کیا رمشاء کا خون ناحق رائیگاں جاۓ گا؟

رانا قمرالزمان خان

رمشاء کے غریب ماں باپ کو انصاف مل پاۓ گا؟

رمشا وسان’سندھ کے وسان خاندان کی وحشت کا شکار ہوگئی، منظور وسان کی طاقت ہمیشہ انصاف کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی رہے گی اور یہ خون ناحق رائیگاں جائے گا۔ سندھ میں وڈیروں،جاگیرداروں، گدی نشینوں کی سطوت اور دھاک وہ کالی دیوی بن چکی ہے جس کی چوکھٹ پر ایسی رمشاؤں کاخون بہایا جاتا ہے۔ یہاں پر بلاول کی آکسفورڈ تعلیم اور مراد علی شاہ کی مکارانہ شرافت کسی نہ کسی نان ایشو کے پیچھے چھپ کر کھڑی ہوجائے گی اوریہ نحیف آوازیں جو رمشاء کیلئے اٹھ رہیں ہیں سندھ کے صحراؤں سے اٹھنے والے بگولوں سے ٹکرا کر فضاؤں میں ہی معدوم ہوجائیں گی۔
کچھ روز قبل رمشا نے پسند کی شادی کی تھی جس پر جرگہ ہوا اور لڑکی کو واپس حاصل کیا گیا۔ لڑکی کی ماں کے بیان کے مطابق گزشتہ روز ذوالفقار وسان نامی بااثر شخص اور اس کے ساتھیوں نے گھر میں گھس کر رمشا کو قتل کر دیا جبکہ دوسری خبر یہ ہے کہ لڑکی کو کچھ روز قبل اغوا کیا گیا تھا، لڑکی کے گھر والوں کی فریاد پر علاقے کے با اثر لوگوں نے لڑکی کو واپس کروایا تھا اورکچھ روز بعد ذوالفقاروسان اور اس کے ساتھیوں نے رمشا وسان کے گھر میں گھس کر سب کے سامنے اس کو قریب سے 9 گولیاں مار کر بے دردی سے قتل کر دیا۔
13 سالہ رمشہ وسان ماں باپ کی بڑی بیٹی تھی اوراس کی تین چھوٹی بہنیں بھی ہیں۔ رمشا کے اغوا ہونے کے بعد اس کے غریب ماں باپ علاقے کے ہر ایک معزز اور طاقتور کے پاس قران پاک لیکر فریاد بھی کرتے رہے تھے۔ مگر کسی نے نہ سنی۔
رمشا کوانصاف نہیں ملے گا جیسے ساہی وال کی اریبہ،خلیل،ذیشان کی داستان انصاف کی طوطا کہانیوں میں کہیں بھٹک جائے گی،جیسے ارمان لونی اور نقیب خان کے بہنے والے لہو کے لوتھڑے رزق خاک ہوچکے ہیں اسی طرح رمشا وسان کی گولیوں سے چھلنی روح بھی بس بھٹکتی رہے گی۔ کہیں امان نہیں پاسکے گی۔یہ نظام ہر روز ایسے قصے کہانیوں سے بھرے اوراق پیدا کرتا اور اگلے ظلم کیلئے نئے لمحوں کا انتخاب کرتا رہتا ہے، یہاں زندگی کمزورکونشانہ بناتی ہے،یہاں کی عورت،یہاں کی مظلوم ومحروم قومیں، مذہبی اقلیتیں اور تعداد میں چھوٹے فرقے طاقت وروں کے پاؤں تلے چیونٹی کی طرح روندھ دیئے جاتے ہیں۔ یہ دھوکے جن کے ذریعے ظالم جاگیرداروں،خوانین، سرمایہ داروں، گدی نشینوں ،چوہدریوں اور سرمائے کے دھنوانوں کونجات دھندہ اور غریبوں،مزدوروں،ہاریوں کا نمائندہ بنا کرپیش کیا جاتا رہے گا تب تک یہ ظلم کے دیوتا اقتدارواختیارپر براجمان رہیں گے اوران کے ہاتھ خون ناحق سے رنگے جاتے رہیں گے۔ جب تک یہ نظام موجود ہے طاقت ور کمزوروں کویونہی نشانہ بناتے رہیں گے اور ہم صرف آہیں بھرتے رہیں گے۔ ہر واقعہ ردعمل اور احتجاج کا متقاضی ہے مگر یہ احتجاج جب تک اس ظالمانہ نظام کے خاتمے کے مطالبے اورعملی جدوجہد کیساتھ منسلک نہیں ہوگا تب تک ہرردعمل،نعرہ اور مطالبہ بے معنی اوربے ثمر رہے گا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے