نواز شریف کی سزا معطلی کی ایک اور درخواست سماعت کے لیےمنظور

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ سماعت کرے گا

ویب ڈیسک 26جنوری2019

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی۔

نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر پیر کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔

درخواست ضمانت کے ساتھ نواز شریف کی 21 جنوری کی میڈیکل رپورٹس بھی منسلک کی گئی ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق نواز شریف کو نگہداشت میں رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ نواز شریف کے گردوں کی بیماری تیسری اسٹیج پر پہنچ چکی ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ نواز شریف کو مناسب علاج فراہم نہ کیا گیا تو برین سیلز کی ڈیتھ اور ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ عدالت کو بتایا گیا کہ نواز شریف کا ہائپر ٹینشن بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور شوگر لیول بھی زیادہ ہے۔
نواز شریف کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ انہیں طبی بنیادوں پر سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے۔عدالت نے مذکورہ درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی، جو پیر کو ہوگی۔
9 جنوری کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کے فیصلے کے خلاف اپیل کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواست منظور کی تھی جبکہ اس سے قبل سزا معطلی کی درخواست 5 جنوری کو عدالت عالیہ میں سماعت کے لیے مقرر ہوئی تھی۔

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 24 دسمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب کی جانب سے دائر العزیزیہ اسٹیل ملز اور فیلگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنایا تھا۔

عدالت نے نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں بری کردیا تھا جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ ایک ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر علیحدہ علیحدہ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔علاوہ ازیں نواز شریف کو عدالت نے 10 سال کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے سے بھی نااہل قرار دے دیا تھا۔مذکورہ فیصلے کے بعد نواز شریف کو گرفتار کرکے پہلے اڈیالہ جیل اور پھر ان ہی کی درخواست پر انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا تھا۔
اس سے قبل احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔
بعد ازاں تینوں مجرمان نے اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں جس پر کئی سماعتوں کے بعد 19 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔ایون فیلڈ ریفرنس کی سزا معطلی کے بعد العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی طویل سماعتیں احتساب عدالت میں ہوئی تھیں اور 19 دسمبر 2018 کو جج ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے 24 دسمبر کو سنایا گیا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے