05فروری کشمیریوں سے محبت اور یکجہتی کے اظہار کا دن

خصوصی رپورٹ

05 فروری’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘

تحریر: مقصود احمد میر

(آفیسر اطلاعات،مظفرآباد)

 


کشمیر کی دھرتی شہیدوں کے لہو سے سرخ ہے۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں سات دھائیوں کا طویل سفر اور تین نسلوں کا خون شامل ہے جو اس وادی کو آزادی کی قیمت ادا کرتے نہیں تھکتے اور نہ کبھی آزادی دلانے تک تھکیں گے ۔ 5فروری کو پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر مناتی ہے ۔ اس دن کو منانے کا مقصد کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ دنیا کو اس تحریک کی جانب متوجہ کرنا ہوتا ہے ۔
آزاد جموں وکشمیر حکومت جو کہ تحریک آزادی کے بیس کیمپ کی حکومت کہلاتی ہے نے ہمیشہ کشمیریوں کی آواز بلند کی اور اس سلسلہ میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی پاکستانی قوم اور حکومت ۵فروری کو یوم ’’ یکجہتی کشمیر ‘‘اس عہد کی تجدید کے ساتھ منارہی ہے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق ،حق خودارادیت نہیں مل جاتا اس وقت تک حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کشمیریوں کی سیاسی ،سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری ر کھیں گے اور انہیں کسی موڑ پرتنہا نہیں چھوڑا جا ئیگا۔اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد ایک طرف پاکستانی اور کشمیری عوام کا اظہار یکجہتی کرنا اور دوسری طرف عالمی برادری کو باور کرانا ہے کہ ہند وستان نے مقبوضہ کشمیر پر جو جابرانہ اور غاصبانہ تسلط قائم کرکے ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو خونی لیکر کے ذریعے تقسیم کررکھا ہے اسے کشمیری کسی صورت قبول نہیں کرتے ۔کشمیریوں کے مسلمہ حق خودارادیت کے حصول کے لئے پاکستان کی حکومت ،افواج اور عوام نے ہمیشہ کشمیری عوام کی سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی سطح پر جو بھرپورحمایت کر کے مضبوط موقف اختیار کیا ہوا ہے اس کے باعث مسئلہ کشمیربین الاقوامی دنیا میں زندہ ہے ۔

 

پانچ فروری کوپاکستانی حکومت اور عوام کشمیریوں سے اپنی محبتوں کا والہانہ اظہارکرتے ہیں ۔ وزیرا عظم آزادکشمیر کی خصوصی ہدایت پر آزاد ریاست میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جارہاہے ۔ آزادکشمیر کے تمام ڈویژنل و ضلعی ہیڈ کوارٹرز سمیت تمام شہروں میں یوم یکجہتی کے حوالہ سے تقاریب، ریلیوں اور جلسے جلوسوں کا اہتمام کیا جائیگا ۔5فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پورے آزادکشمیر میں عام تعطیل ہو گی ۔ کشمیر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ٹھیک 10:00بجے دن ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی جبکہ آزادکشمیر کو پاکستان سے ملانے والے انٹری پوائنٹس کوہالہ ،آزاد پتن ،برار کوٹ ہولاڑ، منگلا پل پر انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنائی جائیں گی جس میں دونوں اطراف کے عوامی نمائندے اور عوام الناس شریک ہونگے ۔5فروری کی دوپہر کوPNCAکے زیرا ہتمام اسلام آباد میں سٹیج ڈرامہ’’اے میرے کشمیر‘‘ کا انعقاد ہو گا۔ 5فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد ہو گا جبکہ مورخہ4فروری کو وزراء کرام متعلقہ اضلاع میں مہاجرین کیمپس کا دورہ کرینگے اور مہاجرین میں راشن تقسیم کرینگے ۔
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر جموں وکشمیر لبریشن سیل کے زیرا ہتمام شائع ہونے والا میگزین’’ کشمیر ٹوڈے ‘‘ اور ’’تہذیب‘‘ کے خصوصی ایڈیشن شائع کیے جائینگے ۔ جموں وکشمیر لبریشن سیل کے زیرا ہتمام اس حوالہ سے دستخطی مہم اور طلباء و طالبات کو مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم اور یوم یکجہتی کشمیر کے بارے میں آگاہی کی خاطر ’’آگاہی مہم ‘‘ چلائی جائے گی۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر تمام اضلاع میں ریلیوں کا انعقاد کیا جائیگا ،ریلیوں میں پیلٹ گن کا شکارکشمیریوں بھائیوں کی تصاویر کو بین الاقوامی میڈیا تک پہنچانے کیلئے اقدامات کیے جائینگے۔

چھتر کے مقام پر نصب شدہ سکرین میں مورخہ4اور5فروی کو خصوصی ڈاکو منٹریز چلائی جائیں گی جبکہ تمام اضلاع میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے بینرز بھی نصب کیے جائینگے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیرمیں موجودرکاوٹوں کودورکرنے کے لیے ہمہ وقت کوششوں کوتیزترکرنے کیلئے اپنی صلاحتیں بروئے کار لائی جائیں۔عالم اسلام کے فورم اقوام متحدہ اوربڑی طاقتوں کواس مسئلہ کے حل کی طرف متوجہ کرکے ہی معاملہ کاحل قریب ترلایاجاسکتاہے۔یوم یکجہتی کشمیرمنانے کامقصدمقبوضہ کشمیرکوبھارتی چنگل سے آزادکرواکرپورے کشمیرکاالحاق پاکستان کے ساتھ کرنا ہے۔ہمارے بزرگوں نے کشمیرکاالحاق پاکستان کے ساتھ کرکے ایک دانش مندی کاثبوت دیاہے جوزلزلہ آٹھ اکتوبرکودیکھنے میں آیاکہ پاکستان کی مسلح افواج عوام اورسول سوسائٹی نے متاثرین کی دل کھول کرمددکی اورانہیں دوبارہ تعمیرنوکے مراحل سے گزارا ہے پاکستان کی بقاوسالمیت کشمیرکی آزادی کی ضامن ہے ۔ہمارے بزرگوں نے اس وقت تک مقبوضہ کشمیرکی آزادی کے لیے جوقربانیاں دی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ یوم یکجہتی کشمیرکے اغراض ومقاصداسی وقت حاصل ہوں گے جب ہم اپنے اسلاف کے ادھورے چھوڑے ہوئے مشن کی تکمیل کیلئے مشترکہ کوششیں کریں گے۔پاکستان مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کواقوام متحدہ اوردیگراداروں میں بے نقاب کرکے کشمیریوں سے یکجہتی کاسرعام اظہارکرتاہے ایک طرف کشمیرکے دریاؤں سے بہتاہواپانی پاکستان کی زمینوں کوسیراب کرتاہے تواسی پانی سے پنجاب کے کھیتوں کی ہریالی اورپھرہماری غذائی ضروریات کوپوراکرنے کے لیے گندم ہویاچاول واپس کشمیریوں کی خوراک کاذریعہ بنتے ہیں ۔زلزلہ ہویاپھرکوئی اورایشو یاکنٹرول لائن پرشہیدہونے والے آزادکشمیرکے نہتے شہریوں کی امدادہو پاکستانی حکومت پاکستانی عوام نے بڑھ چڑھ کرہمیشہ کشمیریوں کی دادرسی کی ہے ۔مشکل کی ہرگھڑی میں پاکستانی خواتین نے اپنے زیورات تک کشمیریوں کی مدد کے لیے دے دیئے۔ کنٹرول لائن پرکھڑا افواج پاکستان کاسپاہی کشمیریوں کی عزت وآبروکے لیے چوبیس گھنٹے اپنے فرائض سرانجام دے کرکشمیریوں سے پیارومحبت کارشتہ نبھارہاہے ۔پاکستانی عوام اورکشمیریوں کارشتہ دن بدن مضبوط ہوتاجارہاہے ۔پاکستان سے والہانہ محبت کے لیے کشمیریوں نے اپنی جانوں تک کی قربانیاں دی ہیں۔ کشمیر ہمیشہ سے پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ رہا ہے ۔قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ۔ہردور میں پاکستان میں برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے ہمیشہ کشمیریوں کی ہر سطح پرسیاسی وسفارتی حمایت جاری رکھی ۔مسئلہ کشمیر زمین کے ٹکڑے کا تنازعہ نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑانسانوں کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے۔جب تک کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق خودارادیت نہیں مل جاتا کشمیری اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ دنیا کو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کروانے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تب ہی جاکرجنوبی ایشیاء میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے