خبر والے خود خبر بن گئے

کالم: محمد شجاع الدین،سینئر صحافی

خبر والے خود خبر بن گئے


محمد شجاع الدین


کراچی کی ڈیڑھ برس کی ننھی بچی سگی ماں کے ہاتھوں جان سے چلی گئی۔ شوہر کی ستائی والدین کی دھتکاری اور معاشرتی بے حسی کا شکار ممتا نجانے کس لمحے سفاکی کے ہتھے چڑھ گئی اور لخت جگر کو سمندر کے نمکین پانی میں ڈبکیاں دے کے مار دیا۔ اپنی کوکھ اجاڑنے والی ماں ایک طرف ظالم بھی ہے مظلوم بھی تو دوسری طرف گیلی ریت پر اوندھے منہ لیٹی حوا کی بیٹی طبقاتی تفریق کے اسیر نظام زندگی کے مکروہ چہرے کی ایک بھیانک پرچھائیں بھی ہے اور اندھے انصاف کے قتل کی خوفناک تصویر بھی۔ماں کا رونا یہ ہے کہ پیسے نہیں تھے چھاتیاں سوکھ گئی تھیں۔اپنے پیٹ کا دوزخ بھرتی تو بیٹی کو دودھ پلاتی۔
بھول اور نسیان اگرچہ اپنی جگہ کسی نعمت سے کم نہیں لیکن انسانی یادداشت خود اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے ۔ برسوں پہلے رانی بیٹی کیلئے لکھی لوری کے چند اشعار یاد آ گئے ۔۔ جو حسب حال ہیں

سو جا گڑیا سو جا گڑیا سو جا ری گڑیا سو جا
پاپا تیرا جھولا جھلائیں مما لیں بلائیں
ہر موسم تیرا ساتھی ہوساتھ چلیں ہوائیں
رات سہانے سپنے دکھائےشبنم تجھے اٹھائے
کلیاں چٹکیں تومسکائےبھنورے تجھےہنسائیں
دھنک تیرا آنچل بن جائے تتلی دیکھنے آئے
آنگن آنگن خوشبو دیتے پھول یہ رنگ چرائیں
کاغذ تیرا من پرچائے قلم کمان ہو تیری
بوڑھا برگد بپتا روئےنین تیرے بھر آئیں
سوجا گڑیا سو جا گڑیا سو جاری گڑیا سو جا

کراچی کی ایک ماں کی خبر ملی تو اپنی خبر یاد آ گئی۔سچ ہی تو ہے ۔ کرجگ گزر گیا ۔ یہ کلجگ ہے۔چاندی کے ترازو سونا تولتے ہیں۔حسب نسب یا کسب نہیں۔پھر صحافی کا کسب کیا کسب ہوا ؟ پیسہ دین دھرم بن جائے تو روٹی کپڑا اور مکان ہی کلمہ قرآن کہلاتے ہیں۔آج کس صحافی کے گھر اماوس نہیں اتری ؟ کسی کی نوکری گئی تو کوئی مہینوں کی تنخواہ سے محروم بیٹھا ہے۔کسی کے مالک مکان نے سامان باہر پھنکوا دیا تو کسی کے بچے فیس نہ بھرنے کے جرم میں اسکول سے واپس گھر بھجوا دیئے گئے۔ کسی کا دروازہ قرضہ واپس لینے والوں نے اکھاڑ پھینکا تو کوئی خود سڑک کنارے فٹ پاتھ کے دسترخوانوں پر بیٹھنے پر مجبور ہو گیا۔عمروں کی سفید پوشی گئی بھاڑ میں۔ قلم کو ایمان کا درجہ دینے والے اپنے ہی آدرشوں کی سولی چڑھ گئے لیکن اخبار کے پنے پر لکھے حروف اور ٹی وی اسکرینوں پر نشر ہونیوالے الفاظ کی دولت سمیٹنے والے سرمایادار اپنی اپنی جنت سنوارنے میں رات دن مصروف ہیں۔تف ۔۔ شداد کی جنت
صحافت اور صحافیوں کی زندگیوں پر اتر آنے والی اس قیامت میں اگر کاغذ قلم کی تقدیس اور بوڑھے برگد کی گریہ زاری محسوس کرنے کی دعا قبول ہو گئی تو ہمارے رعشہ زدہ ہاتھ اپنی بیٹیوں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو پونچھ پائیں گے کیا ؟ برگد گھر گھر کے قصے سنائے گا تو آج کے ہلاکو اور چنگیز خان کی ہلاکت آفرینی کے دلدوز مناظر معصوم بچیوں کے قہقہے چھین نہیں لیں گے ؟ ان معصوموں پر تو برگد کی بپتا سننے کا ابھی وقت ہی نہیں آیا ۔
ان دگرگوں حالات میں رزق حلال کمانے کیلئے اب جہد مسلسل کا یارا نہیں رہا۔ایک روٹی آٹھ حصوں میں بانٹ کر کھانے کا حوصلہ بھی نہیں رہا۔ لیکن بھیڑیوں کی دنیا میں بھیڑیا بھی تو نہیں بنا جا سکتا۔لفظوں کی حرمت ابھی باقی ہے۔ڈکیتی کی واردات میں مرنا۔نقب زنی کے دوران گولی کا نشانہ بننا یا پھر پولیس مقابلے میں مارا جانا بھی کسب حلال کی شان کیخلاف ہے۔اسی لئے تو مفلسی اور تنگ دستی کے ہاتھوں بے موت مارے جا رہے ہیں۔دوسری طرف جدید دنیا کے اس مہذب معاشرے کے سرخیل سامایادار اپنی عیاشیوں کیلئے دوسروں کی حق حلال کی کمائی بھی ڈکار جائیں۔جان سے مار دینے کے درپے ہو جائیں۔ کوئی پابند سلاسل ہو نہ پھانسی چڑھے۔ یہ جنگل کا قانون نہیں تو اور کیا ہے ؟
حاکم وقت نے بھی گلی کوچے کی ہر دیوار پر ہوشیار۔خبردار لکھوا کر اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔افسوس حکومت اور سرمایادار کا یہ ٹوپی ڈرامہ اندر کھاتے یونہی چلتا رہے گا۔ایک وقت تھا سور مار مہم شروع ہوئی تھی۔سور کی دم پر انعام بھی تھا۔ یار لوگ سور شکار کرتے انعام بھی پاتے۔سور کئی ایک شہروں اور دیہات سے تو ختم ہوگئے مگر اسلام آباد جیسے عالی مرتبت شہر کی سڑکوں پر ایک لمبے عرصے تک پھر بھی ان کے غول بھاگتے پھرتے اور دندناتے رہے ۔ اشرافیہ کی آسودہ حال زندگی کی رنگینیاں برقرار رکھنے کیلئے سور مار یا پھر کتے مار مہم تو سمجھ آتی ہے ۔ صحافی مار مہم شاید مک مکا کا کوئی نیا کلیہ ہے جس کے تحت کئی گزر گئے باقی تیار بیٹھے ہیں۔بچہ مار مہم کا آغاز بھی کر دیا گیا۔ اب ہر صحافی کے گھر سے سہرا بندھی لاش اٹھنے کا انتظار کیا جا رہا ہے ۔ یہ کلیہ اخبار ٹی وی مالکان اور حکمرانوں ۔ دونوں کیلئے اچھا ہے کیونکہ جن بچوں نے باپ کی خالی جیبیں اور ماں کی سوکھی چھاتیاں دیکھ کر ہوش سنبھالی ہو ۔ انہیں جب بھوک لگتی ہے تو ان کے ذہنوں میں جزا اور سزا کا فلسفہ گڈ مڈ ہو جاتا ہے۔
ایسے میں ابھی وقت ہے۔آو ۔۔ حق بات کہنے والے کاغذ کو آگ لگادیں ۔ سچ اگلنے والے قلم کی نوک توڑ دیں۔زمانہ جہالیت کی ڈگر پر چل نکلیں۔اور آج ہی اپنی ننھی پریوں کو خود زندہ درگور کر دیں ۔ میڈیا مالکان گدھوں کیطرح چھتوں پر منڈلا رہے ہیں ۔ دھرتی ماں ہماری بیٹیوں کو اپنی آغوش میں تو لے گی۔سر بازار بے پردہ تو نہیں کرے گی۔ہم خبر تو بن ہی گئے ہیں ۔ کم از کم عزت تو بچا لیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے