گھریلو ملازمین کے تحفظ کا قانون تیار

15سال سے کم عمر گھریلو ملازم رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی

لاہور(قافلہ نیوز)  گھریلو ملازمین پر تشدد کےبڑھتے ہوۓ واقعات کے سدباب کے لیے پنجاب حکومت نے گھریلو ملازمین رکھنے کیلئے قانون کا مسودہ تیار کرلیا۔ مسودہ قانون کے مطابق اب گھروں میں کام کرنیوالے ملازمین کو نوکر نہیں گھریلو ورکرز کہا جائے گا، گھریلو ورکرز کی عمر15 سال سے کم نہیں ہوگی۔
نئے قانون میں کہا گیا ہے کہ گھریلو ورکرز سے جبری مشقت، کوڑا کباڑ اٹھانے کا کام نہیں لیا جائے گا۔ گھریلو ورکرز سے ایسا کوئی کام نہیں لیا  جائے گا۔ جس کا اس سے معاہدہ نہ ہو جبکہ گھریلو ورکرز دن میں 8 گھنٹے کام اور ہفتے میں ایک چھٹی بھی کریں گے۔ گھریلو ورکرز کو نوکری سے نکالنے کیلئے ایک ماہ پیشگی اطلاع یا تنخواہ دینا ہوگی۔
گھریلو ورکرز کو بیماری سے بچاؤ کیلئے ویکسینیشن کرانے کی ذمہ داری بھی مالکان کی ہوگی، گھریلو ورکرز کو کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررہ شرح کے مطابق دی جائے گی۔واضح رہے کہ لاہور سمیت بڑے شہروں میں غریب گھرانوں کے کم عمر بچے بچیوں متمول خاندانوں کے ہاں بطور گھریلو ملازم کام کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہے ہیں لیکن ان ننھے گھریلو ملازمین کے ساتھ انسانیت سوز سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ایسے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں جن میں بچوں کو تشدد اور ظلم و جبر کا نشانہ بنایا گیا جبکہ مارپیٹ سے کئی گھریلو ملازم بچے جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے