سانحہ ساہیوال: جے آئی ٹی رپورٹ میں خلیل اور اہلخانہ بے گناہ قرار

ویب ڈیسک : 22 فروری 2019
لاہور: سانحہ ساہیوال کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ میں خلیل، اسکی بیوی اور بیٹی کو بے گناہ قرار دے دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچا دی گئی ہے اور راجن پور سے واپسی پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو پیش کی جائے گی ۔
رپورٹ میں ذیشان کو دہشت گردوں کا ساتھی قرار دینے کی سفارش برقرار رکھی گئی ہے۔ جے آئی ٹی نے کہا ہے کہ واقعہ سی ٹی ڈی کی مس ہینڈلنگ سے پیش آیا۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت جے آئی ٹی رپورٹ عوام کے سامنے رکھے گی۔
حکومت پنجاب نے سانحہ ساہیوال پر جے آئی ٹی کو مقررہ مدت 19 فروری تک تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو پیش کرنے کا حکم دے تھا اور جے آئی ٹی نے مقررہ مدت میں رپورٹ جمع کرانے کے بارے لاہور ہائیکورٹ کو بھی باضابطہ آگاہ کرنا تھا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا ہے۔ سیشن جج ساہیوال کو تحقیقات کے لیے مجسٹریٹ تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے 19 جنوری کو ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب ایک گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس میں چار افراد جاں بحق اور تین بچے زخمی ہوگئے تھے۔
کار کے ڈارئیور ذیشان کے متعلق سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔
سانحے پر ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا جس کے بعد حکومتی مشینری حرکت میں آئی۔ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے آپریشن کو 100 فیصد درست قرار دیا تھا لیکن ساتھ ہی محکمہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ کو معطل کرنے کا بھی اعلان کیا۔
سانحہ ساہیوال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ فائرنگ کرنے اور بچوں کو گاڑی سے نکالنے والوں کی ویڈیوز موجود ہونے کے باوجود مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سانحہ ساہیوال پر جے آئی ٹی کی رپورٹ مکمل، مقتول خلیل اوراس کے اہل خانہ کو بے گناہ قرار دے دیا گیا۔ رپورٹ میں ذیشان پر مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہو نے کی تصدیق کر دی گئی۔جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ذیشان کے فون پرمشکوک افراد سے رابطوں کے درجنوں پیغامات ملے ہیں۔ سی ٹی ڈی کو ملنے والی انٹیلی جنس رپورٹ بھی ذیشان سے متعلق ہی تھی۔ جے آئی ٹی رپورٹ سے متعلق میڈیا پر خبریں چلنے کے بعد ذیشان کے بھائی احتشام اور وکیل فرہاد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں جے آئی ٹی کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا۔
انہوں نے کہاکہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کو بچانے کے لیئے جھوٹ کا پلندہ تیار کیا گیا۔ جے آئی ٹی رپورٹ سے متعلق میڈیا ہر خبریں سننے کے بعد ہی پتہ چلا، ہمیں کسی نے جے آئی ٹی کی رپورٹ نہیں دی جو ہمارا قانونی حق ہے۔مقتول ذیشان کے بھائی احتشام نے کہاکہ جن کے حکم پر آپریشن کیا گیا، ان کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کارروائی میں خلیل اور اس کے اہل خانہ کو بچایا جاسکتا تھا لیکن سی ٹی ڈی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ گاڑی کے اندر سے فائرنگ کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ اس لیے مقدمے میں زیرِ حراست6 اہلکار ہی گناہ گار ہیں۔علاوہ ازیں جے آئی ٹی نے رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کر دی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے