اردو زبان و بیان اور ذرائع ابلاغ

خبریں پڑھنے والوں کا ادب کا مطالعہ بہت محدود ہے

اردو زبان اور ذرائع ابلاغ


  • فرحان احمد خان


  • بات ہو رہی تھی ذرائع ابلاغ میں صحت زبان پر ، سو ہمیں بھی اپنا حصہ ڈالنا تھا ۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر خواجہ زکریا کر رہے تھے ۔ اہل علم فکر مند تھے کہ ٹی وی پر اردو کافی غلط بولی جا رہی ہے۔ پٹیوں یعنی ٹکرز میں املا کی فحش اغلاط عام ہیں ۔ بعض لوگوں نے کہا کہ ٹی وی پر بیٹھے لوگ شعوری طور پر زبان کو برباد کرنا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
    میں نے کھڑے ہو کر صدر مجلس سے اظہار خیال کی اجازت طلب کی اور چند معروضات پیش کیں:
    1۔ میڈیا ہاؤسز کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ شعوری طور پر زبان برباد کر رہے ہیں ،درست نہیں۔ آپ اسے عدم توجہی یا غفلت کہہ سکتے ہیں۔ میڈیا کارپوریٹ انڈسٹری ہے ، اس شعبے میں ”مشرف ایسکسپلوژن“کے بعد چیزیں اتنی تیزی سے رونما ہونے لگیں کہ کسی کو صحت زبان کا خیال ہی نہیں آیا ۔اگر آیا بھی تو بہت محدود سطح پر۔انڈسٹری میں زبان اور بیان کی صحت کا درک رکھنے والے افراد کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔ جلدی خبر نشر کرنے کی خواہش نے اصلاح اور جانچ کے مراحل ختم کر دیے ۔ یہی وجہ ہے کہ براہ راست نشریات میں غلطیاں عام ہونے لگیں۔
    2۔ زبان میں ارتقا ہوتا رہتا ہے ۔ دوسری زبانوں کے الفاظ آتے رہتے ہیں ۔ انہیں مناسب ترامیم کے بعد جذب کر لیا جاتا ہے ۔ اردو اس حوالے سے قدرے فراخ دِل واقع ہوئی ہے ۔ یہ ٹریٹمنٹ کے بغیر بہت سارے الفاظ جو اپنے اندر سمو رہی ہے۔ دیکھیں میں نے ابھی ٹریٹمنٹ کا لفظ کس سہولت سے بول دیا۔۔۔ اگر بریکنگ نیوز ، ڈیڈ لائن وغیرہ کی بجائے اردو الفاظ استعمال کیے جائیں تو اجنبی لگیں گے۔
    3۔ یہاں پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے سنہری دور کی مثالیں دی گئیں ۔ اچھی بات ہے لیکن یہ ذہن میں رہے کہ اس وقت میڈیا ایسا کارپوریٹ نہیں تھا ۔ سخن شناس لوگ اس میڈیم کے لیے لکھتے تھے اور بولنے والوں کی تربیت بھی ہوتی تھی ۔ اب اس بے ہنگم ہجوم میں تربیت کی فرصت کسی میڈیا ہاوس کے پاس ہے اور یہ یہ ان کی ترجیح ہے۔ خبریں پڑھنے والوں کا ادب کا مطالعہ بہت محدود ہے جس کا نتیجہ سامنے آتا رہتا ہے۔
    4۔ اکثر یونیورسٹیوں میں ابلاغ عامہ کے شعبوں میں پڑھایا جانے والا نصاب انگریزی میں ہے ۔ اردو میں خبر کیسے لکھنی ہے ۔ فیچر کیسے بنانا ہے ۔ پڑھنا کیسے ہے ۔ تلفظ کی اصلاح کیونکر ممکن ہے ۔ اس کی تربیت نہیں ہوتی ۔ اکثر یونیورسٹیاں لڑکوں اور لڑکیوں کو ڈگریاں تھما کر انڈسٹری میں دھکیل رہی ہیں۔ سو ابلاغ عامہ کی تدریس سے متعلق لوگوں کو اس بارے میں بھی فکر کرنی چاہیے۔
    5۔ یہاں کسی نے کہا کہ ٹی وی پر بولنے والوں کا لہجہ ٹھیک نہیں ہوتا ۔ دیکھیں یہ اصرار درست نہیں کہ سب لوگ لکھنو کے لہجے میں بات کریں ۔ اگر کوئی شخص وزیرستان سے ہے تو اس کی اردو میں علاقائی آہنگ کا محسوس ہونا بری بات نہیں بلکہ میں تو اسے لازم سمجھتا ہوں ۔ ہاں گرائمر اور تلفظ کی بات ضرور کیجیے ، وہ بہر صورت ٹھیک ہونا چاہیے۔
    6۔ جہاں تک تعلق اردو اخبارات کا ہے ، میرا خیال ہے تمام بڑے اخبارات زبان کی صحت کا مقدور بھر خیال رکھتے ہیں ۔ اخبار کے پاس ٹی وی کی نسبت اشاعت سے قبل وافر وقت ہوتا ہے ۔ اس میں کاپیاں بار بار چیک ہوتی ہیں ۔ کئی فلٹرز سے گزرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اچھے اخبارات کے مضامین میں زبان کی غلطیاں نسبتاً کم ہوتی ہیں۔
    7۔ آخری بات یہ ہے کہ یہاں اہل علم ٹی وی پر زبان و بیان کا حلیہ بگاڑنے والوں پر سیخ پا ہیں ۔ میں ان کے جذبات کی قدر کرتا ہوں لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم ذرائع ابلاغ کے اداروں کو فیڈ بیک نہیں دیتے ۔ اگر آپ لوگ انہیں کسی غلطی پر ای میل، خط یا پھر فون کے ذریعے آگاہ کرتے رہیں تو انہیں بھی فکر لاحق ہو گی کہ یہ پہلو بھی قابل توجہ ہے ۔ ممکن ہے اس کے نتیجے میں کچھ سخن شناس حضرات کی خدمات بھی میڈیا ہاؤسز لے لیں اور بہتری کا امکان پیدا ہو۔


(نوٹ یہ مضمون حلقہ ارباب ذوق پاک ٹی ہاؤس کے اجلاس میں پڑھا گیا۔تصویر بشکریہ :جوائنٹ سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق بابر ریاض)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے