عمران خان کی کابینہ میں آدھے سے زیادہ وزیر’میرے لوگ‘ ہیں:پرویز مشرف

ویب ڈیسک :اتوار 24 فروری 2019


آل پاکستان مسلم لیگ اصل مقصد نواز شریف اور آصف علی زرداری کو سیاست سے باہر کرنا ہے:دبئی میں پریس کانفرنس


دبئی: آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے سربراہ اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا کہنا ہے پاکستان میں سیاسی ماحول ان کی واپسی کے لیے مناسب ہے تاہم ان کا ابھی وطن واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
دبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق صدر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں زیادہ تر افراد ان کے ہیں، تاہم یہ ’غیر معمولی‘ ہوگا کہ حکومت سے گزارش کروں کہ ان کا کیس عدالت میں دائر کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں سیاسی ماحول سازگار اور بہتر ہے، آدھے سے زیادہ وزیر میرے ہی ہیں، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل میرے وکیل تھے‘۔
اے پی ایم ایل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میرا ملک ہے، میرے دوست اور رشتہ دار وہیں ہیں میں وہاں ضرور جاؤں گا تاہم ابھی میں بے وقوفوں کی طرح فوری نہیں کود سکتا میں ایک حکمت عملی کے تحت پاکستان جاؤں گا‘۔
جنرل مشرف جو خود ساختہ جلا وطنی کے بعد دبئی میں قیام پذیر ہیں، نے ملک کی 2 بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پر تنقید کرتے ہوئے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو ’لٹیرے‘ قرار دیا۔
انہوں نے خصوصی طور پر آصف علی زرداری پر تنقید کی اور الزام لگایا اور کہا کہ وہ متعدد ’قتل اور اغوا برائے تاوان‘ کے کیسز میں ملوث ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے بلاول ہاؤس کے نزدیک تقریباً 40 گھروں پر انتہائی کم قیمت پر قبضہ کیا۔انہوں نے میڈیا کو تجویز دی کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خلاف کام کریں جنہوں نے ان کے مطابق ’ملک کو تباہ کردیا ہے‘۔پریس کانفرنس کے دوران پرویز مشرف نے اپنی جماعت کے چیئرمین ہدایت اللہ خیشجی کو متعارف کرایا جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اے پی ایم ایل میں تنظیم نو کا کام کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیماری کے حوالے سے باتیں کی جارہی ہیں اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ اے پی ایم ایل ختم ہوگئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی صحت بہتر ہورہی ہے اور وہ جنوبی افریقہ کے ٹرینر کے ساتھ جم میں روزانہ کی بنیاد پر ورزش کر رہے ہیں۔پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا اصل مقصد نواز شریف اور آصف علی زرداری کو سیاست سے باہر کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اے پی ایم ایل ان کو سیاست سے باہر کرنے کے لیے تمام اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی حمایت کرتی ہے جو ملک میں ’تیسری قوت‘ بن کر ابھری ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ہٹانے کے لیے اگر کوئی بھی اقدامات کیے گئے تو ان کی جماعت تحریک انصاف کا ساتھ دے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان اتحاد کو توڑنے کی ضرورت ہے اور پاکستان ایسا بہت آسانی سے کرسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جوہری قوت کے حامل پڑوسی ملک بھارت اور پاکستان میں کشیدگی ’خطرناک سطح‘ پر پہنچ گئی ہے اور اس ہی طرح کی صورتحال 2002 میں بھی پیدا ہوئی تھی جب بھارت نے اپنی آرمی، نیوی اور ایئر فورس کو سرحد پر 10 ماہ تک تعینات کر رکھا تھا تاہم بھارت میں ایڈونچر کرنے کی اتنی ہمت نہیں ہوئی اور پاکستان کی تیاریاں دیکھتے ہوئے اس نے اپنی فوج کو واپس بلالیا تھا۔
پاکستان کے سابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بھارت سرجیکل اسٹرائیک نہیں کرسکتا۔ایک سوال کے جواب میں جنرل مشرف نے جوہری حملوں کی باتوں کو احمقانہ قراردیا-انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت کشمیر میں کوئی حملہ کرتا ہے تو پاکستان، سندھ اور پنجاب میں حملے کرکے انہیں سبق سکھا سکتا ہے۔
سابق صدر کا کہنا تھا کہ اگر امریکا، افغانستان سے اپنی فوج واپس بلالیتا ہے تو کابل میں خانہ جنگی کا آغاز ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی انخلا کے بعد 3 طرح کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہیں جن میں پہلی یہ کہ افغان، ازبک اور تاجک میں جنگ کا آغاز ہوجائے گا، دوسری طالبان ملک پر قبضہ کرلیں گے اور تیسری یہ کہ شمالی اتحاد بھارت کی مدد سے ملک کے چند حصوں پر قبضہ کرلے گی اور ایسی صورتحال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان افغانستان میں پروکسی وار کا آغاز ہوسکتا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے