مادری زبانوں کے عالمی دن پر لاہورسمیت مختلف شہروں میں ریلیاں

ویب ڈیسک | جمعرات 21فروری 2019



لاہور : دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مادری زبانوں کا عالمی دن بھرپور طریقے سے منایا گیا۔اس دن کی مناسبت سے پنجاب بھر میں ریلیاں نکالی گئیں۔ مرکزی ریلی لاہور میں نکالی گئی پنجابی پرچار اور پنجابی ادبی بورڈ کے زیر اہتمام منعقدہ ریلی کا آغازلاہور پریس کلب سے ہوا جس کی قیادت پروین ملک ، احمد رضا ،پروفیسر طارق جتالہ ، بابا نجمی اور دیپ جی نے کی ۔ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ریلی میں سیاستدان ،ادیب ، دانشور ، شاعر ، صحافی ، اساتذہ اور دیگر شعبہ ہائےزندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی ، شرکا نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور پنجابی زبان کو اس کا اصل مقام دینے کے لیے نعرے بازی کی، ریلی کا اختتام پنجاب اسمبلی کے باہر ہوا ۔جہاں خطاب کرتے ہوئے صدرپنجابی پرچار احمد رضا نے مطالبہ کیا کہ پنجابی زبان کو فوری طور پرائمری جماعت کی سطح پر نافذ کیا جائے اور اسے اس کا اصل مقام دیا جائے ۔پنجابی ادبی بورڈ کی جنرل سیکرٹری پروین ملک نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ پنجابی زبان کو دبا لے گا تو یہ اس کی بھول ہے ہم پنجابی کا مقدمہ ہر سطح پر جیتیں گے ، معروف انقلابی شاعر بابا نجمی نے اپنی شاعری سے مجمے کو گرمایا تو صابر ورک پنجابی ترانے گاتے رہے ، ریلی میں میاں آصف ، زاہد بھٹی ، خلیل اوجلا ، غزالہ نظام دین ، افضل ساحر ، نواز کھرل ، شمیم ، اقبال قیصر ، بابا نظامی ، کلیان سنگھ ، سکھندر سنگھ سمیت نامور پنجابی رہنماوں نے خطاب کیا ، اس دن کی مناسبت سے لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ ، بورے والا ، ساہیوال ، سرگودھا ، منڈی بہاولدین سمیت دیگر شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔

کراچی میں پاکستان قومی سرائیکی اتحاد کے زیراہتمام ماں بولی دیہاڑ پر خصوصی تقریب ہوئی جس میں سرائیکی کے نامور شاعر شاکر شجاع آبادی نے شرکت کرکے تقریب کو چارچاند لگا دئیے۔شاکرشجاع آبادی نے اپنا کلام بھی پیش کیا۔تقریب میں سرائیکی دانشوروں،شاعروں،ادیبوں اور فنکاروں نے شرکت کی۔


یاد رہے کہ دنیا بھر میں آج مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب والدین اپنے بچوں کو مادری زبان نہیں سکھاتے تو زبانوں کے متروک ہونے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔
تعلیم ،سائنس اور ثقافت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر دو ہفتوں میں ایک زبان اپنی تمام تر ثقافت اور ادب سمیت متروک ہورہی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی متعدد زبانوں کے معدوم ہونے کے خطرات موجود ہیں۔ ملک میں بھی 26 ایسی زبانیں پائی جاتی ہیں جن کا مستقبل خطرے میں بتایا جا رہا ہے۔ان زبانوں میں بلتی، بیٹرئی، بڈراہی، برہوای، برشسکی، چیلیسوسو، ڈیمیلی، ڈومکی، گوور بتی، گورو، کلشا، کوکالی، کٹی، کھوار، کلا مالہ، مایا، اورموری، فالورا، پرک، سوی، اسپیتی، وکولی، یوشوج، وققی، یدگھ اور زانگسکاری شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ وہ تمام ایسی مادری زبانیں ہیں جن کے بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد میں دن بدن کمی ہو رہی ہے۔ہر سال 21 فروری کو دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی طرف سے مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔17 نومبر 1999ء میں یونیسکو نے یہ دن منانے کا اعلان کیا اور 2000ء سے یہ پوری دنیا میں منایا جارہا ہے۔
2008ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس حوالے سے قرارداد منظور کی اور 2008ء کو عالمی زبانوں کے سال کے طور پر منایا گیا۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں صرف 75 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے اور صرف 8 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والے افراد کی تعداد 10 کروڑ سے زائد ہے جو کل دنیا بھر کی کل آبادی کا 40 فیصد بنتا ہے۔عالمی سطح پر صرف 100 زبانوں کا استعمال تحریری شکل میں کیا جاتا ہے۔ مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ مختلف النوع کی ثقافت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے اور ان میں شامل مختلف روایات، منفرد انداز فکر اور ان کا اظہار بہتر مستقبل کے بیش قیمتی ذرائع بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
ہمارے نمائندگان کے مطابق جنوبی پنجاب کے شہروں ملتان،ڈیرہ غازی خان،بہاول پور،لیاقت پور،رحیم یارخان میں بھی مختلف تنظیموں کی طرف سے ماں بولی کے عالمی دن پر ریلیاں نکالی گئیں اور سیمینارز بھی ہوۓ جس میں مقررین نے سرائیکی کو اس کی پہچان اور مقام دینے کا مطالبہ کیا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے