صادق آباد: کونسلر کے بیٹے کی گرفتاری کے خلاف تحصیل میونسپل کمیٹی کا ہنگامی اجلاس

عمران بھٹی نے اگر جرم کیا ہے تو انکوائری کے بعد اسے سزا ملنی چاہیے:چودھری شفیق احمد پپاء

رپورٹنگ ڈیسک| جمعرات 07فروری 2019


قافلہ نیوز ڈاٹ کام،صادق آباد


صادق آباد میں ایک متنازعہ کونسلر کے بیٹے کی منشیات سمگلنگ کے الزام میں گرفتاری کے خلاف میونسپل کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیاگیا۔فون پر اطلاع کے دوران ہاؤس ممبران کو ہنگامی اجلاس کے ایجنڈے سے بھی لاعلم رکھا گیا۔
وائس چئیرمین میاں محمد اسلم کی صدارت میں جناح ہال میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں ہاؤس کے ارکان نے شرکت کی۔اس موقع پر چیئرمین چودھری شفیق پپاء ،چیف آفیسر رانا محمو دعلی،ممبران میونسپل کمیٹی چوہدری محمد یسین، چوہدری طاہر ضیاء،حافظ عبدالرزاق، میاں شبیر احمد، میاں فرہاد علی،زبیر افضل چوہدری، عبدالخالق،حافظ ضیاء الحق، رئیس عاشق،حافظ مومن ،عاشق قادری، وقاص شفیق پپاء ،مظہر اقبال باجوہ،ملک خوشی محمد، اسلم باجوہ،ملک اصغرٹوانہ ،راناکامران مشتاق،اعجازوڑائچ اور دیگر ارکان کی موجودگی میں ن لیگی کونسلر عبدالصبورچودھری نے ایک مذمتی قرار داد پیش کی جس میں کہا گیا کہ چراغ بھٹی اس ایوان کے معزز ممبر ہیں آئے روز مقامی پولیس انہیں اور ان کے اہلخانہ کو حراساں و پریشان کر رہی ہے ،چراغ بھٹی کے بیٹے عمران بھٹی کو پولیس تھانہ سٹی نے گرفتار کر کے کئی روز تک حوالات میں بند رکھا پھر بعد میں تھانہ کوٹ سبزل پولیس نے اس کے خلاف جھوٹا اور من گھڑت منشیات کا مقدمہ درج کر دیا جو سرا سر ظلم اور زیادتی کے مترادف ہے ، آئی جی پنجاب‘آرپی او بہاول پور اور ڈی پی او رحیم یارخان اس واقعہ کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کروائیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کیاجائے ۔ حافظ عبدالرزاق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پولیس جواء کے الزام میں گرفتار کرتی ہے اور مقدمہ منشیات کا درج کر دیا جاتا ہے ۔پولیس بے لگا م ہو چکی ہے اگر فوری طور پر پولیس نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو پھر سٹرکوں پر نکل کر احتجاج پر مجبورہوں گے۔

ہنگامی اجلاس سے خطاب میں چئیرمین تحصیل میونسپل کمیٹی شفیق پپاء نے ڈی پی او سے مطالبہ کیا کہ کونسلر کے بیٹے کی گرفتاری کے معاملے کی انکوائری کرائی جاۓ۔جرم ثابت ہونے پر عمران بھٹی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاۓ۔ہم پولیس اور اے ایس پی کے خلاف نہیں ہیں لیکن اپنے معزز کونسلر کے ساتھ ہیں۔اگر اس کے بیٹے نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کی سزا اس کو دی جانی چاہیے۔
ہاؤس اجلاس کے دوران کونسلر رانا کامران مشتاق نے ہاؤس ممبران کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ اگر کوئی اے ایس پی کی وارننگ کے باوجود اپنا مکروہ دھندہ بند نہیں کرتا تو پھر ہاؤس بتا دے کہ ایسی سماجی برائیاں روکنے کا انتظامیہ کے پاس کیا حل ہے؟انہوں نے کہا کہ جب چراغ بھٹی اس معزز ہاؤس کا رکن بنا تھا ہمیں چاہیے تھا تب ہاؤس اجلاس میں اسے کہا جاتا کہ وہ اپنا جواء خانہ بند کردے اور آج کے بعد ہماری طرح معزز شہری بن جاۓ۔جوۓ کی لت کی وجہ سے بڑے بڑے امیر گھرانے کنگال ہوچکے ہیں۔بچے زیور چوری کرنے پر مجبور ہیں۔ان تباہ حال گھرانوں کی آہوں اور سسکیوں کو بھی سنیں۔انہوں نے ہاؤس میں کہا کہ عمران بھٹی جواء کراتا ہے اور اس کی اپنی علیحدہ سے بک ہے۔اگر وہ اس دھندے میں ملوث نہ ہوتا تو ہم کہتے کہ پولیس نے ظلم کیا ہے۔انہوں نے ہاؤس ممبران کو مخاطب کرتے ہوۓ سوال اٹھایا کہ اگر ایس ایس پی نے قبحہ خانے،شراب خانے اور ککڑ بازی کے اڈے بند کراۓ ہیں تو یہ انہوں نے اچھا کیا ہے یا غلط؟جس پر بعض ہاؤس ممبران نے جواب دیا یہ اچھا کام کیا ہے۔انہوں نے کہا یہ ہاؤس جرائم پیشہ افراد کے تحفظ کے لیے نہیں بنا۔اگر آج چراغ بھٹی اپنی صفائی میں بیان حلفی دے دیں تو ہم سب ہاؤس ممبر خود اے ایس پی کے پاس چل کر جائیں گے اور اس کے بیٹے کی ضمانت دے کر رہائی دلائیں گے۔ہاں اگر پولیس نے عمران بھٹی کو جوۓ کے جرم میں پکڑ کر منشیات برآمدگی کا مقدمہ بنایا ہے تو غلط ہے۔اس موقع پر وائس چئیرمین میاں اسلم نے کہا کہ ہاؤس کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ارکان اور معزز شہری اس معاملے پر پولیس کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔

 

کونسلر اعجاز وڑائچ نے اجلاس کے اختتامی لمحات میں تقریر کرتے ہوۓ ممبران کو فون پر ہنگامی اجلاس کے ایجنڈا سے آگاہ نہ کرنے پر شدید تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ اب یہ چوری اور سینہ زوری بند ہونی چاہیے۔جو غلط کام کرتے ہیں ان کے سرپرست نہ بنیں۔اگر سرپرستی ہی کرنی ہے تو پھر تمام قبحہ خانوں،شراب فروشوں اور ککڑ بازوں کی بھی کریں۔چار ماہ پہلے یہ لوگ پولیس کے اقدامات کو سراہتے ہوۓ نہیں تھکتے تھے اب یہی آج اسی پولیس کے خلاف ہوگئے ہیں۔پولیس کو کام کرنے دیں بلکہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ہمیں جواء کرانے پر ایک کونسلر کے بیٹے کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کوئی کونسلر شراب پی لے۔زیادتی کرے تو ہاؤس کا اجلاس بلا لیا جاتا ہے۔اعجاز وڑائچ کی تقریر جاری تھی کی وائس چئیرمین نے نماز کے وقت ہونے کا کہتے ہوۓ اجلاس ختم کرنے کا اعلان کردیا اس دوران حافظ عبدالرزاق اور ایک کونسلر کے درمیان توتکار بھی ہوئی۔

ادھر شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ صادق آباد کے شہری ایک عرصہ سے مسائل کی چکی میں پس رہے ہیں۔سیوریج سسٹم ناکارہ ہوچکا ہے۔پینے کا صاف پانی تک شہریوں کو میسر نہیں۔جگہ جگہ گندگی کے ڈھیروں نے شہر کا حلیہ بگاڑ کررکھ دیا ہے۔عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے بلدیاتی نمائندؤں کو شہر کے سلگتے مسائل کے حل کے لیے تو کبھی تحصیل میونسپل کمیٹی کا ہنگامی یا معمول کا اجلاس بلانے کی توفیق نہیں ہوئی لیکن ایک کونسلر کے بیٹے کے تحفظ کے لیے تو سبھی ممبران ایک چھت تلے اکھٹے ہوگئے ہیں۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر بلدیاتی نمائندے عوام اور شہر کے مفاد میں بھی ایسے ہی جمع ہوکر شہریوں کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھتے اور مفاد عامہ کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھاتے دکھائی دیتے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے