چشتی صاحب کے قہقہے گم ہوگئے

تحریر:فرحان احمد خان

چشتی صاحب کو جانے کی جلدی تھی

فرحان احمد خان


میرے یونیورسٹی کے ایام تھے جب میں روزنامہ ایکسپریس میں انٹرن شپ کے لیے گیا ۔ وہاں میگزین سیکشن میں سب سینئرز کے ساتھ بے تکلفی کا تعلق قائم ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔دن بھر خوب گپ شپ ہوتی اورفقرے خوب اُچھلتے ۔میگزین سیکشن کے ”بادشاہ“جناب غلام محی الدین ، محمود الحسن، عبید عابد ، رانا نسیم خان، بشیر واثق، حسان خالد اور خرم قاضی میں سے ہر ایک محفل کا آدمی ہے۔ ایک اورصاحب بھی باقاعدگی سے دن کے وقت اس محفل کاحصہ بنتے تھے۔ یہ جمیل شاہد چشتی تھے۔ اوپرنیوز روم میں گوجرانوالہ ڈیسک کے انچارج تھے۔ ان کا کام تو سہ پہرکے بعد شروع ہوتا تھا لیکن وہ ذراپہلے ہی ہاتھ میں پانی کی بوتل اٹھائے میگزین سیکشن میں پہنچ جایا کرتے۔ بلند آواز میں سلام کے بعد سب سے فرداً فرداً مصافحہ کرنا ان کا مستقل معمول تھا۔ پھر ڈیسک پر پڑی اُردو اخبارات کی فائل اٹھاتے اور اس میں جڑے ہوئے آٹھ دس اخبارات کا ایک ایک صفحہ غور سے دیکھتے جاتے۔مطالعے کے دوران گفتگو میں بھی اپنا حصہ برابر ڈالتے۔چائے آتی تو فائل ایک طرف رکھ کرچائے بنانے کیلئے اُٹھتے۔چشتی صاحب چائے میں چینی کافی زیادہ پیتے تھے۔یورک ایسڈ کی شکایت تھی لیکن انہیں کم ہی پروا تھی۔گاہے ہمارے لیے بھی چینی اور دُودھ کی مطلوبہ مقدار پوچھ کرچائے تیار کر تے، یہ اُن کا بڑا پن تھا ورنہ وہ ہم سب سے عمر اور تجربے کے اعتبار سے سینئر تھے۔ چائے کا کپ ایک منٹ سے بھی کم دورانیے میں نمٹا کروہ اسموکنگ لاؤنج کی طرف نکل جاتے تھے۔ برانڈ کا نام نہیں پتا لیکن اتنا معلوم ہے کہ کافی بے ضرر سے سیگریٹ پیتے تھے۔وہاں بھی ہماری گپ شپ جاری رہتی تھی۔
خوش لباس تھے۔ داڑھی اور بالوں پر گہرا لال خضاب لگاتے ۔بال اُن کے مرتب اور چمکدار تھے۔ بھاری شیشوں والا چشمہ اُن کی ناک پر دھرا ہوتا تھا۔آنکھوں کے پپوٹوں کے نیچے سوجن رہتی تھی جو گردوں کے عارضے کا نتیجہ تھی ۔ محفل میں قہقہے بکھیرنے کے لیے ان کے پاس بے شمار قصے ، حکایتیں اور کہانیاں ہوتی تھیں جو وہ موقع کی مناسبت سے ارزاں کرتے رہتے تھے۔ہر بات میں مزاح کا پہلو نکالنا اور اس سے ملتاجلتا کوئی قصہ سنا دینا ان کی خوبی تھی۔ میں نے ہمیشہ انہیں مسکراتے اورقہقہے لگاتے ہی دیکھا ہے۔
کبھی پاکستانی سیاست وصحافت کے ماضی کے نمایاں کرداروں پر بات ہوتی تو ان کی مختلف شخصیات کے بارے میں معلومات حیران کردیتیں۔یادداشت بہت اچھی تھی۔ گوجرانوالہ کے تھے ، سو پنجابی کا وہی لہجہ تھا۔ گوجرانوالہ کی سیاست اور وہاں ہوئے ماضی کے جلسوں کی بہت دلچسپ روادادیں سناتے تھے ۔پرانے سیاست دانوں اورمذہبی سیاسی خطیبوں کے قصے انہیں خوب یادتھے۔ آغا شورش کاشمیری کے جلسوں کی کہانیاں میں نے اُ نہی سے سنیں۔ شورش کی ’عوامی لفظیات‘ انہیں اَزبر تھیں، جنہیں سنسر کیے بغیر نقل کرتے تھے۔ گوجرانوالہ کے دستگیر خان کے بھی بہت سے لطیفے انہوں نے سنائے۔مولاناغلام غوث ہزاروی کی سیاسی تقریروں اور’غیرپارلیمانی الفاظ‘ کا ذکر بھی کرتے تھے۔ بھٹو حکومت کے خلاف 77کے الیکشن سے قبل چلنے والی پی این اے کی تحریک میں سرگرمی سے شریک رہے ،اس دوران جیل کی ہوا بھی کھائی۔مذہبی علوم سے بھی بہرہ ور تھے۔ ایسی بحثوں میں بھی سرگرمی سے حصہ لیتے تھے۔ماضی میں ان کی کشمیری سیاسی رہنماؤں سے بھی شناسائی رہی تھی۔ اپنے ایک کشمیری دوست سردار طاہر تبسم کا اکثر پوچھا کرتے۔
چشتی صاحب کے ساتھ اگر ہم میں سے کسی دوست کی دوران گفتگو تلخی بھی ہوجاتی تو دل میں رکھتے اور نہ ہی میگزین سیکشن میں اپنی آمد کا سلسلہ منقطع کرتے ۔ ویسے تلخی کاموقع کم ہی آتا۔ جب اخباری صنعت میں کمپیوٹر اور اِن پیج آیا تو اَن گنت لوگ بے روزگار ہوگئے۔کاتب تو ہونے ہی تھے ، وہ بھی اس ہلے کا نشانہ بنے جنہوں نے خود کو کمپیوٹرفرینڈلی نہیں بنایا۔ چشتی صاحب نے البتہ کاغذ قلم سے کی بورڈ کی طرف منتقلی کا چیلنج قبول کرلیا ۔ وہ خبروں کا کام اور ایڈیٹنگ کمپیوٹر ہی پر کرتے تھے جبکہ ان کے ہم عمر صحافیوں کی اکثریت کمپیوٹرالرجک ہوکرمیدان چھوڑ چکی تھی۔
بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں خوشیاں ذرا دیر سے ملتی ہیں اور اکثر اَدھوری ۔ چشتی صاحب اپنے بچوں کا ذکر کرتے رہتے تھے۔انہیں اس بات کی بے حد خوشی تھی کہ اُن کا چھوٹا بیٹا اپنی قابلیت کی بنیاد پرکنگ ایڈورڈ کالج میں میرٹ پر ایم بی بی ایس میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگیا تھا ۔ بیٹی کی تعلیمی کارکردگی بھی شاندار تھی۔ میں نے کئی بار انہیں اپنے بیٹے کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے سنا۔بیٹے سے اردو میں بات کرتے اورنہایت شفقت اور پیار سے اس کا حال احوال لیتے ۔ کاش کہ وہ اپنے اس ہونہار بیٹے کو ایم بی بی ایس مکمل کرتے دیکھ سکتے ۔

مجھے رانانسیم خان نے بتایا کہ آخری دنوں ان کی صحت اس حد تک خراب ہوگئی تھی کہ ایکسپریس اخبار کے دفتر کی سیڑھیاں چڑھنا ان کے لیے مشکل ہو گیا تھا لیکن کام انہوں نے نہیں چھوڑا۔

امجد اسلام امجدکی مشہور نظم ’’سیلف میڈ لوگوں کا المیہ‘‘ کی یہ سطریں ایسے موقع پر یاد آتی ہے:

یہ نہیں کہ ان کو اس روز و شب کی کاوش کا
کچھ صلہ نہیں ملتا
مرنے والی آسوں کا۔۔۔ خوں بہا نہیں ملتا
زندگی کے دامن میں۔۔۔ جس قدر بھی خوشیاں ہیں
سب ہی ہاتھ آتی ہیں
سب ہی مل بھی جاتی ہیں
وقت پر نہیں ملتیں۔۔ وقت پر نہیں آتیں
یعنی ان کو محنت کا اجر مل تو جاتا ہے
لیکن اس طرح جیسے
قرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائے
اصل جو عبارت ہو۔۔۔ پس نوشت ہو جائے
فصلِ گْل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ہیں
ان کے صحن میں سورج۔۔۔ دیر سے نکلتے ہیں

جب میں نے ایکسپریس چھوڑا تو وہاں آنا جانا بھی ختم ہوکررہ گیا ۔ چشتی صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا ۔ ابھی تین ہفتے قبل،سال رفتہ کے آخری دن 31 دسمبر کو لاہور پریس کلب کے الیکشن تھے ۔ میں اپنے صحافی دوست عبدالحنان چوہدری کے ساتھ شملہ پہاڑی کے عقبی جانب کھڑا تھا۔ اسی دوران سامنے سے چشتی صاحب آتے ہوئے دکھائی دیے۔میں نے ان کا استقبال کیااورہم تپاک سے ملے ۔ ووٹ ڈالنے کے لیے ان کی رہنمائی کی ۔ اس دن میں نے محسوس کیا کہ وہ کافی آہستہ چل رہے ہیں اور چہرے پر نقاہت کے آثار نمایاں ہیں۔جب وہ ووٹ ڈال آئے تو میں نے ان کے لیے تمبوسے ذرا ہٹ کر دھوپ میں کرسی بچھائی ۔ مجھے علم تھا کہ چائے اُن کی کمزوری ہے سو حنان کو ساتھ لے کر اسٹال سے چائے لی ، اُن کے کپ میں چینی زیادہ ڈالنا نہ بھولا۔وہاں بیٹھ کر ہم نے کچھ دیر باتیں کیں،میں مصروف تھا لیکن بار بار اُن کی طرف چکر لگاتا رہا ۔ آخری بار جب میں ان کے پاس گیا تو کہنے لگے کہ ’’یار! کوئی لیکوئڈ چیز مل سکے گی، دوا کھانی ہے۔‘‘ میں نے جھٹ سے پانی کی بوتل لادی ، چشتی صاحب نے جیب سے دوا نکالی، یہ رنگ برنگی پانچ سات گولیاں تھیں جو انہوں نے ایک ساتھ منہ میں رکھیں اور پانی کا بڑا ساگھونٹ بھر لیا۔ پھروہ شام سے ذرا پہلے دفترچلے گئے۔انہوں نے اُس دن بھی اپنے بیٹے کا ذکر کیا تھالیکن مایوسی کا کوئی لفظ میں نے ان کی زبان سے نہیں سنا۔ ہاں یہ ضرور محسوس ہواکہ وہ پہلے کی نسبت دھیمی آواز میں اورکافی کم بول رہے تھے۔ان میں وہ پہلے والی چہک نہیں ہے۔
23جنوری بدھ کی شام ایکسپریس اخبارسے وابستہ صحافی فاروق شہزاد گوہرکی فیس وال پر ان کے گزر جانے کی اطلاع دیکھی تو پہلے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔پھر اُن کا وہ سراپا ذہن میں آیا جو تین ہفتے قبل میں دیکھ چکا تھا ۔ پہلومیں بیٹھے محمود الحسن سے خبر شیئر کی تو وہ بھی رنجیدہ ہوگئے۔ بائیں جانب بیٹھے دوست ناصر محمودبھٹی کو اطلاع دی تو وہ بھی اداس ہوگئے۔ ناصر نے ان کے ساتھ نیوزروم میں کئی برس کام کیا ہے۔ہم نے چشتی صاحب کے ساتھ گزرے کچھ لمحوں کو یاد کیا ۔
چشتی صاحب ایکسپریس اخبار کے ساتھ 12سال سے وابستہ تھے ۔ سینئر سب ایڈیٹر تھے ۔اس سے پہلے وہ گوجرانوالہ میں نوائے وقت کے رپورٹر رہ چکے تھے۔ شعلہ بیان مقرر بھی تھے۔ اپنے کام کے حوالے سے انتہائی کمیٹڈتھے ۔وقت کی پابندی ان کا خاصہ تھی ۔ اپنی بزرگی کو جواز بنا کر کبھی انہوں نے خصوصی سلوک کا مطالبہ نہیں کیا ۔ برابری کی سطح پربات کرتے تھے۔ہر کسی کو احترام سے پکارتے تھے ۔ مجھے ہمیشہ ’’فانی صاحب‘‘ کہ کر بلاتے تھے ۔

اب تو ٹی وی اسکرینوں پر دکھائی دینے والے لوگ ہی صحافت کا چہرہ قرار پاچکے ہیں لیکن صحافت کی دنیا میں سینکڑوں ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں جو نام اور تصویر کی خواہش سے بے نیاز ہو کر اپنا کام کر رہے ہیں۔ میڈیا انڈسٹری کے نیوز رومز ایسے Un-Sung Heroies سے بھرے پڑے ہیں جو اپنی عمریں اس دشت کی سیاحی میں تج دیتے ہیں لیکن ان کا نام صرف اُن کے کچھ ہم پیشہ ساتھی ہی جانتے ہیں۔ میڈیاانڈسٹری حقیقت میں انہی لوگوں کی وجہ سے چل رہی ہے۔ چشتی صاحب انہی ہیروز میں سے ایک تھے ، سو وہ بھی گزر گئے ۔ میری بہت خواہش تھی کے ان کی دلچسپ یادوں کو محفوظ کر سکوں۔ اس کا اظہار میں نے ان کے سامنے کیا بھی تھا لیکن موت سے کس کو رستگاری ہے۔ انہیں جانے کی جلدی تھی اور مجھے مہلت نہ ملی!

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے