قلعہ ہڑند کی خون آلود فصیل

جہاں گرد:عرفان شہود

قلعہ ہڑند کی خون آلود فصیل

جہاں گرد: عرفان شہود

قلعہ ہری نند کے بدن پر سنگ وخشت کا لباس اُدھڑ کر کسی فقیر کے جبہ کی مانند پھٹ چکا تھا۔معمار اپنے ہی ہاتھوں کو کوستے ہوں گے کہ تعمیر کردہ شہکار کتنے ہی بے رحم ہاتھوں سے خاک و خون میں ملیا میٹ ہوا ۔کتنے شہسوار اس قلعہ کی فصیل کے سائے میں کچھ دیر کو سستائے اور اگلے پڑاو کی جانب بڑھے۔کتنے جنگجوؤں نے اس شہکار عمارت کے مکینوں پر اپنی تیغ کے جوہر دِکھائے اور روانہ ہوئے۔ کبھی یہ قلعہ بھگوان اور خُدا کے معبدوں میں گِھرا رہا تو کبھی آتش پرستوں اور ملحدوں کے بیچ گنگناتا رہا مگر اب یہ حنوط شدہ نعش کی مانند ساکت اور بے جان ہے۔تمام سمتوں کی توانائی کے رنگ ماند پڑ چکے ہیں۔اُن معماروں کی ہنر مندی کا روغن اُتر چکا ہے۔اس عمارت کے کُھلے زخموں پر ہر گزرتا لمحہ نمک اور تمباکو بھرتا جاتا ہے۔اس کی پیشانی سے سندور مِٹ چکا ہے۔اس کی دیواریں بھی لہو رو رو کر اندھی ہو گئیں ۔اس کی چھتیں سر پِیٹ پِیٹ کر بے آسمان ہو گئیں۔اس کی اپاہج راہداریاں معذور ہو کر ٹوٹ گئیں۔اس کی سیڑھیاں اُکتاہٹ کا کفن پہنے کب کی سو چکی ہیں۔اس کے اصطبل کی کھُڑلیاں نحیف گھوڑوں کی طرح دم توڑنے پر آمادہ ہیں اور گِرنے والی ہیں ۔اس کا مرکزی دروازہ زمیں بوس ہونے سے پہلے آخری مرتبہ اُن پہلے ہاتھوں کو ملامت کرنا چاہتا ہے جنہوں نے اس قلعہ کی بنیاد رکھی۔وقت کی ہتھکڑیاں اس عمارت کو مسماری کے برزخ میں لے کر جا رہی تھیں کہ میری نگاہیں اس قیدی کی نگاہوں سے ٹکرائیں تو اس کا پورا وجود کسی چشمے کی مانند اُبل پڑا اور عہد رفتہ کی داستان سنانے لگا۔

کوہِ سلیمان کے سائے پھیلتے ہوئے گورچانی قبیلے کی بستیوں کو ڈھانپتے جاتے تھے۔
راجن پور سے تقریبا 72 کلومیٹر دور مغرب کی جانب قلعہ ہری نند موجود ہے جِسے اب قلعہ ہڑند کہا جاتا ہے۔جس کی پُشت پر تہذیبی رشتوں کی پوری لڑی لٹکتی نظر آتی ہے۔خشک پربتوں کے کِنارے آباد اِس
قلعہ کے جنوب مغرب میں ہزاروں سال پرانی مہر گڑھ کی تہذیب اور جنوب مشرق میں ہزاروں سال قدیم موہنجو داڑو کے کھنڈرات اپنی تاریخی شان و شوکت کے ساتھ مخدوش تعلقات کا راستہ دکھاتے ہیں ۔داجل کا اڈہ قبائلی ثقافت کا مظہر ہے۔مردوں کی کثیر تعداد اپنے روزوشب قدیم روایات کے ساتھ نبھائے چلے جاتے ہیں۔گلہ بان اپنے ریوڑ چراتے ہیں اور اونٹوں کی قطاروں کے آگے ساربان گیت گاتا چلا جاتا ہے۔دور تک انسانی آبادی کے اثرات نظر نہیں آتے۔مستورات ٹوپی والے روایتی برقعے پہن کر بازاروں میں نکلتی ہیں۔اور بچے کھیل کود میں مگن ہیں۔کہیں کہیں مکئی کی گود چھلیوں سے بھر چکی تھی اور کماد کی فصلوں میں دس دس منزلہ مٹھاس پوروں میں بھری جا چکی تھی۔اسی قلعہ کے اندر کبھی کنیزیں اپنے حُسن کی مشعلیں روشن کرتیں اور اُن کے شباب سے تِیرگی بھرے خیمے جگمگا اُٹھتے۔مئے کشی کے دور میں عیش و طرب کا بازار گرم ہوتا اور مہکتے رنگوں کے لبادے اُڑتے۔مگر اب مکڑے جلالِ شاہی کی درودیوار پر مرثیوں کے جال بُن چکے ہیں۔

سرحدی تعلق تو اس علاقے کا پنجاب سے ملتا ہے مگر جغرافیائی اور تاریخی تعلق سورماوں کی سرزمین سے ہے۔یونانی، ایرانی اور عرب فاتحین نے اس قلعہ کو فتح کرنے کے خواب دیکھے اور کشت و خون میں نہلانے کے بعد فتح بھی کِیا۔راجہ ہری نند یا ہرناکوس جو ایک ہندو راجہ تھا اس نے اپنے پِسرِ اول کے ساتھ مل کر اسے تعمیر کروایا۔یہ قلعہ موہنجوداڑو سٹائل میں چھوٹی مربع اینٹ سے تعمیر کیا گیا۔یہ قلعہ وسیع رقبے پر مربع شکل میں سولہ مسدس برجوں اور شمالی جنوبی دو دروازوں پر مشتمل ہے۔اس قلعہ کے اندر افقی اور نشیبی راہداریاں بھی ہیں جو خفیہ سرنگوں سے ملحقہ غاروں کے اندر کُھلتی ہیں۔ارد گرد چٹیل میدان تھا مگر آج کل کھجوروں کے باغات نظر آتے ہیں اور سرسبز کیکروں کے پھولوں کی بہتات ہے۔ محمد بن قاسم کی یلغار کے سامنے یہ قلعہ اور اس کے مکین نہ ٹِک سکے گویا تیز ہوا کے سامنے تنکہ ہو۔اس قلعہ پر سکندر اعظم سے لیکر محمد بن قاسم، محمود غزنوی، احمد شاہ ابدالی تک سب حکمرانوں نے اپنا قبضہ رکها۔
سکندر نامہ کتاب جو کہ سکندر اعظم کی داستانیں سناتی ہے اس میں دارا یوش کی ایک بیٹی سے الیگزنڈر کی شادی کی بابت لکھا گیا ہے جو اسی قلعه میں ہوئی تھی۔
احمد شاہ ابدالی نے 1747ء کو یہ دو علاقے ہڑند اور داجل خان اف قلات نصیر خان کو بطور تحفہ دئیے جس کے بعد راجہ رنجیت سنگھ کی فوجوں نے پھر اس پر حملہ کرکے اپنے قبضے میں لے لیا۔اور اس کی تزئین و آرائیش کا کام شروع کر دیا۔مگر مقامی قبیلہ گورچانی کی مزاحمت پر کچھ برس تعطل آیا مگر سکھا شاہی میں ہی اس کی مرمت مکمل ہوئی۔اُس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے میں پھر سے جنگ میں نہلایا گیا اور سِکھوں سے واپس چِھینا گیا اور اس کے بعد وقت نے اس بوڑھے قلعہ کی ہڈیوں سے رعنائی کا رس نچوڑ لیا۔ہر بیس، تیس برس بعد شیطان، گھوڑوں پر آگ برساتے مہم جُو لاتا اور اس کے گردونواح میں خشک سالی کا نیا دور شروع ہو جاتا۔لُٹیرے طاقت کے بچھو اور سانپ اِن مکینوں پر چھوڑتے اور اُن کی مٹی کو زہر آلود کر جاتے۔

ہم تینوں (سعید سادھو، ثمینیہ تبسم )تحیر کی پوٹلیاں اپنے بغلوں میں دبائے سرپٹ دوڑئے چلے جا رہے تھے۔ہم تین آڑی بیابان میں انواع و اقساط کی جڑی بوٹیاں اور انسان دیکھ کر حیرت زدہ تھے۔جِسم کی جیل میں قید ہم تینوں تیزابی بغاوت رکھتے تاریخ کے قبرستان کی جانب بڑھ رہے تھے۔فصیل کی ہیبت کا فسوں ہمارے بدن کی دیواروں میں جُڑے مسالے اور خون میں سرائیت کر چکا تھا۔ہم تینوں نے اتنی اونچی آواز میں کُرلاٹ ماری کہ آواز کے اثر سے قلعہ کے اندرونی اور بیرونی
مضمرات اُبھر کر سامنے آ گئے۔جلوس گاہ میں اژدھے اور بے چین روحوں کا ایک کنواں نظر آتا ہے اور ہم خوف کے مارے یہ قلعہ چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے