وکٹ کے پیچھے بولنے کی عادت تبدیل نہیں کرسکتا:سرفراز

سپورٹس ڈیسک | 03 فروری 2019

کراچی : پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ وکٹ کے پیچھے بولنا عادت ہے جو تبدیل نہیں کرسکتا، صرف ایک لفظ کو لے کر مسئلہ بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سرفراز احمد نے جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں متوقع شکست کو دیکھتے ہوئے غصے کے عالم میں جنوبی افریقہ کے آل راؤنڈر ایندائل فلکوایو پر ‘نسل پرستانہ’ جملے کہے تھے جس کو براہ راست سنا گیا تھا۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر قومی ٹیم کے کپتان پر 4 میچوں کی پابندی عائد کردی تھی۔
سرفراز احمد نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کی کپتانی کے لیے مجھے پہلے بھی گرین سگنل تھا، اور امید ہے کہ آگے بھی ہوگا۔
سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ میچ کے دوران کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے، وکٹ کے پیچھے بولنا عادت ہے اورعادت تبدیل نہیں کرسکتا۔آئندہ میچز میں شعیب ملک کو ہی کپتان برقرار رکھنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کا کپتان کوئی بھی ہو، پاکستان کے لیے کھیلتے رہیں گے، ٹیم کو سپورٹ کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے صرف ایک الفاظ کو لے کر مسئلہ بنایا گیا میں نے فلیکوایو کو سمجھایا کہ کچھ غلط نہیں کہا اور اس سے معذرت بھی کی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام ٹیم ممبر مجھے سپورٹ کرتے ہیں اگر اللہ نے چاہا تو کم بیک ضرور ہوگا۔انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا معاملے پر سپورٹ کرنے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’محنت کررہا ہوں، موقع ملا تو بہتر کارکردگی دکھاؤں گا اور کوشش کروں گا کہ جو غلطیاں ہوئیں وہ آئندہ نہ ہوں‘۔ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی کپتانی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’فیصلہ پی سی بی نے ہی کرنا ہے اللہ نے چاہا تو ورلڈ کپ میں ضرور کپتان ہوں گا‘۔
ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کے انتخاب کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جوٹیم کے لیے بہترین ہوگا وہ ورلڈ کپ کھیلے گا۔ان کا کہنا تھا کہ تمام لڑکے بہت اچھے ہیں، ایک دوسرے کوسپورٹ کرتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے