ساہیوال واقعہ،چند سوالات

آمنہ مفتی|بی بی سی اردو

تحریر:آمنہ مفتی (مصنفہ،کالم نگار)

پنجاب پولیس کے کارناموں پہ سالہا سال سے سر دھنتے آ رہے ہیں لیکن سنیچر کے سانحے نے دل ہلا کے رکھ دیا ہے۔یہ ہی ملتان روڈ ، یہ ہی یوسف والا ٹول پلازہ، جہاں سے میں ہفتے میں دو سے تین بار گزرتی ہوں اور سوچتی ہوں ‘گر جنت برروئے زمین است۔۔’ اسی ٹول پلازہ پر چچا زاد بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے جانے والے ‘مبینہ’ دہشت گرد، مہر خلیل، ان کی بیگم، 13 سالہ بچی اور ٹیکسی ڈرائیور ذیشان کو ‘مبینہ’ مقابلے میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔p
یہ سانحہ کسی غلط رپورٹ، کسی غلط فہمی، کسی بھتہ خوری، کسی وقتی اشتعال یا کسی لمحاتی غلط فیصلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ چار انسانوں کی زندگیاں، تین معصوم بچوں کا مستقبل، پنجاب پولیس جیسے بڑے ادارے کے لیے جو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں نہایت جاں فشانی سے قانون کی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہو گا۔
اس ادارے کے پیشِ نظر اپنے اہلکاروں کی عزت اور نوکری ہے اسی لیے اس سانحے کے فوراً بعد ایک چٹھا ٹائپ کرایا گیا، جو یقیناً کسی غلط فہمی، لمحاتی غلط فیصلے یا وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس میں مقتولین کو دیکھ لیے جانے کے باوجود انہیں داعش کے ‘مبینہ’ دہشت گرد بتایا گیا جو ایک امریکی شہری کے قتل اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے اغوا میں مطلوب تھے اور ایک ‘مبینہ’ ریڈ بک میں ان کے نام لکھے ہوئے تھے۔
اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ ان پر خود کش جیکٹ، ہینڈ گرینڈ اور دیگر اسلحہ بھی ڈال دیا گیا۔ الیکٹرانک میڈیا پر چلانے کے لیے ٹکر بھی مہیا کر دیے گئے۔ جائے وقوعہ پہ مطلوبہ خطرناک ترین دہشت گردوں کی لاشیں، راہ گیروں کی تفتیش کے لیے چھوڑ کر تین بچوں کو اٹھا کر بوکھلاتے ہوئے فرار بھی ہو گئے۔
سوالات تو بہت سارے ہیں لیکن ایک اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا پولیس والوں کے ہاتھ میں ہتھیار دیتے ہوئے انھیں فائرنگ کا اختیار بھی دیا جاتا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ اختیار انھیں کس صورت میں ملتا ہے ؟ کسی بھی نہتے شخص پر صرف شک کی صورت میں سیدھی فائرنگ کا اختیار پولیس کو کس نے اور کب دیا؟ اور اگر پولیس کے پاس یہ اختیار بھی ہے تو کیا ان کی تربیت ایسی کی جاتی ہے کہ وہ اندازہ لگا سکیں کہ ‘مبینہ’ مشکوک واقعی مشکوک ہے یا نہیں؟

اگر کوئی ‘مبینہ’ ریڈ بک واقعی موجود تھی اور اس میں مہر خلیل، 13 سالہ اریبہ خلیل ،نبیلہ خلیل اور ذیشان عرف مولوی کے نام بطور دہشت گرد درج تھے اور محلے داروں، رشتے داروں کے مطابق یہ شریف شہری تھے تو اس ‘مبینہ’ ریڈ بک کی کیا ساکھ رہ جاتی ہے؟ دوسری صورت میں کیا ‘داعش’ اس قدر پھیل چکی ہے کہ پورا محلہ، پورا گاؤں بلکہ اب تو پورا ملک ان ‘خطرناک ‘دہشت گردوں کے لیے سراپا احتجاج ہے۔ کیا ہم سب داعش کے رکن ہیں؟
ہماری پولیس کی ساکھ کیا ہے سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ آدھے سے زیادہ جرائم کا اندراج کرانے کوئی جاتا ہی نہیں۔ مجرموں سے زیادہ نقصان پولیس والے ’چائے پانی’ مانگ مانگ کر پہنچا دیتے ہیں۔ اگر کوئی جی دار کیس درج کرانے کی ٹھان ہی لیتا ہے تو اس کی ‘کچی رپورٹ’ کو پکی ‘ایف آئی آر’ تک پہنچانے کے لیے سفارشوں اور رشوتوں کے پل باندھنے پڑتے ہی فٹا فٹ ‘ایف آئی آر’ اسی وقت درج ہوتی ہے جب کسی سے دشمنی نکالنے کو اس پر ‘مدعا’ ڈالنا ہو۔
غیر تربیت یافتہ، غیر ذمہ دار پولیس اہلکار، جو زیادہ تر، برادری اور سفارشوں رشوتوں کے بل پر بھرتی کیے جاتے ہیں، ایسے واقعات کا باعث بنتے ہیں۔ ماورائے عدالت قتل، ہمارے خطے میں ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ الٹا ایسے پولیس والوں کو شجاعت کا نشان گردانا جاتا ہے۔
پولیس کے متضاد بیانات کا پول کبھی نہ کھلتا اگر جائے وقوعہ کی کئی ویڈیوز سامنے نہ آ جاتیں۔ یہ 2019 ہے، ہمارے ادارے آج بھی کالونیل دور میں جی رہے ہیں۔ انھیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جلیانوالہ باغ ہو، پشاور کا سن تیس ہو ، سانحہ ماڈل ٹاؤن ہو یا ساہیوال ٹول پلازہ کا ‘مبینہ’ پولیس مقابلہ، ایک ‘ریڈ بک ‘ تاریخ کے پاس بھی ہے جس میں بڑے واضح اور جلی حروف میں ظالموں کا نام لکھا ہوا ہوتا ہے اور تاریخ اپنے مجرموں کو کبھی معاف نہیں کرتی ہے۔
(بشکریہ:بی بی سی اردو ویب)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے