ہاں میں صحافی ہوں

محمد عثمان جامعی،کراچی

ہاں میں صحافی ہوں

محمد عثمان جامعی


ستم کی خبریں لاتا ہوں
جَکڑتے بھینچتے افلاس
کی تصویر دیتا ہوں
غضب ڈھاتی ہوئی بے کاری
پر مضمون لکھتا ہوں
کسی بچے کے بھوکے پیٹ
کو بھرنے کی خاطر ماں کے بک جانے
مٹاکر بھیڑیوں کی بھوک روٹی لے کے گھر آنے
کسی بھی خواب کے اسکول کی چوکھٹ پہ مرجانے
دوا کے منہگے ہونے کے سبب بستر پہ اک مُدت تڑپنے پھر گزرجانے
کے سارے المیے تحریر کرتا ہوں

اٹھاکر کیمرا ہر ظلم کا منظر دکھاتا ہوں
ہر اک سفاکی اور ہر ظلم کے تیور دکھاتا ہوں
مصائب جھیل کر میں جانے کیا کچھ کر دکھاتا ہوں

مگر یہ بھول جاتا ہوں
کہ بے قیمت و بے وقعت ہوں میں اتنا
اگر ”مالک“ ذرا بھی دھندے میں وارا نہ پائے گا
جو کاروبار اس کا ایک دن بھی نیچے آئے گا
گلے میں لٹکا میرا کارڈ مجھ سے چھینا جائے گا
مجھے دفتر کے دروازے سے ہی لوٹایا جائے گا
مجھے اک بوجھ کہہ کر رد کیا دھتکارا جائے گا
اٹھا کر پھینکا جاﺅں گا میں بے کاری کے کوڑے پر
مجھے افلاس کی دیوار پر دے مارا جائے گا

میں یہ بھی بھولا رہتا ہوں
کہ کتنے ماہ کی تنخواہ مری مالک پہ واجب ہے
مجھے کب یاد آتا ہے
کہ میں ایک ویشیا سے بھی گیا گزرا
جو اپنا معاوضہ بستر سے اٹھ کر سائڈ ٹیبل سے اٹھاتی ہے
ذرا کم ہوں جو پیسے اک قیامت وہ مچاتی ہے
میں یہ کہہ بھی نہیں سکتا
کہ یہ چینل کا مالک، مالکَ اخبار غاصب ہے

فراموشی کی حالت میں
ہر اک دن جاتا ہوں دفتر
قلم اور کیمرا، کی بورڈ
کا جب لمس ملتا ہے
مناظر، عکس اور الفاظ
کا پھر دور چلتا ہے
تو بس یہ یاد رہتا ہے صحافی ہوں
میں ہر مظلوم کے دکھ کی تلافی ہوں

ہاں میں صحافی ہوں

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے