وہ اجنبی ہی سہی ہے تو ہم پیالہ مرا

سجاد جہانیہ نے اپنے خاکوں میں بیشتر کرداروں کو مجسم کردیا

وہ اجنبی ہی سہی ہے تو ہم پیالہ مرا


کالم | سعود عثمانی


علم کی طرح لاعلمی کی بھی کوئی حد نہیں ہوتی۔ہر کچھ دن کے بعد یہ حقیقت طنزیہ مسکراہٹ سجائے سامنے آکھڑی ہوتی ہے کہ تم جو کتابچی ہونے کے دعوے دار ہو۔ادب سے شناسائی کا زعم رکھتے ہو، درحقیقت کتنے لاعلم، بلکہ درست معنوں میں کتنے جاہل ہو۔سجاد جہانیہ کی کتاب مجھے پھر اس بات کا احساس دلا کر شرمندہ کرتی ہے کہ ہم کتنے ہی اعلیٰ لکھنے والوں سے کس درجہ ناواقف رہتے ہیں۔
اچھی بات یہ ہوئی کہ ” ـ ادھوری کہانیاں ‘ ‘ مجھے پہلے ملی اور یہ بعد میں پتہ چلا کہ سجاد جہانیہ ملتان آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر ہیں۔اس وقت تک میں کتاب کا کم از کم اتنا حصہ پڑھ چکا تھا کہ آرٹس کونسل کی ڈائریکٹری کے حوالے سے صاحب کتاب کا تاثر خراب ہونا مشکل ہوگیا تھا۔اس کتاب کے اسلوب، تحریر کے خلوص اور دل سے نکلے جملوں نے دل میں اس طرح گھر کرلیا تھا کہ ذہن یہ سوچنے کو تیار نہیں تھا کہ آرٹس کونسلوں کے ڈائریکٹر کیسے ہوا کرتے ہیں اور ان کا ٹریک ریکارڈ کیسا ہے۔کتاب نے بیچ میں آکر سارا معاملہ خراب کردیا ورنہ وہ چونکہ آرٹس کونسل کا ڈائریکٹر ہے اس لیے میں یقین کرسکتا تھا کہ وہ اپنی تصویر بھی ہرپروگرام میں نمایاں جگہ پر لگانے کا شوقین ہوگا ۔دوست نوازی سے لے کر نالائق نوازی تک کسی بھی نوازش میں کمی نہیں کرتا ہوگا۔صدق دل سے آرٹس کونسل کے سارے پروگراموں کو اپنی ذات بابرکات کا فیض سمجھتا اور سمجھاتا ہوگا۔ملتان اور گردو نواح کے تمام آرٹسٹ اس کی نظر کرم کے لیے اس کے دفتر کے ارد گرد منڈلاتے ہوں گے اور خواتین کی معاشرتی زبوں حالی کے باعث وہ ان کی سرپرستی کی طرف زیادہ توجہ کرتا ہوگا۔آرٹس کونسلوں میںیہی سب کچھ ہواکرتا ہے ۔لیکن کتاب نے مجھے ایک اور شخص سے ملوا دیا جو صاحب دل قلم کار بھی تھا اور جہاں دیدہ صحافی بھی ۔اور ان عہدوں کے آگے افسری کیا بیچتی ہے بھلا ۔
میں سجاد جہانیہ سے کبھی ملا نہیں کہ بتا سکوں کہ وہ کیسا انسان ہے۔لیکن تحریر بہت کچھ پردے اٹھا دیا کرتی ہے۔آدمی چھپ کر بھی چھپ نہیں سکتا
جتنا بھی محتاط ہو آخر جانا جاتا ہے
آدمی اپنے لفظوں سے پہچانا جاتا ہے
صاحب یہ کیسا صاحب دل شخص ہے جو بھڑکتا تنور سینے میں لیے پھرتا ہے۔ذرا سا اس کی لفظوں کی حدت میں بیٹھیں تو اس کی آنچ آپ تک پہنچنے لگتی ہے۔کیسی اچھی اور تخلیقی نثر لکھتا ہے اور کیسی روانی کے ساتھ.یہ روانی بھی لکھنے والے کا پتہ دیتی ہے۔لکھنے کی یہ سہولت میسر آ تو جاتی ہے لیکن بڑے کشٹ بڑی ریاضت کے بعد۔بڑی مشکلوں سے ملنے والی آسانی ہے یہ
یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں
دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی
مجھ سے کوئی پوچھے کہ تحریر کو تاثیر کیا چیز بخشتی ہے تو میں کہوں گا لکھنے والے کی سچائی اور خلوص۔یہ بعد کی بات ہے کہ اس کی لفظیات کیا ہیں اور اس کے پاس بات کہنے کا سلیقہ کتنا ہے۔یہ بھی بے شک تحریر کی خوبیاں ہیں لیکن کیا کیجیے کہ جب سے میں نے بڑے بڑے مہان لکھنے والوں کی تحریر میں سے سچائی اور خلوص کو اس طرح غائب ہوتے دیکھا ہے کہ
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہوجانا
تو پیچھے رہ جانے والی نری لفظیات اور کھوکھلے لفظوں کا برتاؤ ایسی گیلی مٹی کی دیوار کی طرح رہ جاتے ہیں جو اپنے معمار پر گرا چاہتی ہو۔سجاد جہانیہ کا دل تو پہلے ہی خاکوں ” ـ کیہہ ماپیاں پتراں رسن ہندا ــ’ ‘ اور ” ـ ہیپی برتھ ڈے ‘ ‘ میں اس طرح چھلکتا نظر آجاتا ہے کہ ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں کے عدسوں میں تحریر کبھی روشن اور کبھی دھندلی ہونے لگتی ہے۔
سجاد جہانیہ کے لفظوں میں لکھنے والے کا دل ہے چنانچہ دل اس طرف کھنچنا فطری بات ہے۔ادھوری کہانیاں دراصل مختلف شخصیات کے خاکے ہیں۔اور خاکہ نگاری آسان کام نہیں۔خاکہ نگاری تو مجسمہ سازی ہے مجسمہ سازی۔ذرا سی چوٹ اوچھی پڑی نہیں اور چہرے کے خد و خال مسخ ہوئے نہیں۔ممدوح کی تعریف یا تنقیص سے بالاتر ہو کر ایک ادبی اظہار کے ساتھ ممدوح کے خصائل اور خد وخال کی تجسیم کردینا ہی تو خاکہ نگاری ہے۔خاکے کی تو پہلی شرط ہی یہ ہے کہ نہ قصیدہ پڑھا جائے نہ اس شخصیت کو مسخ کرنا مقصد نظر نہ آئے اورخاکے کے ذریعے شخصیت سمجھی جاسکے ۔قاری کو مداح اور ممدوح دونوں پرپیار آنا چاہیے ۔محض زیب داستاں کے لیے تحریر کو انسانی خون سے رنگین کردینا بھلا کون سی خاکہ نگاری ہے۔
بالکل جیسے تقریب رونمائی میں کسی نکمی اور نالائق کتاب کی تعریف میں وہ خوبیاں ڈھونڈ کر بیان کی جاتی ہیں جنہیں ڈھونڈنے کے لیے ان پڑھ اور نابینا ہونا ضروری ہے، ایسے ہی کچھ جید خاکہ نگار وہ خصلتیں اور نقائص مصالحہ زدہ تحریر کے ساتھ بیان کرتے ہیں جو شخصیت میں ڈالنے کے لیے فطری عیب جوئی کی صلاحیت لازمی ہے ۔سچ یہ ہے کہ وہ تو لکھنے والے کی جگت بازی کا شوق پورا ہوتا ہے ، وہ خاکہ کہیں سے بھی نہیں ہوتا ۔ایسی جگت بازی جو لکھنے والے کے کینے سے رگڑ کھا کر زیادہ مرچیلی ہوجاتی ہے ۔خاکے کا تو بس نام ہے اصل مقصد تو مضحکہ اڑانا ہوتا ہے۔
سجاد جہانیہ نے نہ قصیدہ نگاری کی ہے نہ ہجو گوئی۔اس نے خاکے لکھے ہیں اوربیشتر جگہ کرداروں کو مجسم کردیا ہے۔اماں زبیدہ کی زبانی اچیاں لمیاں ٹاہلیاں کا یہ اقتباس دیکھیے
” ـ یہ کھال جو ان بوڑھی ہڈیوں پر ڈھیلے لباس کی طرح جھولتی ہے۔اس پر شباب کا کچھ ایسا تناؤ ہوا کرتا تھا کہ سکھیاں کبھی چٹکی بھرنے لگتیں تو ان کی انگلیاں پھسل پھسل جاتیں اور چٹکی میں ہوا کے سوا کچھ نہ آتا۔یہ آنکھیں جو آخر شب کے دیے کی طرح روشنی سے محروم ہوئی جاتی ہیں یہ چراغ عالم افروز کی مانند لو دیتی تھیں جن کی چمک سے آفتاب کو بھی حجاب آیا کرتا۔اور یہ قدم جو اب زمین کے سینے پر گھسیٹتے ہوئے چند ہی گز کا فاصلہ طے کرکے نیم جان ہوجاتے ہیں تب کوٹلہ گجراں کی زمین ان کے لمس کو ترسا کرتی تھی۔ ‘ ‘
کتاب پڑھتا گیا اور دل خوش اور اداس ہوتا چلا گیا۔پتہ نہیں کیا ہے کہ خوب صورتی بیک وقت خوش اوراداس کرتی ہے۔اور صحیح یا غلط الگ، لیکن اب تو کتاب کو جانچنے کا ایک پیمانہ میں نے یہی بنا لیا ہے کہ اس سے کیا کیفیت مجسم ہوتی ہے۔کتنے ہی لوگ ہین جن سے میں اس کتاب میں ملا۔سجاد جہانیہ کی وساطت سے پہلی بار ملا۔لیکن کتاب کے آخر تک پہنچتے پہنچتے اس نوجوان سے بھی پھر ایک بار ملا جس کی تصویر اور آواز اب بھی پھرتی اور گونجتی رہتی ہے۔ہمارا جوان مرگ دوست سید ذوالکفل بخاری۔ ” ـدار بنی ہاشم ‘ ‘ کا چشم و چراغ۔ذوالکفل سے میرا بھی بہت تعلق رہا اور حادثے سے قبل جب وہ آخری بار پاکستان آئے تو مجھ سے بھی بطور خاص ملنے آئے۔لفظوں کے کچھ پھول میں نے بھی جواں مرگ پیارے دوست کی نذر کیے تھے۔سجاد جہانیہ نے اس تحریر سے ہم سب کا یہ زخم تازہ کردیا۔اور زخم تازہ ہونے کی داد کیا دی جائے۔
سجاد بھلے ہی افسری کرتا پھرے لیکن ہے وہ دراصل ادیب۔ہے وہ دراصل صحافی۔اس کا اور میرا قبیلہ ایک ہی ہے۔ہم ایک ہی الاؤ کے گرد بیٹھتے ہیں۔ایک ہی چنگیر سے روٹی توڑتے اور ایک ہی پیالے میں ڈبوتے ہیں۔کیا عجب کہ یہ ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہونا اس کی برکت سے میرے عشق اور رزق میں بھی اضافہ کردے۔
عجب نہیں کہ مرا عشق و رزق بھی بڑھ جائے
وہ اجنبی ہی سہی ، ہے تو ہم پیالہ مرا

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے