پنجاب میں وزراء کے ماتحت محکموں کی کارکردگی رپورٹ تیار

وزیر صحت،بلدیات سمیت 20سے زائد وزراء کے ماتحت محکموں کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار


لاہور: پنجاب میں وزراء کے ماتحت محکموں کی کارکردگی رپورٹ تیار کرلی گئی،20 سے زائد وزراءکے ماتحت محکموں کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے ماتحت محکمہ صحت کی کارکردگی 33فیصد ، صوبائی وزیر بلدیات عبدالعلیم خان کے ماتحت بلدیات کی کارکردگی 21 فیصد رہی، صوبائی وزیر انسانی حقوق اور اقلیت امور اعجازعالم مسیح کے محکمے کی کارکردگی صفر ،صوبائی وزیر اوقاف اینڈ مذہبی امور پیر سعید الحسن کے ماتحت محکمے کی صفر کارکردگی رہی ، جبکہ صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کے ماتحت محکمہ انڈسٹری اینڈ کامرس کی کارکردگی 19 فیصد رہی۔
صوبائی وزیرویمن ڈویلپمنٹ آشفا ریاض کے ماتحت محکمے کی کارکردگی22فیصد ، صوبائی وزیر سپیشل ایجوکیشن محمد اخلاق کے محکمے کی کارکردگی 27، صوبائی وزیرلیبر اینڈ ایچ آر ڈیپارٹمنٹ انصر مجید خان نیاز ی کے محکمے کی کارکردگی 28 ،صوبائی وزیر سیاحت یاسر ہمایوں کے محکمے کی کارکردگی 31 ، صوبائی وزیر سوشل ویلفییر اینڈ بیت المال محمد اجمل کے محکمے کی کارکردگی 37فیصد رہی۔
اسی طرح صوبائی وزیر آبپاشی محمد محسن لغاری کے محکمے کی کارکردگی 38،صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری کے محکمے کی کارکردگی 39 فیصد،صوبائی وزیر جنگلات وائلڈ لائف اینڈفشریز کی کارکردگی49 اورصوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز حافظ عمار یاسر کے ماتحت محکمے کی کارکردگی 17 فیصد رہی ، صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک کے محکمے کی کارکردگی 10 فیصد رہی۔

ذرائع کا کہناتھاکہ پنجاب میں ٹاپ 10 صوبائی محکموں کی بہتر کارکردگی میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ محمد جہانزیب خان کچی ، صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس ، صوبائی وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید ، سردار آصف نکئی ،صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال ، سردار حیسن درشیک ، صوبائی وزیر لٹریسی راجا راشد حفیظ ، صوبائی وزیر کھیل محمد تیمور خان اور صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن کے ماتحت محکمے شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے تمام صوبائی محکموں کے لیے238 ارب مختص تھے ،14 کھرب کا بجٹ صوبائی محکموں کو جاری کیا گیاجس میں91 ارب استعمال ہوئے ۔یہ رپورٹ جلد وزیراعظم عمران خان کو پیش کی جاۓ گی

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے