Trending

کسی کرپٹ کو کوئی رعایت نہیں دیں گے:وزیراعظم کا دو ٹوک اعلان

قبضہ گروپوں سے جنگلات کی زمینیں واگزار کرائیں گے:عمران خان

ویب ڈیسک |ہفتہ 09فروری 2019

لاہور: وزیر اعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کے علاقے بلوکی میں پودہ لگا کر ’پلانٹ فار پاکستان‘ پروگرام کا آغاز کردیا۔
اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ درخت لگانا شوق کی بات نہیں بلکہ یہ مستقبل کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہوگیا ہے، پاکستان دنیا میں آٹھویں نمبر پر وہ ملک ہے جسے سب سے زیادہ ماحولیاتی خطرے کا سامنا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر موسم اسی طریقے سے گرم ہوتا گیا تو آنے والے دنوں میں یہاں رہنا مشکل ہوجائے گا، یہاں خشک سالی ہوگی اور دریاؤں میں پانی کم ہوجائے گا کیونکہ ہماری ملک میں سب سے کم جنگلات ہیں۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب میں چھوٹا تھا تو میں نے پنجاب کے مختلف جنگلات کو دیکھا لیکن افسوس بعد میں انہیں جنگلات کو تباہ ہوتے دیکھا، ان زمینوں پر قبضہ کرلیا گیا جس کے نتیجے میں آلودگی بڑھی اور آج لاہور میں سب سے زیادہ آلودگی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگلات کاٹنے کی وجہ سے گرمی بڑھی اور گلیشیئر پگلنا شروع ہوگئے، یہ جنگلات بڑھانا شوق نہیں بلکہ لازم ہے اور نوجوانوں نے اپنے اور ملک کے مستقبل کے لیے درختوں کی کٹائی کو روکنا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ آئندہ 5 برسوں میں 10 ارب درخت لگانا ہمارا ہدف ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں ہم نے ایک ارب سے زائد درخت لگائے اور اب ہم نے پورے پاکستان کو سبز کرنا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق دور میں قبضہ گروپ کے ساتھ مل کر جنگلات کی اراضی پر قبضہ کیا گیا لیکن اچھے بیوروکریٹس کی مدد سے ہم قبضہ گروپ سے ان اراضی کو خالی کروائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پارکوں سے بھی قبضہ چھڑوانا ہے، اگر ہر جگہ سیمنٹ بھرجائے گا تو مزید گرمی ہوگی اور لوگوں کو مشکلات ہوگی، لہٰذا ہم نے ان قبضہ گروپ کے خلاف جہاد شروع کرنی ہے۔
اس موقع پر سیاسی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آج کل این آر او کی بہت بات ہورہی، این آر او کا مطلب ہے کہ بڑے بڑے مجرموں کو معاف کردیں، ملک کو 2 این آر او نے بہت نقصان پہنچایا، ایک این آر او نے جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کے لیے دیا جبکہ دوسری طرف 2 ارب روپے آصف علی زرداری کے کیس پر خرچ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ لندن میں سر محل کا مقدمہ پاکستان جیت گئی لیکن این آر او کی وجہ سے یہ کیس چھوڑ دیا گیا اور قوم کی 2 ارب روپے کو ضائع کیا گیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ انہیں 2 این آر او رہنماؤں نے 5، 5 سال حکومت کی اور ملک کا قرضہ 6 کھرب سے بڑھا کر 30 کھرب روپے تک پہنچا دیا گیا کیونکہ یہاں بڑے بڑے چوروں کو پکڑنے کا کوئی خوف نہیں تھا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور روپے کی قدر کم ہورہی ہے لیکن ملک کو مقروض کرنے والے آج ٹی وی پر آکر تحریک انصاف کو کہتے ہیں کہ آپ نے 5 مہینے میں کچھ نہیں کیا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جس نے کرپشن کی ہم نے کسی کو نہیں چھوڑنا، اسمبلی میں شور مچایا جارہا ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ صحیح طریقے سے چل جائے، جتنی ہم نے کوشش کرنی تھی کرلی لیکن اب کسی بدعنوان آدمی کو کسی قسم کی رعایت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حکومت کو 5 ماہ ہوں اور اس کے 3 وزیر مستعفی ہوں یہ ہے تبدیلی ہے کہ موجودہ حکومت بلاامتیاز احتساب کرتی ہے۔عمران خان نے مزید کہا کہ بلوکی پارک کو ہم بابا گرونانک کے نام پر تیار کریں اور ہم جلد ہی گرونانک یونیورسٹی قائم کریں گے کیونکہ مجھے اچھا لگتا ہے جب لوگ اسکول، کالجز اور جامعات کا مطالبہ کرتے ہیں، میں پاکستان میں موجود تمام اقلیتوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہم وہ پاکستان بنا رہے ہیں جس میں تمام سہولیات فراہم ہوں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے