سماج کا نوحہ

زاہد نثار کی دلدوز نثری نظم

سماج کا نوحہ| زاہد نثار


تم قصور کی زینب نہیں!
تم کراچی کے نقیب اللہ نہیں!
تم لاہور کی عظمیٰ نہیں۔
تم کراچی کے شاہ زیب نہیں۔
تم اسلام آباد کی طیبہ نہیں۔
تم ساہیوال کی اریبہ بھی نہیں۔
تم کراچی کی امل بھی نہیں۔
ان ناموں والے کسی بھی علاقے کے نہیں!
اور پھر
تمہارے گاؤں/چک کا نام نہیں نمبر ہے۔
____چک نمبر 117_____
سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بننا ہے تو مرنے سے پہلے ان علاقوں سےتعلق ہونا چاہئے۔
چاہے تم ڈور پھرنے سے، گولی لگنے سے، جنسی تشدد سے، گھریلو تشدد سے یا پھر کسی اور وجہ سے مرو!
تمہیں اس وقت تک سوشل میڈیا پر زندہ رکھاجائے گا،چینلز پر تمہارے لیے پروگرام کئےجائیں گے. اینکرز حکومت پرلفظی گولہ باری جاری رکھیں گے جب تک کہ کوئی ادارہ ایکشن نہ لے۔
تم تو جنوبی پنجاب کے آخری ضلع رحیم یار خان کے بے نامی علاقے سے ہو
جیسے تمہارے چک کا نمبر ہے ناں!
ایسے ایک ہی ماہ میں آوارہ کتوں سے مرنے والا تمہارا دوسرا نمبر ہے
تم چک 117 کے ثقلین ہو
تم تو 10 سالہ بچے ہو
تمہیں آوارہ کتوں نے چیر پھاڑ کر بوٹی بوٹی لاش بنادیا.
اور
تم سکول نہیں بلکہ
____مدرسے____ جارہے تھے
لہذا کوئی ایکشن نہیں لے گا
یقین نہیں تو
6 سالہ نعمان سےپوچھ لو!
وہ بھی تو تمہارے ساتھ____مدرسے____ جارہا تھا !!!!

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے