Trending

سعودی ولی عہد کو”نشان پاکستان“ سے نوازا گیا

سعودی عرب اور پاکستان تاریخی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، صدر مملکت

ویب ڈیسک | پیر 18فروری 2019


اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان کے دورے پر آئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ ”نشان پاکستان“ سے نواز دیا۔ایوان صدر میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں سعودی ولی عہد کے علاوہ صدر مملکت عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزرا، اراکین پارلیمنٹ اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔اس کے علاوہ سعودی ولی عہد کے ساتھ آنے والے وفود اور تاجر برادری کے ارکان بھی اس ظہرانے کی تقریب میں موجود تھے۔


ایوان صدر میں ہونے والی تقریب کے آغاز میں پہلے دوست ملک سعودی عرب کے قومی ترانے کی دھن بجائی گئی جس کے بعد میزبان پاکستان کے قومی ترانہ پیش کیا گیا، جس کے بعد تلاوت کلام پاک سے تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔تلاوت کلام پاک کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سعودی ولی عہد کو پاکستان کے سب سے اعلیٰ سول اعزاز نشان پاکستان عطا کیا۔

اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان تاریخی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، سعودی عرب کی محبت پاکستانیوں کے دلوں میں ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کا دورہ دونوں ملکوں کی دوستی مزید مضبوط کرے گا اور پاکستان سعودی سپریم کونسل کا قیام انتہائی اہم ہے۔اعلیٰ ترین سول ایوارڈ پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ادھر سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے کہا کہ اعلیٰ ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان دینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستان کے صدر سے ملنا میرے لیے باعث فخر ہے۔سعودی شہزادے نے کہا کہ دونوں ممالک کے بانیان نے اصولوں کی بنیاد پردوطرفہ تعلقات قائم کیے اور پاکستانی بھائی سعودی عرب کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی بھائیوں نے سعودی عرب میں مسجد نبوی اور مسجد الحرام کے ترقیاتی کاموں میں حصہ لیا۔
سعودی شہزادے کی ایوان صدر آمد
قبل ازیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے دورے کے دوسرے روز وزیر اعظم ہاؤس سے ایوان صدر پہنچے تھے۔


بگھی کے اطراف گھڑ سوار کیڈٹ کا قافلہ بھی ساتھ رہا—فوٹو: عمران خان فیس بک آفیشل پیج


شہزادہ محمد بن سلمان کی ایوان صدر سے روانگی کے لیے انتہائی شاہانہ اور منفرد انداز اپنایا گیا تھا اور سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم عمران خان گھوڑا گاڑی (بگھی) پر بیٹھ کر روانہ ہوئے تھے۔اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان مختصراً گفتگو بھی جاری رہی جبکہ بگھی کے اطراف گھڑ سوار کیڈٹ کا قافلہ بھی ساتھ رہا تھا۔ایوان صدر پہنچنے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے محمد بن سلمان کا استقبال کیا گیا جبکہ بچوں کی جانب سے انہیں گلدستے بھی پیش کیے گئے۔بعد ازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے محمد بن سلمان نے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
ایوان صدر آمد سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں پارلیمانی وفد سے ملاقات کی۔اس کے علاوہ سعودی مہمان نے پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی علیحدہ سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں وفد کی ملاقات کے بعد صادر سنجرانی کا کہنا تھا کہ سعودی سرمایہ کاری بین الاقوامی برادری کا پاکستان پر اعتماد کی عکاس ہے، اس سرمایہ کاری سے باہمی تعاون اور شراکت داری کے ساتھ علاقائی ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔
صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ویژن 2030 امن، معاشی ترقی اور خوشحالی کا ویژن ہے، سعودی ولی عہد کے دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ پاکستان میں حالات تبدیل ہوگئے ہیں، ملک میں سرمایہ کاری اور تجارت کی فضا انتہائی سازگار ہے، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی قیادت میں پارلیمانی وفد کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کو مزید پختہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاک سعودی دیرینہ اور برادرانہ تعلقات پر پوری قوم کو فخر ہے، سعودی عرب پر مشکل گھڑی میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ آپ کے دورہ سے پاکستان میں معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا، پاکستان اور سعودی عرب مل کر علاقائی اور خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، دونوں ممالک سرمایہ کاری اور شراکت داری سے باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔اس موقع پر سعودی ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان برادر دوست ملک ہیں اور دونوں ہر مشکل حالات میں ہمیشہ ساتھ ساتھ رہے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے