی داستانیں سناتی ہیں۔اس کے شہتیر اتنے بڑے ہیں کہ باآسانی ایک پُل بنایا جا سکتا ہے۔اس مسجد کے نقش و نگار اور تزئین و آرائش سے کوہستانی باشندوں کی زیبائی کی توصیف کرنے کو دل کرتا ہے۔بہتے دریا کے تیز رو پانی کی جھنکار اور سفید برف پوش پربتوں کے درمیان یہ شہکار دیدہ زیب بھی ہے اور دل پزیر بھی۔
جامع مسجد دارالسلام دیر کوہستان کی سب سے آخری گاوں تھل میں واقع ہے۔اس مسجد کے دو حصے ہیں، بالائی منزل جستی چادروں سے 1999ء میں تعمیر کی گئی ہے۔جب کہ زیریں حصہ 1865ء میں تعمیر کیاگیا ہے ـ
مسجد کے ساتھ ہی لکڑی سے بنائی گئی نہروں میں پانیوں کی لمبی قطاریں بہتی چلی جاتی ہیں۔شگفتگی کے نظارے باہم جلوہ گر ہوتے ہیں۔
لکڑی کے بنے پُل کے اُس پار پتھروں کے پیچ و خم سے پرے اس وادی کی تابناکی کا نیا دریچہ کُھلتا ہے۔درختوں کی شاخوں پر سپید موتی جھولتے ہیں۔برف باری ہوتی ہے۔اور ان پیڑوں پر بوندوں کی گونج ہمارے کانوں میں اوکتاویو پاز کی نظموں کی صورت سنائی دیتی ہے۔چشمہ آبِ حیات نکلتا ہے۔بقا کے سلسلے کٹورہ جھیل سے جا ملتے ہیں۔اور جہاز بانڈہ کے سفید درشن کرنے کے بعد تو سُدھ بدھ ہی نہ رہی گویا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اتنی غضب ناکی شاید ہی کسی حسین چیز میں ہو جتنی کمراٹ کے وجود کی ہے۔بہشتِ دوام کی عملی صورت گری اسی وادی میں ہے۔نظامِ ہست و بود میں نغمہِ شوخ و شنگ اسی آغوش سے پھوٹتا ہے۔شفاف پانیوں کے تار رباب کے سازوں پر بجتے ہیں ۔نغمہِ نکہت و رعنائی چھیڑا جاتا ہے۔اور انسانی دلوں کے مندر سے سیاہ ناگ نکل جاتے ہیں ۔ایک وحشت کا فسوں طاری ہوتا ہے جو آگ اور نور کے فرق کو مٹا دیتا ہے۔
پیدل چلتے ہم تینوں نے الگ الگ پگڈنڈیوں پر چہل قدمی کی ٹھان لی ۔فطرت کی چلمن سرکتی ہے تو گداز رُتوں سے مخملیں فضا مہک مہک جاتی ہے۔برف کے فرشےسے میں لپٹ لپٹ جاتا اور اِن وسعتوں میں کہیں کھو جانا چاہتا تھا۔کیف کی یہ لذت فراہم کرنا تو کسی انسان کے بس میں ممکن ہی نہیں ۔ہم تینوں نے اس سندرتا کی پِینگ پر جی بھر کے جھولے لیے اور واپس آن پہنچے۔
ہمارے میزبان کاوش ہراج الپاوی کی آنکھوں میں نورانی چمک جاگ اُٹھتی ہے ۔وہ قدیم روایتوں کا پاسبان ہے۔وہ سرگوشیوں میں بھی مہمان نوازی کے آداب سے واقف ہے۔وہ ہمارے ایک ایک لمحے کو یادگار بنا دینا چاہتا ہے۔اس نے جنگلات کے بیچوں بیچ آگ جلانے اور لذیذ کھانے کا بندوبست کیا ہے۔اس نے محبت کا ایسا جنگل ہمارے دِلوں میں بویا کہ تاعمر جس کی گھنی چھاوں میں اسے یاد رکھا جاے گا۔
جل پریوں کے قافلے پرجوش اور شوخ پانیوں سے نکل کر کنارے پر آ جاتے ہیں۔غائب ہوتی عدم سے عظیم تخلیق کار کی شبہہ اُبھرتی ہے اور ہم اس حُسنِ فروزاں کی سرابی الجھنوں سے نکل کر نعرہِ مستانہ بلند کرتے ہیں۔سیمابی روح عنابی دریچے اور گلابی ماحول کی تازگی میں ایک شرابی لمحہ نمودار ہوتا ہے
ہمارے بند جسموں کے تابوت سے الستُ بربکم کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں ۔ہم بیک آواز کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم نے تجھے پہچان لیا۔ہم تیری ہر نعمت کو جھٹلاتے ہیں مگر آج تجھے پہچان لیا ۔
”جس نے خود کو پہچانا یقیناً اس نے اپنے رب کو پہچان لیا“۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے