شکیب جلالی سیمینار اور کل پاکستان محفل مشاعرہ

سیالکوٹ میں ہونے والی یادگار ادبی تقریب کا احوال

شکیبؔ جلالی سیمینار اور کُل پاکستان مشاعرہ
رپورٹ : محمد اویس عاجزؔ

سیالکوٹ کی دھرتی پر ادب کے وہ مینار روشن ہیں جن کی ضوفشانی سے دنیائے ادب تاباں ہے۔ گزشتہ دنوں بزمِ اہل سخن سیالکوٹ و ادب و ثقافت انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام تاج پیلس ہوٹل سیالکوٹ کے مزین ہال میں شکیب جلالی سیمینار اور کُل پاکستان مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کی صدارت ممتاز شاعر و ادیب و محقق ڈاکٹر عبدالکریم خالد نے فرمائی۔ مہمانانِ خصوصی کی نشستوں پر شکیب جلالی کے فرزند سیداقدس رضوی،ڈاکٹر اسحاق وردگ، ڈاکٹر صغیر احمد صغیر، ڈاکٹر سعدیہ بشیر، شہزاد نیئر، بینا گوئندی، رشید آفرین، پروفیسر شاہد ذکی، پروفیسر سید عدید، خواجہ اعجاز بٹ جلوہ افروز تھے۔تقریب کے روحِ رواں عامر شریف میزبانِ خصوصی کی حیثیت سے شہ نشین پر متمکن تھے۔ نظامت کے فرائض محمد ایوب صابر نے اپنے مخصوص انداز میں ادا کیے۔اس تقریب کے تین حصے تھے۔ پہلا حصہ شکیب جلالی سیمینار تھا، جس میں شکیب جلالی کی زندگی اور فن پرمقالے پیش کیے گئے۔ دوسرے حصے میں کُل پاکستان محفلِ مشاعرہ کا اہتما م تھا جبکہ تیسرے حصے میں شعرا و ادباء کو ’’شکیب جلالی ایوارڈ‘‘ پیش کیے گئے۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت شمس علی شافی نے حاصل کی۔ اس کے بعد معزز مہمانوں کو شہ نشین پر رونق افروز ہونے کی دعوت دی گئی ، عامر شریف نے مہمانوں کے گلے میں مہکتے گلابوں کے ہار ڈال کر فضا کو معطر کر دیا۔ تجمل حسین قادری نے خوش لحن آواز میں نعت شریف پیش کر کے محفل پر سحر طاری کر دیا۔محمد ایوب صابر نے شکیب جلالی کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ شکیب جلالی وہ زندہ شعر کہہ رہے تھے جو روز و شب کی تہوں میں گم نہ ہو سکیں بلکہ وقت کے ساتھ محوِ سفر رہیں۔ عامر شریف نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے کراچی سے پشاور تک تشریف لائے ہوئے شعرا و ادبا کا شکریہ ادا کیا۔انہوں کے کہاآج ہم نے اس مومن شخص کو دریافت کرنے کے لیے محفل سجائی ہے جو کم سن عمر میں ہی حادثات سے دوچار ہوا۔ حساس مزاج اور زخم پالتے ہوئے بھی اپنے غموں کو قہقہوں میں چھپاتا رہا۔ڈاکٹر قمر صدیقی نے کہا شکیب جلالی نے شاعری کو نیا اسلوب دیا ہے۔ ڈاکٹر عاصمہ راؤ نے اپنے مقالے میں شکیب جلالی کی شخصیت اور حالات و واقعات پر اظہارکیا۔ اعجاز اعزائی اور رشید آفرین نے شکیب جلالی کو منظوم خراجِ تحسین پیش کیا۔پروفیسر سید عدید نے اپنے مقالے میں کہا کہ شکیب جلالی عہد ساز شاعر نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہے۔ پروفیسر شاہد ذکی کے کہا ہمارے لیے یہ ایک اعزاز ہے کہ آج ہم سیالکوٹ میں بیٹھ کر شکیب جلالی کا ذکر کر رہے ہیں۔ خواجہ اعجاز بٹ نے اپنے مقالے میں شکیب جلالی اور حادثات کا شکار ہونے والے دنیا کے دوسرے شعرا کا تقابل پیش کیا۔ شاہد رضا نے اپنے مقالے میں کہا کہ شکیب جلالی اردو غزل کے مجتہدہیں۔ ان کے کلام میں مکمل طور پر داخلیت پائی جاتی ہے۔ خارجی مضامین بھی ان کے اندر اس وقت تک مقید رہتے ہیں جب تک وہ نئی کروٹ نہیں لیتے۔ آج کی جدید غزل دراصل شکیب جلالی ہی کی دین ہے۔ شہزاد نیئر نے اپنے مقالے میں کہا شکیب جلالی نے اردو غزل کو جدت آشنا کیا۔ انہوں نے غزل کو نئی زمین سے جوڑااور غزل کے لہجے میں نئی تازگی لائے۔ ڈاکٹر صغیر احمد صغیر نے اپنے مقالے میں کہا کہ شکیب جلالی حدودِ ذات سے آگے نکل گئے تھے۔ وہ وقت سے پہلے آئے اور وقت سے پہلے چلے گئے۔شکیب جلالی نے مختصر وقت میں اپنا کام مکمل کر لیا۔ بینا گوئندی نے کہا اپنے مقالے میں کہا کہ میں نے آج تک شکیب کو اس قدر گہرائی سے نہیں پڑھا تھا ، اب میں شکیب جلالی کو مزید پڑھوں گی اور ان کی نظموں کا انگریز ی میں ترجمہ کروں گی۔ ڈاکٹر سعدیہ بشیر نے اپنے مقالے میں کہا کہ کسی شاعر کے کلام کو محسوس کرنا ہی اصل خراجِ تحسین ہے۔ ہرتخلیق کار کے اندر ایک انسان ہوتا ہے۔ شکیب جلالی کے اندر کا انسان ہار گیا لیکن تخلیق کار جیت گیا۔ ڈاکٹر اسحاق وردگ نے اپنے مقالے میں اردو تنقید کی شکیب جلالی کے فکری حوالوں سے بے خبری پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شکیب جلالی کو محدود تنقیدی تناظر اور شخصی رویوں میں بیان کیا جاتا ہے اور کئی عشروں سے چند تصورات کی جگالی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاآج شکیب جلالی پر بحث کا آغاز ہوا ہے ، اب یہ بات ہر طرف پھیلے گی۔ فرزندِ شکیب جلالی سید اقد س رضوی نے کہا کہ میں نے اپنے والدِ محترم کی یاد میں 1974 ء میں ایک تقریب میں شرکت کی تھی اور اس کے بعد آج سیالکوٹ میں یہ موقع ملا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے والد کے بارے میں لوگوں کے نظریات واضح ہو رہے ہیں، اور اُن کی وفات ایک حادثہ تھا لیکن اس سے پہلے وہ ایسے پیڑ لگا چکے تھے جن کا سایہ آج ادبی دنیا کو میسرہے۔ ڈاکٹر عبدالکریم نے کہا کہ آج اس تقریب میں شرکت کر کے ایسا لگا کہ آج پہلی بار شکیب جلالی مجھ پر منکشف ہوا ہے۔نقادوں نے شکیب کو سمجھا ہی نہیں اسی لیے منفی رحجانات کا ذکر کرکے لوگوں کو الجھاؤ میں ڈال دیا ہے۔آج شکیب کی نئی تصویر سامنے آئی ہے، سیالکوٹ سے شکیب شناسی کا آغاز ہوا ہے اب شکیب خود میدان میں آئے گا۔
اس کے بعد محفلِ مشاعرہ کا آغاز ہوا۔ شعرا اپنی شعری زنبیل سے سخن کے نایاب موتی نکال کر محفل میں پیش کر رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا یہ کوئی مشاعرہ نہیں بلکہ شعری مقابلہ ہے جس میں ہر شاعر اپنا بہترین کلام پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف داد وتحسین کی آوازیں تھیں۔ واہ واہ مکر ر ارشاد کی آوازوں کا لا متناہی سلسلہ تھا ۔ ہر شعر داد کی شکل میں اپنا خراج وصول کر رہا تھا۔ محمد اجمل فاروقی، نثار سلہری، مبشر میو، راناعثمان احامر، محمد اویس عاجز، اویس خالد، منیر جعفری، صغیر احمد ، سلیم نجمی، ارشاد نیازی، رفیق لودھی، عبدالستار راز، دلشاد احمد، ارشد مرزا، ڈاکٹر ساحل سلہری، فرانسس سائل، آصف علی علوی، خضر حیات، عامر شریف، عمران شناور، محمد ایوب صابر، تنویر دانش، میجر عمر عزیر، عاصم ممتاز ، راشد منیر، احمد سعید، اے ایچ عاطف، امجد میر، ڈاکٹر قمر صدیقی، نیلم ملک، نعیم ثاقب، علی احمد گجراتی، پروفیسر اشفاق شاہین، حُسن بانو، شاہد رضا، اعجاز اعزائی، پروفیسر سید عدید، پروفیسر شاہد ذکی، رشید آفرین، ڈاکٹر سعد یہ بشیر، شہزاد نیئر، ڈاکٹر صغیر احمد صغیر، بینا گوئندی ، ڈاکٹر اسحاق وردگ اور ڈاکٹر عبدالکریم خالد نے اپنا کلام پیش کیا۔
اس کے بعد تمام شعرا اور ادباء کو دیدہ زیب’’شکیب جلالی ایوارڈ‘‘ پیش کیے گئے۔ نامور خطاط فرحان ابراہیم کو بھی شکیب جلالی ایوارڈ پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ عامر شریف نے بزم اہل سخن سیالکوٹ اور ادب و ثقافت انٹر نیشنل کی جانب سے سید اقدس رضوی اور ڈاکٹر عبدالکریم خالد کی شال پوشی کی۔عامر شریف نے مہمانوں کو اپنی اور شکیل شروش کی جانب سے ادبی مجلہ اسلوب اور کلیات بیدل حیدری کے تحائف پیش کیے۔ بزم میں شکیل شروش کاذکر اس تسلسل کے ساتھ ہو رہا تھا گویا وہ یہاں موجود ہوں۔ اس کے ساتھ چھ گھنٹے تک جاری رہنے والا سیمینا ر اور کُل پاکستان مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔ اس کے بعد پُرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کراچی، پشاور، لاہور، فیصل آباد، جہلم ، گجرات، نارووال، سرگودھا ، چونڈہ، بجوات، چوبارہ، کنگرہ، سمبڑیال اور سیالکوٹ کے مہمان شکیب شناسی کی یاد لے کر دمکتے چہروں کے ساتھ روانہ ہوئے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے