آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام،سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی گرفتار

ویب ڈیسک |20فروری 2019


اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کرلیا۔نیب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نیب کراچی نے اپنے راولپنڈی اور نیب ہیڈ کوارٹرز کے انٹیلی جنس ونگ کی معاونت سے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کیا۔احتساب کے قومی ادارے نے بتایا کہ ملزم پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے اور انہیں ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب ذرائع نے بتایا تھا کہ آغا سراج درانی پر سرکاری فنڈز میں مبینہ خورد برد کا بھی الزام ہے۔
آغا سراج درانی کی اسلام آباد سے گرفتاری کے حوالے سے ذرائع نے بتایا تھا کہ کہ نیب کو کراچی سے ان کی گرفتاری میں کافی مسائل تھے۔ذرائع کا کہنا تھا کہا آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ اپنے خلاف کیسز اور اہم دستاویزات پر اثر انداز میں ہوسکتے تھے۔گرفتاری سے متعلق ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی کو نیب راولپنڈی میں رکھا گیا ہے اور انہیں ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ان کی کراچی منتقلی یقینی بنائی جائے گی۔
بعد ازاں نیب کی جانب سے آغا سراج درانی کو راہداری ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا۔نیب کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ اسپیکر اسمبلی کے خلاف کراچی میں اثاثہ جات ریفرنس زیر سماعت ہے۔جس کے بعد عدالت نے ان کا 3 روزہ راہداری ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔دوسری جانب سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کا امکان ہے، جس میں دارالحکومت میں موجود پی پی رہنما بھی موجود ہوں گے۔خیال رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف کرپشن کے مختلف الزامات پر انکوائری کی منظوری دی تھی۔نیب کے ریجنل ڈائریکٹر نے پیپلز پارٹی کے رہنما کے خلاف 3 الگ الگ تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جس میں پہلی تحقیقات میں آغا سراج درانی پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام تھا۔اس کے علاوہ ان پر دوسرا الزام 352 غیر قانونی تقرریوں کا الزام تھا جبکہ ان کے خلاف تیسری تحقیقات ایم پی اے ہوسٹل اور سندھ اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے مخصوص فنڈ میں خورد برد سمیت ان منصوبوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹرز کی تقرریوں سے متعلق تھی۔
واضح رہے کہ احتساب کے قومی ادارے کی جانب سے بلا امتیاز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور ادارے کی جانب سے نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے۔
اس سے قبل 6 فروری 2019 کو قومی احتساب بیورو نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور اس وقت کے سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کو گرفتار کرلیا تھا۔نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ ادارے نے پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار کیا۔بعد ازاں اس گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما علیم خان نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا جبکہ نیب نے تفتیش کے لیے عدالت سے ان کا جسمانی ریمانڈ لیا تھا۔یاد رہے کہ 5 اکتوبر 2018 کو نیب نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں باضابطہ طور پر گرفتار کیا تھا۔اس گرفتاری کے بعد تفتیش کے لیے شہباز شریف کے متعدد مرتبہ جسمانی ریمانڈ لیا گیا تھا اور ان سے کافی عرصے تک تفتیش جاری رکھی تھی۔تاہم رواں ماہ 14 فروری کو لاہور ہائی کورٹ نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل سمیت دیگر کیسز میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کرلی تھی اور ان کی رہائی کا حکم دیا تھا، جس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بھی نیب کی جانب سے دائر کیے گئے 3 ریفرنسز میں سے 2 میں سزا ہوئی تھی جبکہ ایک میں انہیں بری کیا گیا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے