اورنگزیب راجہ،صحافت کا گوہر تابدار

مرحوم صحافی تنظیموں کی موجودہ زبوں حالی اور ان کے مختلف حصوں میں بٹ جانے پر دل گرفتہ رہتے تھے

اورنگزیب راجہ ،صحافت کا گوہر تابدار
——————————-

—————–

راجہ صاحب سے یوں تو شناسائی کم و بیش تیس پینتیس سال سے تھی لیکن یہ صرف سلام دعا تک محدود تھی ان سے دوستی ابھی نہیں ہوئی تھی۔جسے دوستی اور تعلق ِ خاطر آپ کہہ سکتے ہیں وہ اس دور میں ہوا جب وہ ” ڈیلی آبزرور“اسلام آباد کے لیے لاہور کے بیوروچیف مقرر ہوئے۔ فاطمہ جناح رو ڈ پر چوک قرطبہ کے قریب واقع پلازے کی بالائی منزل میں ان کا دفتر تھا جہاں ان سے ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔یہ ملاقاتیں بھی ہفتے میں ایک آدھ دن ضرور ہوا کرتی تھیں۔تاہم یہ دوستی اور تعلق وقت گزرنے کے ساتھ مستحکم ہوتا چلا گیا ۔دوستی کی بنیاد تو پیشہ صحافت ہی تھی لیکن صحافت سے ہٹ کر بھی ہمارے درمیان احترام اور پیار کا رشتہ استوار ہو گیا تھا اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ راجہ اورنگزیب ایک بڑے صحافی تو تھے ہی لیکن اس سے بڑھ کر وہ ایک بلند کردار شخصیت کے مالک بھی تھے۔وہ اپنے فرائض منصبی نہایت دیانتداری اور احساس ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے تھے۔عام حالات میں وہ ایک نرم طبیعت ، نرم خو اور نرم دل انسان تھے لیکن جب کہیں اصولوں اور نظریات کا معاملہ ہوتا وہ چٹان کی طرح سخت ہوجاتے ۔اصولوں اور نظریات سے ان کی کمٹمنٹ اس قدر مضبوط تھی کہ وہ ان پر کمپرو مائز نہیں کرتے تھے۔ضیاء الحق کے دورنامسعود میں صحافت اور اہل صحافت پر جب کڑا وقت آیا اور آزادیءصحافت اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی تو یہی نرم خو اور نرم دل راجہ صاحب ایک ٹریڈ یونینسٹ بن کر ابھرے اور آزادئ صحافت کی جدوجہد میں پیش پیش دکھائی دیے۔وہ منہاج برنا ، نثار عثمانی ، آئی ایچ راشد، حسین نقی ایسے عظیم صحافی رہنماؤں کے شانہ بشانہ اس جدوجہد میں شریک رہے ۔اس راہ میں انہیں مسائل و مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا بے روزگاری کا عذاب بھی سہنا پڑا لیکن وہ ان سب مشکلات اور آزمائش و ابتلاءمیں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہے ۔وہ اپنے نظریات میں کس قدر پختہ اور کمٹڈ تھے اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ”مساوات“ کے دور میں ان کے ایک سینئر ساتھی عباس اطہر ( مرحوم ) نے جب انتظامیہ کا ساتھ دیا تو راجہ صاحب ان کے مقابل کارکن صحافیوں کے ساتھ جڑے رہے اور احتجاجی تحریک کے ہراول دستے میں شامل رہے ۔ ( کراچی سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور ٹریڈ یونیسٹ احفاظ الرحمان صاحب کی آزادی صحافت کی اس تاریخی جدوجہد کے حوالے سے جو کتاب گزشتہ سال منظر عام پر آئی تھی اس میں ایک باب راجہ اورنگزیب صاحب کا تحریر کردہ بھی تھا جس میں مجھے بھی راجہ صاحب کی معاونت کا اعزاز حاصل رہا )۔
ان کی اسی جرائت مندی ، صاف گوئی اور کمٹمنٹ نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ محترم آئی ایچ راشد ( مرحوم ) جب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے ) کے صدر تھے تو راقم پنجاب یونین آف جرنلسٹس ( پی یو جے ) کا سینئر نائب صدر اور راجہ جلیل حسن اختر اس کے صدر تھے ۔چنانچہ اس دوران راجہ اورنگزیب صاحب سے دوستی اور قربت مزید بڑھ گئی اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ ہر روز دن کا آغاز ان کے ساتھ السلام علیکم کے ساتھ ہوتا تھا ۔ان سے دن بھر کے شیڈول کے بارے دریافت کیا جاتا اور پھر اس کی روشنی میں ملاقات کی سبیل پیدا کی جاتی تھی ۔ نہ جانے راجہ صاحب کی شخصیت میں کیا کشش تھی کہ ان سے ملنے والا ہر شخص ہی انہیں اپنا دوست ،ہمدرد اور خیر خواہ تصور کرتا تھا ۔ مجھے اپنے اس تمام عرصہ ء دوستی کے دوران شعبہ صحافت میں ایسے با کردار ، با اصول اور اپنے نظریات سے وابستگی رکھنے والے راست باز کم کم ہی افراد ملے جیسے راجہ صاحب تھے ۔
ذہنی و فکری ہم آہنگی نے ان کے ساتھ تعلق کو اس قدر مضبوط کر دیا تھا کہ ہر ایشو پر ہم مشاورت کرتے بعض اوقات اختلاف رائے بھی پیدا ہو جاتا لیکن اپنے اپنے دلائل کی بنیاد پر بحث و تمحیص کے بعد ہم کسی ایک نکتے پر اکھٹے ہو جاتے تھے ۔ راجہ صاحب سے صحافت کے مختلف پہلووں پر گفتگو ہوتی ۔ آزادی صحافت کے حوالے سے ماضی میں کی جانے والی جدوجہد اور اس کے پس منظر میں حال کی صورت حال اکثر ہمارا موضوع گفتگو ہوتی ۔میری طرح وہ بھی صحافی تنظیموں کی موجودہ زبوں حالی اور ان کے مختلف حصوں میں بٹ جانے پر دل گرفتہ اور رنجیدہ خاطر رہتے تھے۔ انہیں دکھ تھا کہ صحافت میں بعض کالی بھیڑوں کے در آنے اور پی یو جے اور پی ایف یو جے ایسی معتبر تنظیموں میں مفاد پرست عناصر کی مناقشانہ سرگرمیوں اور سیاست کی کارفرمائی نے صحافیوں کے اس موقر پلیٹ فارم کو آلودہ کر کے رکھ دیا ہے ۔انہوں نے اصلاح احوال کے لیے متعدد مرتبہ اپنے قابل ،فخر ساتھیوں جناب حسین نقی ، جناب عظیم قریشی ، جناب تنویر زیدی ، راجہ جلیل حسن اختر ( مرحوم ) ، نواز طاہر ، میاں ندیم اور ایسے ہی دیگر دوستوں کے ساتھ پر خلوص کوشش کی ۔ ان میں اتحاد کا ڈول ڈالا اور طویل مکالمے اور بات چیت کا سلسلہ شروع کیا اور ایک با اعتماد اور سب کے لیے قابل قبول باڈی کی تشکیل کے لیے نیک نیتی کے ساتھ کوششیں بھی کیں۔میں بھی ان تمام کاوشوں میں ایک صلاح کار اور معاون کے طور پر ان کے ساتھ رہا لیکن افسوس ان کی تمام کوششیں اور کاوشیں اکارت گئیں اور صحافیوں کی ایک متفق علیہ تنظیم کے قیام و تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور آخر کار مایوس ہو کر انہوں نے یہ بھاری پتھر چوم کر ایک طرف رکھ دیا ۔
راجہ صاحب ایثار پیشہ اور بڑے خود دار شخص اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے وہ اپنے چھوٹوں سے بھی بڑی شفقت کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے۔اپنے علم ، تجربے ، لیاقت اور مہارت کے باوجود وہ میرے جیسے کم علم اور کم درجے کے لوگوں سے بھی التفات فرماتے ۔اپنی تحریروں کے بارے میں رائے لیتے اور پھر اس کو وزن بھی دیتے تھے۔راجہ صاحب نے اس فقیر کے ساتھ متعدد منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کرنے کے لیے ذہن سازی کر رکھی تھی جن میں سے بعض زیر عمل تھے اور بعض ابھی پائپ لائن میں تھے اور ایک دو میں پیش رفت بھی ہو چکی تھی ۔ راجہ صاحب نے اپنے اخبار ( روزنامہ جناح ) کے لیے ملک کی سیاسی ، علمی اور سماجی شخصیات کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا تھا تو یہ فقیر بھی ان کے ساتھ ہوتا تھا ۔ہم نے سابق چیف جسٹس اسلامی نظریاتی کونسل جسٹس (ر) سید افضل حیدر ، ڈاکٹر مبشر حسن ، عابد حسن منٹو اور خورشید احمد سمیت متعدد شخصیات کے انٹرویوز کیے جو شائع بھی ہوئے ۔چند ماہ قبل انہوں نے پاکستان کی پارلیمانی تاریخ اور حکومتوں کے کردار کے حوالے سے سلسلہ ء مضامین شروع کیا تو اس میں مشاورت کرتے رہے ۔ان مضامین کو کتابی صورت میں شائع کرنے کے لیے وہ ان پر نظر ثانی کرنے اور انہیں اپ ڈیٹ کرنے کے بعد انہیں فائنل شکل دے رہے تھے ۔جس کا مسودہ انہوں نے مجھے بھی دکھایا تھا ۔ان دنوں وہ پاکستان کی انتخابی تاریخ کے حوالے سے بھی لکھ رہے تھے اور اس ضمن مجھے بھی ایک دو اسائنمنٹس سونپ رکھی تھیں ۔ لیکن افسوس ان کی اچانک رحلت نے ان کے ساتھ ان تمام منصوبوں اور پروگراموں پر بھی منوں مٹی ڈال دی ہے ۔ان کی وفات سے جہاں صحافت ایک جری ، با اصول اور با کردار شخصیت سے محروم ہوگئی ہے وہاں جناب عظیم قریشی صاحب ، سید تنویر زیدی صاحب ، ناصر شیخ صاحب ، پرویز الطاف صاحب ، عمران شیخ صاحب ، ہارون عباسی صاحب ، تسلیم احمد تصور صاحب اور یہ فقیر پریس کلب کی بیٹھک کے اپنے ایک مستقل ساتھی سے محروم ہو گئے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے راجہ اورنگزیب نے جس طرح باوقار انداز سے زندگی بسر کی اور جس انداز میں داعی ء اجل کو لبیک کہا اس کے پیش نظر یہ بات بلا مبالغہ طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ان کی زندگی بھی قابل ِ رشک تھی اور ان کی موت بھی قابل ِ رشک ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے بے حساب مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔( آمین ثم آمین )

(اپنے دوست اور عظیم صحافی و دانش ور اورنگزیب راجہ صاحب کی اچانک وفات پر دل گرفتگی کے عالم میں لکھی گئی یہ سطریں کوئی ادبی تحریر نہیں محض انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔شہباز انور خان،مدیراعلی قافلہ نیوزڈاٹ کام )

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے