ٹریفک حادثات کو کیسے روکا جاۓ؟

ضمیر آفاقی

چلتے پھرتے بم!


اگر کہیں سے حقیقی اعداد و شمار مہیا ہوسکیں تو معلوم پڑے گا کہ پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد دہشت گردی میں مرنے والوں سے کئی گنا زیادہ ہے، سلنڈر پھٹنے کے نتیجے میں ہونے والا حادثہ بھی تو دھماکہ ہی ہوتا ہے، جسے آپ سلنڈر دھماکے کا نام دیتے ہیں۔ روڈ ایکسیڈنٹ میں ہونے والے دھماکے میں کیونکہ بارود نہیں پھٹتا، اس لیے اس پر میڈیا، حکومت اور معاشرے کی نظر ویسے نہیں پڑتی اور نہ ہی اس طرح کا تاثر پیدا ہوتا ہے جیسے بم دھماکے کے بعد ہوتا ہے، حالانکہ کچھ حادثات میں ہونے والی ہلاکتیں کسی بھی بم دھماکے سے زیادہ ہوتی ہیں۔ ایسے میں سوال جنم لیتے ہیں کہ حادثات کی شرح کو کیسے کم کیا جائے، ان کے نتیجے میں ہونے والی اموات کو کیسے روکا جائے اور زخمیوں کی اذیتوں و تکالیف میں کمی کیسے لائی جائے۔ اس کے لیے سڑکوں کا درست اور ہموار ہونا، ٹریفک پولیس کو اپنے فرائض کا ادراک کرتے ہوئے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا (صرف چالان تک محدود رہنا نہیں)، شہریوں کی رہنمائی، چوک چوراہوں پر رش کو قابو کرنا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر قانون کے مطابق سختی کرنا چاہیے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ٹریفک وارڈن سب سے آسان کام ’’چالان‘‘ ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو کسی بھی اَن پڑھ، غیر تربیت یافتہ، عقل شعور نہ رکھنے والے کے ذمے بھی لگادیا جائے تو اس کی کارکردگی بھی ٹریفک پولیس والوں سے اچھی ہوگی۔
حکومت کے ٹرانسپورٹ سے متعلقہ محکمے اور وزارت کی ذمے داری ہے کہ وہ سڑکوں کی حالت زار، ٹریفک سگنلز کی خرابیوں اور بجلی کی ترسیل پر نظر رکھنے کے ساتھ شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والے عوامل پر کام کریں، لیکن ان محکموں اور وزارت کے پاس حادثات کا ڈیٹا ہی نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ یہ کھوج لگانے کی زحمت گوارا کریں گے، حادثات کی وجوہ کیا ہیں۔ ہسپتال جن کی بنیادی ذمے داری حادثے کے شکار مریضوں کی فوری دیکھ بھال ہونی چاہیے اور فوری طبی مداد پر توجہ دینی چاہیے، تاکہ اموات پر قابو اور زخمیوں کی تکلیف کا ازالہ ہوسکے، اس ضمن میں بھی ہم کوئی انسانی جان، اقدار اور حرمت کا خیال رکھتے دکھائی نہیں دیتے۔ اور یہی حال ہمارے تمام اداروں کا ہے۔ کسی بھی حادثے کے نتیجے میں اتنی ہلاکتیں نہیں ہوتیں جتنی ہمارے اداروں میں کام کرنے والے بے حس سرکاری افراد کی غفلت کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ حالانکہ موت کے عمل سے ان سب نے بھی گزرنا ہے اور ایسے ہی کسی حادثے یا واقعے کا شکار یہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں۔
ستم ظریفی تو یہ بھی ہے کہ بسوں، ویگنوں، رکشاؤں میں لگے ناقص سلنڈروں کی وجہ سے آئے روز کتنے حادثات ہورہے ہیں، کسی بڑے حادثے کے بعد حکومتی سطح پر ’’ہفڑا تفڑی‘‘ جیسی بے سود بھاگ دوڑ کے علاوہ عملاً اس کے انسداد کے لیے اب تک کیا ہوا ہے؟ سی این جی سلنڈروں کے پھٹنے کی وجہ سے کئی افراد کی اموات ہوچکی ہیں اور یہاں اب یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ٹریفک حادثے دنیا بھر میں ہوا کرتے ہیں، لیکن ایک تو پاکستان میں خراب سڑکوں کی وجہ سے ویسے ہی زیادہ حادثے ہوتے ہیں اور اس کے بعد زیادہ نقصان حادثے کے بعد سی این جی سلنڈرز کے پھٹنے، آگ بھڑکنے اور اس کے بعد طبی امداد میں تاخیر سے ہوتا ہے۔
سی این جی دنیا کے ہر ملک میں استعمال کی جاتی ہے لیکن وہاں ہماری طرح لاپروائی نہیں برتی جاتی، حادثات سے بچنے کے لیے گاڑیوں میں نصب سلنڈروں کی ہر سال جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ ہمیں میڈیا اور کچھ لوگ جو ذاتی طور پر تحقیق کا کام کرتے ہیں وہی اس ضمن میں اطلاع دیتے ہیں کہ پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ سی این جی استعمال کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، جہاں قریباً 29 لاکھ سے زائدگاڑیاں سی این جی پر چلتی ہیں۔ گاڑیوں کے زیادہ تر مالکان سی این جی سلنڈر تو لگوالیتے ہیں، لیکن ان کی باقاعدہ چیکنگ کروانا اپنی ذمے داری نہیں سمجھتے۔ ہر سی این جی اسٹیشن پر ہائیڈروکاربن ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کی جانب سے نوٹس لگا ہوتا ہے کہ بغیر ٹیسٹ کیے گئے سلنڈر میں سی این جی نہیں بھری جاسکتی، لیکن سی این جی ڈالی جارہی ہوتی ہے۔ اب اگر حادثہ ہوتا ہے تو اس کا ذمے دار کون ہوا؟ اور پھر جتنے سلنڈر گاڑیوں میں نصب ہیں، ان میں آدھے بھی معیار پر پورے نہیں اترتے، تو سڑکوں پر چلنے والی ایسی لاکھوں گاڑیاں چلتے پھرتے بم نہیں تو اور کیا ہیں، جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتے ہیں۔
کسی بھی شہر یا علاقے میں کسی بھی طرح کے بم کی اطلاع کے بعد وہاں کے تمام ادارے الرٹ ہوجاتے ہیں۔ بم ڈسپوزل، فائر بریگیڈ، پولیس انتظامیہ، ہسپتالوں میں ہائی الرٹ۔ لیکن لاکھوں بم یعنی غیر معیاری سلنڈروں کی حامل پبلک ٹرانسپورٹ کی صورت گاڑیاں شہریوں کو لیے آزادانہ گھوم رہی ہیں، جس پر کوئی توجہ نہیں، کیا یہاں بھی اچھے اور برے دہشت گرد والا فارمولا تو اپلائی نہیں ہورہا اور خدانخواستہ کسی بڑے حادثے کا انتظار تو نہیں کیا جارہا…؟ منی بسز، کوچز، رکشاؤں میں اضافی سلنڈرز موجود ہوتے ہیں جنہیں چھتوں پر رکھا ہوتا ہے اور خیر سے سگریٹ نوشی بھی ہورہی ہوتی ہے، ایک چنگاری سے کتنا بڑا دھماکہ ہوسکتا ہے بلکہ ہوتے رہتے ہیں۔ المیہ دیکھیے سکولوں سے لانے اور لے جانے والی ویگنوں، کیری ڈبوں اور رکشاؤں میں بھی غیر معیاری سلنڈرز استعمال ہورہے ہوتے ہیں اور جب کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے تو حکومت کی آنکھیں کچھ دیر کے لیے کھلتی ہیں اور پھر شور کم ہوتے ہی بند ہوجاتی ہیں۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ارباب اختیار مزید کن حادثوں کے منتظر ہیں۔ میں سمجھتا ہوں جتنے گناہ گار اور مجرم خودکُش بمبار بنانے اور دھماکے کرنے والے ہیں، اس سے کہیں زیادہ گنہگار اور مجرم غیر معیاری اور ناقص سلنڈر گاڑیوں میں فٹ کرکے چلانے والے ہیں اور اس کے ساتھ وہ تمام متعلقہ ادارے، محکمے اور افراد بھی ذمے دار ہیں جو معیار اور فٹنس کو چیک کرنے والے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اس کے متعلقہ تمام ادارے انسانی جان کو اہمیت دیتے ہوئے اس کے اتلاف کو کم سے کم کرنے پر توجہ دیں، انسان ایک بار ہی دنیا میں آتا ہے اور ہر انسان وہ بچہ، عورت، مرد، بوڑھا یا کسی بھی عمر کا ہو اپنے کنبے کا سہارا اور ملک کا مستقبل ہوتا ہے، جس کی حفاظت کرنا اور حادثات کی وجوہ کا کھوج لگانا اور ان اسباب کا تدارک کرنا جو حادثات کی وجہ بنتے ہیں، ہم سب خصوصاً حکومتی اداروں کا فرض ہے۔ پوری دنیا میں حادثے کے فوراً بعد مختلف امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ کر انسانی جانوں کو بچانے میں مصروف ہوتی ہیں جب کہ ہمارے ہاں بعض اوقات حدود اور پولیس کیس پر بحث ہورہی ہوتی ہے، حالانکہ سب سے مقدم انسانی جان کو بچانا ہونا چاہیے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے