نامور شاعر سیماب اکبر آبادی جن کے مزار کا نشان تک نہ رہا

حکیم خلیق الرحمان

سیماب اکبر آبادی مزار قائد کے احاطہ میں آسودہ خاک ہیں

حکیم خلیق الرحمان


جب مزارِ قائد کے ارد گرد ”انہونی مخلوق“نے قبضے جمائے تو بہت سی قبریں بھی غائب کر دی گئیں اور زمین برابر کر دی۔ارادے تو قبضہءِدوام کے تھے لیکن حالات نے پلٹا کھایا۔زمین کا بڑا حصہ واگزار تو ہو گیا لیکن بہت سے اہم نام قرطاسِ خاک سے حذف ہو چکے تھے ان میں علاّمہ سیماب اکبر آبادی کا مزار بھی شامل ہے۔ اب وہاں سوائے ویرانی اور بےنام سی اداسی کے اور کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ اکبر آباد کا نام جب بھی بصارت و سماعت سے ٹکراتا ہے سیماب اکبر آبادی کا اِسمِ گرامی اور ان کے تخیّلات ایک ایسے تصوّر کو جنم دینے لگتے ہیں جو آج بھی شعری دنیا کے ساتھ ساتھ روحانیت کی دنیا کا پتہ دیتا ہے ۔ سیماب اکبر آبادی جناب داغ کے شاگرد تھے اور خود سیماب اکبر آبادی کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ حضرَت بیدمؔ وارثی رح ، علاّمہ سیماب اکبر آبادی اور جناب قمر جلالوی کے کلام نے بالترتیب قوالی کی صنف کو عام سماعتوں تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جب تک دنیا قائم ہے علامہ سیماب اکبر آبادی کا کلام بھی زندہ رہےگا۔ انہوں نے وفات سے قبل قرآن مجید کا منظوم ترجمہ مکمل کیا تھا جو منظر عام پر نہ آسکا۔
نسیمِ صُبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہو گی
کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہو گی
یہ غزَل آج بھی ہر محفل کو عروج سے ہمکنار کر دیتی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے