جنگ بولی وڈ کی فلم نہیں ہے مہاشے جی!

محمد عثمان جامعی

جنگ بولی وڈ کی فلم نہیں ہے مہاشے جی!


  • محمد عثمان جامعی

جنگ بولی وڈ کی فلم نہیں ہے مہاشے جی!
ہر سین لکھاری کا لکھا
جوں کا توں فلمایا جائے
جب کرے اشارہ ڈائریکٹر
بدلیں چہرے، بدلے منظر
آغاز ہو اپنے ہاتھوں میں
“دی اینڈ“ لکھا ہو پَنّے پر

جنگ کرکٹ کا میدان نہیں
پیسے لے کر ہارو جیتو
جنتا کے جذبوں سے کھیلو
یوں شور مچے کہ جوش بڑھے
تھرکیں کنیائیں ہوش اُڑے
فائنل پر خوب تماشا ہو
کچھ غصہ ہو، کچھ ٹھٹھا ہو
پھر کھلاڑی، انویسٹر جائیں
سب مال کما کر گھر جائیں

جنگ چُناﺅ کا بازار نہیں
رنگ بازی ہو، آروب لگیں
جو منہ میں آئے بکتے رہیں
بھڑکیں ہوں جھوٹے وعدے ہوں
ہو مکروفریب اور دعوے ہوں
شعلے دہکیں، کچھ لوگ مریں
اور خون سے لتھڑے ووٹ ملیں
یوں ختم چناﺅ کا قصہ ہو
ہر اک کا اپنا حصہ ہو

جنگ بھڑکی تو پھر بجھے کی اپنی مرضی سے
یہ وہ خونی کالی دیوی
جس کا دل نرم نہیں پڑتا
بھیٹوں سے اور نہ خوں سے لکھی
فائربندی کی عرضی سے

بم کی آواز نگل لے گی
مندرگھنٹی کی تانوں کو
مسجد سے اُٹھتی اذانوں کو
کھیتوں، کھلیانوں، کسانوں کو
باغوں کو اور میدانوں کو
مزدوروں کا خوں پی لے گی
دلی، لاہور، کراچی میں
یہ خون کی ہولی کھیلے گی
سندھو کو، گنگا جمنا کو
ڈائن یہ لُہو سے بھر دے گی
دیہات کو راکھ بنادے گی
شہروں کو ویراں کردے گی
ساری خوش بو پی جائے گی
سارے پھولوں کو ڈس لے گی
سب پیڑوں کو جھلسادے گی
یہ جھولوں کو کھا جائے گی
اسکولوں کو کھاجائے گی

یہ سوچے گی نہ سمجھے گی
نہ حُسن وجمال پہ تڑپے گے
دیکھے گی موہنجو ڈارو کو
نہ تاج محل کو دیکھے گی
اپنے سارے کالے منظر
خونیں رنگوں والے منظر
اپنے ہاتھوں سے لکھے گی
اپنی ترتیب میں رکھے گی
آغاز کرو گے تم اس کا
انجام خود اپنا لکھے گی

یہ بلا گُپھا سے نکلی تو
صدیوں کو خاک بنادے گی
تمھیں غاروں میں پہنچادے گی
ہمیں غاروں میں پہنچا دے گی

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے