قومی اسمبلی میں سانحہ ساہیوال پر بحث بھی سیاست کی نذر

ایوان میں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ ہوتی رہی

ویب ڈیسک |پیر 21 جنوری 2019

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں سانحہ ساہیوال پر ہونے والی بحث بھی حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کی سیاست کی نذر ہو گئی اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے ایوان میں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ گونجتی رہی۔قومی اسمبلی کا اجلاس پریزائڈنگ افسر منزہ حسن کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ساہیوال واقعہ پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اندھا دھند فائرنگ کر کے بچوں کے والد، والدہ اور بہن کو مارا گیا، جس طرح ان لوگوں کو مارا گیا وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ساہیوال میں ظلم و بربریت کا پہاڑ توڑا گیا، کہا گیا کہ گاڑی سے فائرنگ ہوئی لیکن ایسا نہیں تھا، دنیا نے دیکھا کس طرح معصوم بچوں کو پولیس کی گاڑی میں بٹھایا گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان اس قسم کے واقعات پر سیاست کرتے تھے، ماڈل ٹاؤن کا واقعہ ہو یا زینب زیادتی کیس، عمران خان نے سیاست کھیلی جب کہ پنجاب حکومت نے بھی کئی بار بیانات بدلے۔ان کا کہنا تھا کہ ساہیوال واقعے کے 24 گھنٹے بعد وزیراعظم کو ٹوئٹ کا خیال آیا، ہم اس معاملہ پر سیاست نہیں کرنا چاہتے لیکن وزیراعظم نے قوم کو جواب دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوان کی آج معمول کی کارروائی معطل کر کے معاملے پر بحث کرائی جائے، اور جب تک یہ پوری قوم کو حقائق نہ بتا دیں ہم انہیں آرام سے بیٹھنے نہیں دیں گے۔
وفاقی وزیر علی محمد خان کا اظہار نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے اتفاق کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی کو ملتوی کر کے ساہیوال واقعہ پر بحث کرنے کی تحریک پیش کی جسے منظور کر لیا گیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جس ادارے کو عوام کو دہشتگردی سے بچانا ہے اس نے بےگناہوں کو گولیوں سے بھون ڈالا جب کہ حکومتی وزراء کے ساہیوال واقعے پر بیانات حد درجہ قابل اعتراض تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر آدمی خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے، کل کو کسی کو بھی بچوں کےساتھ سفر کے دوران گولی مار کر کہا جائے گا کہ دہشتگرد تھے۔انہوں نے کہا کہ پہلے کہا گیا بچے مغوی تھے ہم نے انہیں بچایا، کتنے دکھ کی بات ہے کہ وزیراعلیٰ بچوں کے پاس پھول لے کر جائیں اور تصویر بنوائیں۔رہنما پیپلز پارٹی نے سوال کیا کہ کیا کسی کے گھر ماتم ہو تو اسے جا کر پھول پیش کیا جاتا ہے؟ کیا کسی کے والدین کو مار کر انہیں پھول پیش کیا جاتا ہے؟ کیا ریاست مدینہ میں ایسا ہوتا ہے؟انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بیان میں کہتے ہیں میں صدمے میں ہوں، کوئی اور لفظ استعمال کریں لیکن ریاست مدینہ کا لفظ استعمال نہ کریں خوف خدا کریں۔
ان کا کہنا تھا کہا جا رہا ہے ڈرائیور دہشتگرد تھا، لواحقین کہتے ہیں وہ تو شہر سے کبھی باہر نہیں گیا، ڈرائیور کے لواحقین کو دھمکیاں دے کر تدفین کرائی گئی۔
رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ جے آئی ٹی تو شاید مذاق ہے، معاملہ سرد خانے میں ڈالنا ہو تو جے آئی ٹی بنا دو۔انہوں نے کہا کہ گئی گزری حکومت بھی ہوتی تو صحیح حقیقت سامنے آ چکی ہوتی۔راجا پرویز اشرف نے کہا کہ ساہیوال واقعے پر وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو اس استعفیٰ دینا چاہیے۔
سابق وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ علی محمد کہتے تھے ملزمان نہ پکڑے جائیں تو ذمےدار حکومت ہوتی ہے جب کہ عمران خان کہتے تھے کہ ماڈل ٹاؤن میں سیدھی گولیاں ماری گئیں، شہباز شریف استعفیٰ دے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ساہیوال واقعے میں بھی براہ راست گولیاں ماری گئیں، ادھر سانحہ ہوا اور ادھر وزیراعظم قطر چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف افسردہ ہونے کا بیان دوسری طرف سی ٹی ڈی کی تعریف کی گئی، یہ صبح کچھ شام کو کچھ کہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور صوبائی حکومت کے متنازع بیان آتے رہے۔رہنما ن لیگ نے کہا کہ پہلے قتل کیا گیا پھر جھوٹ پر جھوٹ بولا گیا، پنجاب میں حکومت کی عملداری ختم ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی راؤ انوار دندناتا پھر رہا ہے، اس کا احتساب نہیں ہوا، قانون یہاں بڑے بڑے افراد کے خلاف سیاسی مقاصد کیلئے حرکت میں آ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کا احتساب ہوتا تو ہو سکتا ہے پولیس کو کچھ تو احساس ہوتا۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے الزام عائد کیا کہ یہ تباہی کی نشانیاں ہیں کہ کہا گیا بچوں کو انسانی ڈھال بنایا گیا، اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دہشتگردی ختم کرنے والے خود دہشتگرد بن گئے ہیں، ہشتگرد وہ تھے جنہوں نے خون بہایا، ان پر دہشتگردوں کی طرح مقدمہ چلایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور علی محمد اپنی تقاریر کا دوبارہ جائزہ لیں، آج موقع ہے کہ عمران خان جس انصاف کا دعویٰ کرتے تھے وہ کر کے دکھائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت اس معاملے میں فریق بن چکی ہے لہذا اس ایوان کو اختیار دیں تاکہ وہ معاملہ دیکھے۔پولیس کے نظام میں فوری اور مکمل ری اسٹرکچرنگ کی ضرورت ہے: شیریں مزاری
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ساہیوال واقعہ قابل مذمت ہے، جس نے کیا اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔انہوں نے بھی الزام عائد کیا کہ سالہا سال بلکہ کئی دہائیوں سے مقابلے چلے آرہے ہیں، یہ روایت پچھلی حکومتوں نے قائم کی۔ان کا کہنا تھا کہ ماڈل ٹاؤن واقعے پر کسی کو سزا ملی؟ آپ تو اس وقت وزیر تھے اس وقت کیوں کارروائی نہیں کی گئی،اس وقت آپ نے کیوں کچھ نہیں کیا، اب ایسے الفاظ بول رہے ہیں۔
شیریں مزاری نے خواجہ آصف کا نام لیے بغیر کہا کہ ٹوئٹ درست پڑھ لیں، غلط بیانی نہ کریں، بیان میں سی ٹی ڈی کی تعریف نہیں کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وراثت میں ملی پنجاب پولیس کو درست کرنا ہو گا، چاہے ہماری حکومت ہو یا کسی اور کی، ہمیں ان جعلی پولیس مقابلوں کو ختم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کو راؤ انوار کی دہشتگردی کا غم تھا تو آپ نے ایکشن کیوں نہیں لیا، راؤ انوار کا معاملہ اسمبلی میں لا کر سزا کیوں نہیں دی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم وہی بھگت رہے ہیں جو آپ نے پنجاب پولیس کے ساتھ تباہی مچائی۔ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کو مقابلے کی جرات ہوئی کیونکہ آپ نے پنجاب میں مقابلوں کی اجازت دی، آپ ماڈل ٹاؤن واقعہ اور سیالکوٹ میں دو بھائیوں کا سرعام قتل کیوں بھول گئے؟
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں تو 5 ماہ ہوئے ہیں، پولیس تو آپ نے تباہ کی ہے، نام نہیں لوں گی لیکن ایوان میں بیٹھے بعض ارکان پولیس مقابلوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔شیریں مزاری نے پولیس کے نظام میں فوری اور مکمل ری اسٹرکچرنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یا تو آپ سیاست کرتے رہیں یا اس معاملے پر مشورے دیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر ایف آئی آر تک نہیں کاٹی گئی، فوج کو کلبھوشن کے خلاف کارروائی کے لیے آگے بڑھنا پڑا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس سیاسی جماعت میں ایک بھی مسلح رکن ہو اس کی رکنیت ختم کر دی جائے، ایسی سیاسی جماعت کی رکنیت ختم کرنے پر قرارداد منظور کر لیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ آئیں ماڈل ٹاؤن، نقیب اللہ محسود اور تمام واقعات ملٹری کورٹ کے حوالےکر دیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دشمن قوتیں نوجوانوں کا برین واش کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی بنا دیں جو بلوچستان یا کہیں بھی انصاف کیلئے کام کرے۔
شہریار آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نہیں تھی تو نواز شریف اڈیالہ میں تھے، ہماری حکومت آئی تو نواز شریف کو ضمانت ملی۔انہوں نے کہا کہ راؤ انوار عدالتی فیصلے کی وجہ سے باہر ہیں، آئیں تمام مسائل پر بات چیت اور حل کے لیے کمیٹی بنا دیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایوان سے وعدہ ہے کہ جے آئی رپورٹ کے بعد ملوث افراد کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر جہاں کہیں گے ان کے ساتھ جاؤں گا، جس افسر نے پشتونوں کی تذلیل کی انہیں مثال بنا دیں گے لیکن یہ کہنے کے باوجود پھر آتے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ طاہر داوڑ کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی قائم ہوگی، اس کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کریں گے ہم بھاگنے والے نہیں۔
شہریار آفریدی نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سمیت 11 وزیر آج پٹھان ہیں، یہ نہ کہا جائے کہ پٹھانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے