ایک کتاب ایک تذکرہ جو نا مکمل ہے

تبصرہ نگار: مہتاب قدر

ایک کتاب ایک تذکرہ جو نا مکمل ہے

*کتاب کا نام :’’مشرق وسطی میں اردو‘‘
’اردو شعراورادبا کا تعارف اور تخلیقات‘ اپنی نوع کی پہلی کتاب


*مرتبین: سید قمر حیدر قمر، شمس الحق نوشاد، ڈاکٹر راشد فضلی، بشیر مرزا
پہلی اشاعت ۱۹۹۳ زیراہتمام : ادارہ اردو ادب کراچی


*تبصرہ نگار: مہتاب قدر


’’مشرق وسطی میں اردو ‘‘ کتاب کا نام ہے مگران کے’’مشرق وسطی ‘‘کا جغرافیہ کتنا محدود ہےاس کا اندازہ کتاب کا مطالعہ کرنے اور تفصیلات سےآگاہی کے بعد ہوا۔چار مرتبین میں ایک مرتب سے میں بخوبی واقف ہوں بلکہ وہ بھی مجھ سے بخوبی واقف ہیں اور دوسرے مرتب سے میری ایک ملاقات عرصہ قبل ہوچکی ہے ، جبکہ باقی سے میرا تعارف نہیں ہے۔ دوسری سطر کےعنوان میں’ اردو شعرا اور ادبا کا تعارف اورتخلیقات ‘درج ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر شعرا جو اس وقت مشرق وسطی میں موجود تھے وہ اردو کےشعرا وادبا نہیں تھے۔’اپنی نوع کی پہلی کتاب ‘ یہ جملہ بالکل درست ہے کہ یہ کتاب اپنی نوعیت کی پہلی کتا ب ہےیعنی جب بھی کسی علاقے کے حالات اور شخصیات کا تذکرہ کیا جاتاہے تو اس کا حدود اربعہ بھی طے کیا جاتاہےزمان و مکان کا ذکر بھی کردیاجاتا ہے ، اس کتاب کا مکان تو پورا مشرق وسطی پر محیط ہے اور زمان کم از کم ۱۹۹۳ تک کا احاطہ کررہا ہے۔مگر زمان ومکان کا جس طرح سفر کیا گیا ہے اس میں عجیب وغریب نوعیت کا عنصراس کتاب کو اپنی نوعیت کی پہلی کتاب بنا دیتا ہے۔
سید قمرحیدر نے اپنا ایک شعر ابتدائی صفحہ پر پیش کیا ہے،
؎تجربہ ، لہجہ ، ادا ، تیور، رویہ، زاویہ
کونسا وہ رنگ ہے جو اس مرقع میں نہیں
جن چھ صفات کا ذکر شعر میں کیا گیا ہے ممکن ہے کہ ساری خوبیاں کتاب میں شامل قلمکاروں کی نگارشات میں ہوں مگر یہ کہنا کہ اس مرقع میں کوئی رنگ چھوٹا نہیں ہے مبالغہ لگتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب قلمکاروں کی فہرست سے ہی انصاف نہیں کیا گیا تو پورے رنگ اس مرقع سے کیسے آشکار ہو سکتے ہیں۔اس کے بعدایک صفحہ پر مرتبین کی رنگین تصویر ہے جس میں سید قمر حیدر اورراشد فضلی کا چہرہ مانوس ہے دیگر دو محترم مرتبین سے میں ناآشنا ہوںَ۔انتساب ’’صحراوں میں فکر و فن کا اعتبار قائم رکھنے والوں کے نام‘‘ بھی کتاب کی منفرد نوعیت اور مختصراعداد وشمار درج ہونے کے سبب فنکاروں کے بیچ ہنسی کا سبب بن رہا ہے۔
سعودی عرب کے قلمکاروں میں جو فہرست پیش کی گئی ہے ان میں اعتماد صدیقی سے واصل عثمانی تک حروف تہجی کے لحاظ سے نام درج ہیں۔جن کی جملہ تعداد ۴۸ تک پہنچی ہے۔ سعودی عرب میں موجود جملہ تعداد کے بجاے مزید تھوڑی زحمت اُٹھا کرجدہ ، دمام، جبیل، ریاض کا احاطہ الگ الگ کیاجاتا تو تصویر زیادہ واضح ہوجاتی۔خیال رہے زمانہ ۱۹۹۳ کا لیاگیا ہےتوا سی زمانے میں جدہ میں استاد الشعرا احمد جمال صادق بھی موجود تھےدیگر شعرا میں احتیاط سے بھی ذکر کیا جاے تومزید ۳۰ تا ۳۵ شعرا ایسے موجود تھے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔کیا عبداللہ ناظر کو نظرانداز کیا جانا چاہئے تھا ،کیامصلح الدین سعدی، طارق غازی ، ارشد غازی ،عابداللہ غازی،حیات النبی رضوی،نعیم بازیدپوری ، ناظرقدوائی والد،مجاہد سید اور خاکسار مہتاب قدر کے علاوہ بیکس نواز شارق ،اطہر عباسی، یاد صدیقی کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے ، اعتماد صدیقی اور میں ایک زمانے میں سعودی عرب میں آے اور جس حلقہ ارباب ذوق کے
پہلے صدر اعتماد صدیقی تھے اس کے قیام میں خود اعتماد صدیقی مرحوم کا کوئی حصہ نہیں تھا بلکہ پروفیسر نوراحمد شیخ ، مہتاب قدر، بیکس نواز شارق اور دیگر ساتھی اس کی بنیادرکھنے والوں میں تھے ، نوراحمد شیخ جب تک تھے اعتماد صدیقی بھی ایک مہمان کی طرح آتے رہے بعد میں جب شیخ صاحب کناڈا چلے گئےتو اعتماد صدیقی کو ہم ہی لوگوں نے باقاعدہ صدر منتخب کیا کیونکہ شیخ صاحب کام کے قائل تھے منصبوں کے نہیں۔اعتماد صاحب کے زمانے میں حلقہ ارباب ذوق نے بہت ترقی کی اور جتنے لوگ شیخ صاحب کے زمانے میں منسلک نہ ہوسکے تھے وہ بھی حلقہ کے بینر تلے جمع ہوگئے۔حنیف ترین عرعر میں ہوا کرتے تھے بعد میں شائد ریاض میں رہے اور آجکل دہلی واپس ہو گئے ہیں، خواجہ رحمت اللہ جری، ان کا کوئی تذکرہ کبھی پہلے نہیں سنا تھا البتہ گزشتہ ماہ ۲۰۱۸ کے اواخر میں کسی نے مجھ سے کہا کہ ایک شاعر کراچی سے آے ہیں اور وہ دکن سے ہجرت کرکے پاکستان گئے تھے تو ہم یعنی اردوگلبن والے ان کے اعزاز میں کوئی محفل منعقد کریں ، سو ہم نے یہ بزم بھی سجائی ، ان سے بات ہوئی تو موصوف نے بتایا کہ حنیف ترین ان کے شاگرد ہیں ، جبکہ ان کی شاعری کا مزاج اور معیار دیکھ کرلگتا نہیں ہے کہ حنیف ترین ان کے تلامذہ میں رہے ہوں۔
روف خلش حلقہ ار باب ذوق کے دوسرے باقاعدہ ہوے جبکہ وہ اعتماد صدیقی کے قریبی دوست اور جدہ میں انہی کے توسط سے حلقہ میں شمولیت اختیار کی تھی، روف خلش کا اپنا ایک ادبی مقام تھا وہ حیدراباد سے ہی معروف شعرا میں بلکہ نئی نسل کے معروف شعرا میں شمار کیے جاتے تھے ۔اسی زمانے میں عبداللہ ناظر حلقہ کے سرپرست تھے انہیں بھی قابل اعتنا نہیں سمجھا گیا۔جبکہ مصلح الدین سعدی جنکی علمی محافل اور اقبال شناسی کے بے حد چرچے تھے ،لطف کی بات یہ ہے کہ اس موقر کتاب میں استاداحمد جمال صادق کے تلامذہ جیسے نعیم حامد علی وغیرہ کا نام تو آگیا مگر موصوف محروم تذکرہ رہے ۔
کتاب میں مذکورہ اشخاص میں سجاد بابر، سید ظفرمہدی ،سہیل حیدرجدی ،شجاعت علی راہی،عبدالباری انجم،نسیم سحر،نعیم حامد علی ،واصل عثانی یہ وہ جدہ کے معروف شعرا تھے جنہیں حلقہ ارباب ذوق کے سایہ میں مشاعرے پڑھنے کا شرف حاصل رہا۔ان کے علاوہ بھی جن کا کوئی تذکرہ نہ ہوسکا ان میں عرفان بارہ بنکی،مسرور عابدی، انجم کاظمی ،طارق ہاشمی، محسن علوی،قیوم واثق،حبیب صدیقی،منور ہاشمی ،انجم رضوی،رشید الدین رشید،رفیع الدین ناصر،راشد صدیقی،مشہور ناظم مشاعرہ اور مزاحیہ شاعر ناظر قدوائی والد ،سلیم مقصود،ناظم الدین مقبول کوبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ زیرنظر کتاب مشرق وسطی میں اردو کا وہ حصہ جو جدہ سعودی عرب کے قلمکاروں پر محیط ہے اسی کا میں نے جائزہ لیا ہے، ورنہ پورے سعودی عرب میں مقیم فنکاروں کے سلسلے میں بھی بہت کچھ کمی اور نقائص موجود ہیں، پورے مشرق وسطی کا جائزہ لینا تو میرے دائرے اختیار وعلم میں نہیں ہے۔
حالیہ دنوں جدہ سے وطن لوٹنے والےمحمد مختار علی نے فیس بک پر تعارفی سلسلہ پیش کرتے ہوے جناب سید قمرحیدر کاجو ذکر کیا اسے حسب ذیل اقتباس میں ملاحظہ فرمائیں، ’’اُن کی پہلی کتاب تحقیق پر مبنی ہے جو 1993ء میں ’’مشرقِ وسطیٰ میں اُردو‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس میں خلیج میں مقیم 110 شعراء و اَدباء کا تعارف مع تصاویر اور منتخب تخلیقات شامل ہیں‘‘ اب میں یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ پورے شرق الاوسط میں جناب سید قمر حیدر کو صرف ۱۱۰ شعرا ہی ملے اور ان کے دائرہ تحقیق میں وہ شخصیات بھی نہیں آسکیں جن کا قد تمام مرتبین میں سے کسی سے بھی کم نہیں تھا۔ جن کا ذکر اہم سمجھا جاتا۔ الغرض، ناموں کے انتخاب نے بھی بعض مولفین کی حیثیت پر سوالیہ نشان لگاے ہیں۔ دراصل کتاب کے ٹائٹل ’’مشرق وسطی میں اردو‘‘ نے کینوس کو اتنا وسیع کردیا ہے کہ اس موضوع پر ۴۷۰ صفحات پر مشتمل یہ اشاعت ’کھودا پہاڑ نکلا چھوہا ‘ ثابت ہورہی ہے، جبکہ تحقیق واقعی ہوتی اورآنے والی نسلوں تک وقت کی صحیح تصویر پیش کرنے کی کوشش کہی جاسکتی تو اس ضخامت میں تو جدہ کا مہجری ادب بھی مشکل سے سما سکتا۔ریاض دمام جبیل مدینہ منورہ طائف وغیرہ کے شعرا کا تو ذکر ہی کیاجن میں بہت اہم نام بھی چھوٹ گئے جن کے بغیر سعودی عرب کے اردو منظرنامے کی تاریخ کبھی مرتب نہیں ہو سکے گی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے