سچی اور کھری صحافت کا راجہ رخصت ہوا

راجہ اورنگزیب ”سنجیدہ لاٹ“کے آخری رپورٹر تھے

لاہور ایک اور راجے سے محروم ہوگیا

گلوبل پنڈ :محمد نواز طاہر


لاہور کبھی ٹریڈ یونین کا مرکز رہا ہے ، یہاں صحافی ، دانشور اور سیاسی کارکن گفتگو اور جدوجہد میں شریک رہے ہیں ، یہ سارے کے سارے اختلاف رائے کے باوجود باہم احترام کے رشتے سے بندھے رہے ۔ ان کے رشتے صرف موت نے ہی توڑے اور ایسے توڑے کے بس ریشم کی گرہ ہی کھل گئی اور سب گرتے گئے ۔ مالا کے موتیوں میں سے ایک راجہ اورنگزیب بھی آج ہم نے عدم آباد رخصت کردیے ہیں ، موت کو دلہن بنانے سے پہلے وہ مائیوں بیٹھنے کیلئے دو دن پہلے پریس کلب آئے ، دوستوں اور جونئیرز کی مجلس میں وہ دلہے کی طرح ہی تھے ، انہوں نے دوستوں میں محبت اور شفقت بانٹی اور پھر اگلے روز انہیں غمگین کرگئے ۔
راجہ اورنگزیب ’سنجیدہ لاٹ‘ کے آخری رپورٹر تھے ۔انہوں نے بہت محنت کی مگر اپنے جیسا کوئی پیدا نہ کرسکے ، ان کےساتھ بیٹھنے والوں میں سے کوئی اصولوں سمیت ان کے جیسے اوصاف اور خواص نہ پاسکے ، اسے بدقسمتی ہی قراردیا جاسکتا ہے ۔
میں راجہ اورنگزیب کو بہت زیادہ نہیں جانتا ، تینتیس برس کی شناسائی اور بتیس سال کی شفقت حاصل کی ہے ۔ بحیثیت رپورٹر ان کے ساتھ کئی ایونٹ کور کئے ، ان کی موجودگی میں بات ( سوال) کرنے کی جرات نہیں ہوتی تھی ، جن لوگوں کے ساتھ گفتگو میں ان کی بحث ہوا کرتی تھی ان میں سے بھی زیادہ تر اب دنیا میں نہیں رہے جن میں نوابزادہ نصراللہ خاں ، پروفیسر این ڈی خان ، مختار اعوان ، شیخ رفیق احمد ، شیخ رشید احمد ، ملک قاسم ، جہانگیر بدر ، معراج محمد خان ، اجمل خٹک قابلِ ذکر ہیں ۔
راجہ اورنگزیب صرف خبر بنانے کیلئے سوال نہیں کیا کرتے تھے ، وہ نظریے ، ملک اور قوم پر اثرات کے حوالے سے سوال اٹھایا کرتے تھے ، ظاہر ہے کہ پاکستان میں نظریہ رفتہ ،رفتہ اور پھر اچانک مفادات کے سونامی میں مارا گیا اس لیے اب ان جیسی گفتگو اور سوال ناپید ہوگئے ہیں ، اگر یہ کہا جائے کہ راجہ صاحب اپنے وصف کے رپورٹرز قبر میں لے گئے ہیں اور اب باقی کوئی نہیں بچا تو یہ درست ہوگا ، انہوں نے آخری مرتبہ سلمان تاثیر کے اخبار” آج کل ‘‘ کے شعبہ رپورٹنگ کی سربراہی سنبھالی تو آج کے دور کے ان کے ساتھ کام کرنے والے کئی رپورٹر ان سے ناراض دکھائی دیتے تھے ، وہ رپورٹنگ اور خبر کے اصولوں پر کمپرومائز نہیں کرتے تھے جو آج کے’ پیدائشی استادوں ‘کیلئے قابل قبول نہ تھا ۔ وہ تجزیئے میں بھی ڈنڈی مارنے کے قائل نہیں تھے ، سماجی پہلوؤں پر بھی گراس روٹ کی نمائندگی کرتے تھے ۔
پوری زندگی ٹریڈ یونین میں گذاری ،پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر بھی رہے اور اس حد تک اصولوں پر کاربند رہے کہ پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے دوران ’’مساوات“کے ہمارے دو ساتھی رپورٹر راشد بٹ اور اسد منیر بھٹی ( مرحومین) کو راولپنڈی میں گرفتار کرلیا گیا تو انہوں نے ان کی گرفتاری پر یونین کی طرف سے اُس وقت تک مذمتی بیان جاری نہیں کیا جب تک یہ یقین نہ کرلیا کہ وہ ( بٹ این ایس ایف اور بھٹی پی ایس ایف کے متحرک کارکن رہے تھے )ڈیوٹی پر ہی گئے تھے پیپلز پارٹی کے جیالوں کی حیثیت سے لانگ مارچ میں شریک نہیں تھے، راجہ صاحب کی اس احتیاط پر ساتھیوں نے ناراضی کا اظہار بھی کیا یہاں تک کہ کچھ نے یونین کے عہدوں سی استعفیٰ بھی دیدیا ، دو استعفے تو خود میں نے اپنے ہاتھ سے تحریر کئے جن میں سے ایک استعفیٰ اویس اطہر ( مرحوم ) کا بھی تھا لیکن راجہ صاحب اپنے اصولوی موقف پر ڈٹے رہے جسے ہم تمام جونئیرز نے بعد میں تسلیم بھی کیا اور ان سے معذرت بھی کی۔ کراچی کے بوائے سکاؤٹ کیمپ میں پی ایف یو جے کی دھڑوں میں تقسیم کے بعد یونی فکیشن کے عمل میں بھی انتہائی فعال کردار ادا کیا ، اتحاد نہ ہوسکا تو انہوں نے اپنے ہی دھڑے کے الیکشن کروانے کیلئے الیکشن کمیٹی کی سربراہی سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ان سے یہ کام نہیں ہوسکے گا، اب میرا جگرا نہیں کہ میں ٹکڑوں کے الیکشن کراؤں ، پھر یہ ذمہ داری جلیل حسن اختر راجہ نے ادا کو جو گذشتہ برس ہمیں سوگوار چھوڑ گئے ۔
راجہ اورنگزیب صرف لاہور نہیں لاہور سے باہر صحافتی حلقوں میں بھی اپنا ایک خاص مقام رکھتے تھے خاص طور پر کراچی میں دوران گفتگو انور سن رائے باقی سب سے پہلے راجہ اورنگزیب کی خیریت دریافت کرتے ۔
اب ہم کسی وقت راجہ اورنگزیب کے تعزیتی ریفرنس کا ’ فرض ‘ ادا کریں گے ، باتیں کریں گے اور پھول بھول جائیں گے جس طرح ہم صحافت ، رپورٹنگ اور پیشہ وارانہ فرائض بھول گئے اور اپنے اسلاف کے کے اصول بھول گئے ہیں ۔۔۔
راجہ صاحب! آپ ہمیں یاد آتے رہیں گے ، جب جب کہیں کوئی اصول توڑے گا یا کوئی کسی اصول پر ڈٹ جائے گا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے