مت مارو اپنے لوگوں کو|نظم

سید صغیر صفی

مت مارو اپنے لوگوں کو!

نظم| سید صغیر صفی

ہائے ساہیوال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مت مارو اپنے لوگوں کو

تم اس درجہ سفاک نہ تھے
کہ لہو سے اپنے ہاتھ رنگو
ایسے تو نہیں تھے وحشی تم
اپنے ہی جسموں کو کھا لو
بم ان پہ گرے یا تم پہ گرے
جلتا ہے اپنا سفینہ ہی
زخم ان کو لگے یا تم کو لگے
پھٹتا ہے اپنا سینہ ہی
اب تم ہارو یا وہ ہاریں
جیتے گا دشمن ۔عالم ہی
جس سمت گریں لاشیں پیارو
ہے اپنے گھر کا ماتم ہی
ہر مشکل میں جو کام آئیں
مت کاٹو ایسی بانہوں کو
اپنوں کے لیے مرنے والو
مت مارو اپنے لوگوں کو

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے