ففتھ جنریشن وار!نظم

ثمینہ تبسم

ففتھ جنریشن وار !


*نظم | ثمینہ تبسم

اب وہ نقارے گئے
جب آمنے سامنے کھڑی فوجیں
کشتوں کے پشتے لگایا کرتی تھیں

وہ زمانہ بھی گیا
جب عالمی بساطوں پہ لڑنے والے لڑاکے
بظاہر ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھا کر اپنا الو سیدھا کرتے تھے

وہ وقت بھی گزر گئے
جب قدرتی ذرائع پہ قبضہ کرنے کی حرص نے صنعتی انقلاب کے نعرے لگائے

اور وہ وقت بھی نہ رہا
کہ جب دنیا نے دہشتگردی کو ہتھیار بنا کر
انسانیت کی آڑ میں کشت و خون بہانے والوں کو بے آبرو ہوتے دیکھا

اور آج
ظلم و استبداد سے نفرت کے بیجوں کا خراج ادا کرتی پانچویں نسل
عام آدمی کے حقوق کی جنگ لڑنا اپنا فرضِ اولین سمجھتی ہے

عالمی منظر نامے پر
ایک طرف امارت کے شہکار
دولت کے انباروں پہ کنڈلی مارے بیٹھے ہیں
دوسری طرف
کلبلاتی ہوئی مخلوق کو غربت کا عفریت دبوچے بیٹھا ہے
دھرتی کے سینے پہ چمکتا
سبز و روپہلی پرچم اوڑھے پاکستان
دنیا کی بھوکی اور سیراب نظروں میں کھٹکتا ہے
میرے پرچم کو نوچ لینے کے خواب دیکھنے والی ناپاک نظریں
میرے لوگوں کے دلوں میں نفرت کی تاریکی بھرتی ہیں
میری اپنی آستینوں میں گھسے بیٹھے نمک حرام سنپولیئے
میرے بچوں کو ڈسنے سے باز نہیں آتے
حکومت وقت کے کندھوں پہ رکھا ماضی کی غلطیوں کا بھاری بوجھ
عدلیہ کے سینے پہ رکھی فریادوں کی لاکھوں گٹھڑیاں
بیوروکریسی کو نوچتے ہوئے حرام خور گدھ
فوج پہ کیچڑ اچھالنے والے بدذات عناصر
مل جل کر
ایسا تانہ بانہ بنتے ہیں
کہ میرے بلوچستان
گلگت و بلتستان
سندھ
اورخیبرپختونخوا کے
بھوک
جہالت
بیماری
اورغربت کے مارے مجبور عوام
کسی امید کی آس میں
مکر و فریب کے اس جال میں پھنستے چلے جاتے ہیں
یہی جال ہے
جو ہمیں توڑنا ہے
یہی جنگ ہے
جو ہمیں لڑنی ہے
ہمیں
اپنے قائد
اپنے اقبال
اور نظریہ پاکستان کے سہارے
ایک قوم بن کے سر اٹھانا ہے
ہمیں کوئی سودے بازی نہیں کرنی
سب سے پہلے پاکستان
پاکستان زندہ باد

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے