اے سرو بے ثمر

شاعری:شہزاد نیئر


نظم| شہزاد نیّر


اے سروِ بے ثمر

میں نے کیسی زمینوں کو پانی دیا
میں نے کیسی محبت پہ آنکھیں نچوڑیں
کسی اجنبی دیس میں گیت گایا
سنایا اسے حالِ دل جو سمجھتا نہیں

میں نے بے فیض شب کی ہتھیلی پہ جگنو دھرے
میں نے پتھر کے پیروں میں آنسو جڑے
برف میں بیج بوئے
کوئی گُل نہیں، کوئی خوشبو نہیں

میں نے کانٹوں کے ہونٹوں کو بوسہ دیا
آپ اپنا لہو چاٹ کر دن ڈھلا
شام آئی تو میں اپنی حالت پہ حیراں ہوا
خاک کی پائمالی کا نوحہ پڑھا
گھر میں پردیس کا دُکھ سہا
اپنے اجڑے بدن کو پرائی نگاہوں سے دیکھا کیا
آئینہ دیکھ کر خود کو طعنے دیے
میرا پندار کِن گھاٹیوں میں گِرا
میرا بندِ محبت کہاں آکے ٹوٹا
یہ چشمہ کسی اوٹ کب سے رُکا تھا
کہاں آکے پھوٹا، کدھر بہہ پڑا
اور بنجر زمینوں کو پانی دیا
کوئی گُلشن نہیں، کوئی خوشبو نہیں

شہزاد نیّر

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے