جنگ کی تیاری نہیں کررہے لیکن دفاع کرنا ہمارا حق ہے:ترجمان پاک فوج

ویب ڈیسک | اپ ڈیٹ جمعہ 22فروری 2019

اسلام آباد : پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشیں اور دہشت گردی کی جبکہ پلوامہ واقعے میں قابض بھارتی فوج کو کشمیری نوجوان نے نشانہ بنایا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ 14 فروری کو پلوامہ میں قابض بھارتی فوج کو کشمیری نوجوان نے نشانہ بنایا اور جیسا ہوتا ہے کہ واقعے کے فوری بعد پاکستان کے اوپر بھارت نے بغیر سوچے، بغیر کسی ثبوت کے الزامات کی بارش کردی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس دفعہ جواب دینے کے لیے تھوڑا سا وقت لیا ہے، وقت اس لیے جو الزامات لگائے گئے تھے اس کی اپنے تئیں تحقیق کی تھی اور پھر وزیراعظم نے جواب دیا تھا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم ففتھ جنریشن جنگ کے خطرے میں ہیں اور اس کا ہدف نوجوان نسل ہے، پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے تو میں تھوڑا سا حوالہ دے دوں کہ نوجوان نسل سمجھ لیں کہ کیسے بات چیت چل رہی ہے۔‎
انہوں نے کہا کہ ہمارے 72 سال کی تاریخ ہے،1947 میں ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور پاکستان آزاد ہوا،اس حقیقت کو بھارت آج تک قبول نہیں کرسکا، 1947 اکتوبر میں بھارت نے کشمیر پر حملہ کیا اور 72 سال سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم و ستم جاری ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 1965 میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی ہوئی اور بھارت اسے بین الاقوامی بارڈر پر لے آیا اور وہاں اسے شکست ہوئی لیکن ہم ایک نوزائیدہ ملک تھے ہمارے وسائل اور فوج بھی کم تھی تو اس وقت ہمارا ملک جو ترقی کی راہ پر گامزن تھا اس جنگ کے اس پر اثرات مرتب ہوئے، 1971 میں مشرقی پاکستان سے جو ہمارا زمینی فاصلہ تھا اور جو وہاں کے مسائل تھے اسے بھارت نے استعمال کیا، مکتی باہنی کا کردار آپ کے سامنے ہے اور موجودہ بھارتی وزیر اعظم کا بیان بھی آپ کے سامنے ہے
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اصل دہشت گردی بھارت نے تب کی جب مکتی باہنی کے ذریعے وہاں پر حالات خراب کروائے گئے لیکن پاکستانی قوم اس سانحے سے بھی سنبھلی، اس کے بعد 1971 سے لے کر 1984 تک ایسا عرصہ تھا جس میں ہماری مشرقی سرحد پر کسی قسم کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، حالات پرسکون تھے، ایل او سی کی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور ہم ایک طریقے سے دوبارہ استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن تھے لیکن سیاچن کا واقعہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا علاقہ جہاں افواج پاکستان کی موجودگی نہیں تھی وہاں پر بھارت نے ہمارے علاقے پر قبضہ کیا اور اس وقت سے لے کر اب تک دنیا کے بلند ترین مقام پر افواج پاکستان ڈٹی ہوئی ہیں اور مقابلہ کررہی ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اسی دوران افغانستان میں سوویت یونین نے حملہ کیا، جس کے بعد 1998 میں ہم نے دفاع کے لیے جوہری طاقت حاصل کی کیونکہ اس کی مدد سے بھارت کی جانب سے ہم پر روایتی جنگ مسلط کرنے کے امکانات ختم ہوجاتے۔
انہوں نے کہا کہ جب یہ امکانات ختم ہوئے تو بھارت نے غیرروایتی حکمت عملی اپناتے ہوئےہمارے ملک میں دہشت گردی کو فروغ دینا شروع کیا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 2001 میں جب عالمی سیکیورٹی فورسز نے افغانستان میں طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا تو بھارت نے مشرقی سرحد پر بھارت نےکشیدگی شروع کردی اور ہماری توجہ اس طرف ہوگئی
آصف غفور نے کہا کہ اگر اس وقت ایسا نہیں ہوا ہوتا تو ہم بہتر پوزیشن میں ہوتے کہ مغربی سرحد سے پاکستان میں داخل ہونےوالی دہشت گردی کو داخل نہ ہونے دیتے اور وہ اتنی نہ پھیلتی جتنی اس کے نتیجے میں پھیلی۔
انہوں نے کہا کہ 2008 میں جب ہم دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑرہے تھے ہمیں کامیابیاں مل رہی تھیں تو ایک مرتبہ پھر بھارت اپنی افواج کو سرحد پر لے آیا جس کا مقصد یہ تھا کہ بھارت، دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کو روکنا چاہتا تھا جس کا زندہ ثبوت کلبھوشن کی صورت میں ہمارے پاس موجود بھی ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 1988،1989 میں دو طرفہ بات چیت کا آغاز کیا پاکستان نے ہمیشہ امن کی پیشکش کی، 2003 میں ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن کی اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے لیے ایک معاہدہ کیا جس میں گزشتہ 2 برس میں بھارت نے تاریخ میں سب سے زیادہ خلاف ورزی کی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر ہم نے 5 کراسنگ پوائنٹس بھی قائم کیے۔
آصف غفور نے کہا کہ 2004 سے 2008 تک 5 مرتبہ ہماری مذاکرات کے لیے بیٹھک بھی ہوئی لیکن اس مرحلے کو بھی ممبئی حملے جیسے تناظر میں بھارت نے ختم کردیا۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان میں کوئی بہت اہم ایونٹ ہو،پاکستان کے استحکام میں بہتری آرہی ہو تو بھارت یا مقبوضہ کشمیر میں کوئی نہ کوئی ایسا حادثہ پیش آجاتا ہے۔
ترجمان آصف غفور نے کہا کہ دسمبر 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا اس وقت وہاں 2002 میں عام انتخابات اور صدارتی انتخابات ہونے تھے اور یہی وہ وقت تھا جب 11/9 کے بعد پاکستان میں مغربی سرحد سے دہشت گردی ملک میں داخل ہونا شروع ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 8 ایونٹ چل رہے تھے اور وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے وقت میں پاکستان کو پلوامہ حملے کا کیا فائدہ بلکہ اس کا تو پاکستان کو نقصان ہے۔
آصف غفور نے کہا کہ بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر تنہا کردیا جائے لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح سفارتی لوگ اور سرمایہ کاری پاکستان میں آرہی ہے اور پاکستان ایئرفورس اور پاک بحریہ کی مشقوں میں بیرون ملک کی افواج نے بھی حصہ لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد جو ویڈیو جاری کی گئی ہے اس کی اگر تکنیکی جائزہ لیں تو وہ بھی آپ کو بہت سے شواہد دے گا کہ وہ کس طرح کی ہے۔
پاکستان کی جانب سے ردعمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان بدل رہا ہے، ایک نئی سوچ آرہی ہے، ہم نے بہت قربانیاں دے کر یہ مقام حاصل کیا ہے، اب ہم میں صبر آرہا ہے، ہم نے افغانستان میں موجود فورسز کو القاعدہ کے خلاف کامیابی حاصل کرنے میں مدد دی۔
آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہم نے غلطیاں کی اور ان سے سیکھا بھی لیکن اب غلطی کی گنجائش نہیں، پلوامہ واقعے پر وزیر اعظم نے جو پیش کش کی وہ پہلے کبھی نہیں کی گئی جبکہ جب بھی ہم مذاکرات کی بات کرتے تھے تو بھارت کہتا تھا کہ دہشت گری پر بات کریں اور وزیر اعظم نے یہ بھی پیش کش کی کہ ہم اس پر بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم گزرے ہوئے کل کی افواج نہیں، ہمارے تینوں سپہ سالار سے لے کر سپاہی نے اپنے ہاتھ سے جنگ لڑی ہے، بھارت ایک معلوم خطرہ ہے اور انہیں کے لیے جواب تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم جنگ کی تیاری نہیں کررہے لیکن دفاع کرنا ہمارا حق ہے کیونکہ جنگ اور بدلے دھمکی بھارت کی طرف سے آرہی ہے۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارت نے جو راستہ اختیار کیا کہ حملے ہوتے ہی بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزمات لگادیے، ٹماٹر بند کردیے، پسندیدہ ملک کا درجہ واپس لے لیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے پر تحقیقات اور بات چیت کی پیش کش کی، خطے کےمعاملے خاص طور پر کشمیر پر بات چیت کرنے کی پیش کش کی، بھارت کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیوں کشمیری اس حد پر پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم 21 ویں صدی میں ہیں ہمارے خطے میں بہت سارے چیلنجز ہیں اور دونوں ممالک کے عوام کو بہتر زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے ناکہ جنگ کہ جس کی بھارت بات کر رہا ہے، آپ اپنی بیوقوفی کے ذریعے آنے والی نسلوں سے یہ حق نہ چھینیں۔آصف غفور کا کہنا تھا کہ آج آپریشن ردالفساد کو 2 برس ہوگئے ہیں، اس آپریشن میں بلاتفریق دہشگردوں کا خاتمہ کیا اور کافی بڑی تعداد میں دھماکا خیز مواد برآمد کیا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آپ بھارت کو ایران کے ساتھ نہیں ملا سکتے، بھارت سے ہمارا 70 سال پرانا معاملہ ہے جبکہ ایران دوستانہ اسلامی برادر ملک ہے۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی قوم کو اس طرف لے کر جانا ہے جہاں انہیں تعلیم، روز گار اور ہر سہولت مل سکے۔پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ایران میں ہونے والے واقعے پر پاک ایران سرحد، وہاں کی قیادت اور سیکیورٹی فورسز سے روابط ہیں اور سرحد کی صورتحال کو مل کر بہتر کریں گے۔
خیال رہے کہ پاک فوج کے ترجمان کی پریس بریفنگ ایک ایسے اہم وقت میں کی گئی جب خطے کی موجودہ صورت حال کشیدہ ہے۔
گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں پلوامہ حملے کے بعد رونما ہونے والی خطے کی صورتحال اور قومی سلامتی امور پر غور کیا گیا تھا۔
اس اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مسلح افواج کو مکمل اختیار دے دیا تھا۔
وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں متفقہ طورپر آمادگی کا اظہار کیا گیا تھا کہ ’پاکستان پلوامہ حملے میں کسی بھی سطح پر اور کسی بھی طریقے سے ملوث نہیں‘۔اجلاس میں کہا گیا تھا کہ ’ پلوامہ حملے کی منصوبہ بندی مقامی طور پر کی گئی تاہم پاکستان حملےکی تحقیقات میں معاونت کی سنجیدہ پیشکش کرچکا ہے‘۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں دہشت گردی اور تنازعات کےحل کے لیے بھارت کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی گئی تھی۔
اس سے قبل 19 فروری کو قوم سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی حکومت کو پیش کش کی تھی کہ پلوامہ حملے میں کسی بھی قسم کی تحقیقات کروانا چاہتے ہیں تو پاکستان تیار ہے۔
وزیر اعظم نے بھارتی حکومت پر واضح کیا تھا کہ یہ نیا پاکستان، نئی ذہنیت اور نئی سوچ ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نہ کوئی پاکستان سے جاکر باہر دہشت گردی کرے اور نہ باہر سے آکر کوئی پاکستان میں دہشت گردی کرے کیونکہ یہ ہمارے مفاد میں ہے، ہم استحکام چاہتے ہیں۔
انہوں نے بھارتی حکومت کو پیش کش کی پلوامہ حملے میں اگر آپ کے پاس کسی پاکستانی کے ملوث ہونے سے متعلق کوئی قابل عمل معلومات ہیں تو ہمیں فراہم کریں، ہم کارروائی کریں گے۔
تاہم ساتھ ہی عمران خان نے کہا تھا کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کا سوچا تو پاکستان سوچے گا نہیں بلکہ جواب دے گا اور پاکستان کے پاس جواب دینے کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں بم دھماکے کے نتیجے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد نئی دہلی نے کسی بھی طرح کی تحقیقات کیے بغیر اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا جسے اسلام آباد نے مسترد کردیا۔
بھارت نے الزام لگایا تھا کہ یہ حملہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی جانب سے کروایا گیا، ساتھ ہی انہوں نے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
تاہم بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے اس معاملے کو پاکستان سے جوڑدیا تھا اور پاکستان سے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ واپس لے لیا تھا جبکہ پاکستان سپرلیگ کی نشریات پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔
اس کے علاوہ بھارتی درآمدکنندگان نے پاکستانی سیمنٹ کی درآمد روک دی تھی جس کے نتیجے میں پاکستان کی سیمنٹ فیکٹریوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔
بھارت میں اور مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمان شہریوں کے گھروں اور املاک کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں درجنوں مسلمان خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جواب دیا تھا کہ پاکستان پر الزام لگانا ایک منٹ کی بات ہے، بھارت اپنا ملبہ پاکستان پر پھینک رہا ہے اور اب دنیا اس سے قائل نہیں ہوگی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے