بھارت ہمارے سرپرائز کا انتظار کرے:ڈی جی آئی ایس پی آر

ویب ڈیسک | منگل 26 فروری 2019

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کو چیلنج کیا ہے کہ آئے اور 21 منٹ تک پاکستان کی فضائی حدود میں رہ کر دکھائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے چند دنوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات میں کشیدگی چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیوقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا ہمسایہ بھارت دشمنی میں بھی بے وقوفی اور جھوٹ کا سہارا لیتا ہے، آئيں 21 منٹ تک پاکستان کی فضائی حدود میں رہ کر دکھائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ حملہ کیا تو جواب کا سوچیں گے نہیں جواب دیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 14 فروری کے بعد جب ٹینشن بڑھی تو وہ لوگ پیٹرولنگ کرتے ہیں، کمبٹ ایئر پیٹرولنگ ہر وقت فضا میں رہتے ہیں۔وقت اور جگہ کا انتخاب کرکے بھارت کو جارحیت کا جواب دیا جائے گا: پاکستان
انہوں نے کہا کہ 14 فروری کے بعد سے کیپ مشن فضاء میں ہیں، پیشہ وارانہ کام چلتے رہتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ان کی فارمیشن چار سے پانچ ناٹیکل میل اندر آئی جنہيں پاکستان ایئر فورس نے چیلنج کیا، بھارتی طیاروں نے جاتے ہوئے پے لوڈ ڈراپ کیا ، ان کے چار بم جبہ کے مقام پر گرے۔
ان کا کہنا تھا کہ رات کو ہمارا کمبٹ مشن قریب تھا جب سیالکوٹ میں پہلی بار بھارتی طیارے ریڈار پر آئے، ہماری فورس نے انہیں چیلنج کیا لیکن وہ قریب نہیں آئے اور اپنی حدود میں رہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ایک بھارتی فارمیشن اوکاڑہ بہاولپور سیکٹر میں ریڈار نے نوٹ کی، اگر یہ ہماری کسی بھی ملٹری پوزیشن پر اسٹرائیک کرتے تو ایئرفورس کی فائٹ ہوتی۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر یہ مورچے پر اٹیک کرتے تو فوج اور ایئرفورس تیار ہے، اگر آرمی کی پوسٹ پر اسٹرائیک ہوتی تو یونیفارم اہلکاروں کی شہادت ہوتی لیکن ان کا مقصد سویلین کو نشانہ بنایا تھا تاکہ وہ دعویٰ کرسکیں کہ انہوں نے دہشتگرد کیمپوں پر حملہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہيں لائن آف کنٹرول کی طرف آتے ہوئے اور واپس جاتے ہوئے 4 منٹ لگے، اگر ایل او سی پر اسٹرائیک کرتے تو فضائیہ کی فائٹ ہوتی ہے جو نہیں ہوئی۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کہ بھارت نے 350 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا لیکن میں کہتا ہوں کہ کوئی ایک اینٹ بھی نہیں ٹوٹی، اگر وہاں کوئی عمارت ہوتی یا 10 لوگ بھی مرے ہوتے تو وہاں ملبہ ہوتا، لاشیں ہوتی، خون ہوتا لیکن جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے بھی بھارت کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور آئندہ بھی کریں گے اور ہم بھارت کے جھوٹ کا جواب سچ سے دیں گے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم بھارت کی طرح غیر جمہوری ملک نہیں بلکہ ایک جمہوری ملک ہیں اور پوری قوم اور سیاسی جماعتیں یکجا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے حملہ نہیں در اندازی کی اور اب ہماری باری ہے، پہلے بھی کہا تھا کہ بھارت ہمیں کبھی سرپرائز نہیں کر سکتا لیکن ہم بھارت کو سرپزائر کر سکتے ہیں، ہمارا جواب مختلف ہو گا، وقت اور جگہ کا تعین ہم خود کریں گے اور بھارت ہمارے سرپرائز کا انتظار کرے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کل پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہے جس کے بعد وزیراعظم نے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے اور مجھے اس کی اہمیت بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو بتاؤں گا کہ آج کیا ہوا اور اس پر بھارتی میڈیا کس طرح سے بات کررہا ہے۔انہوں نے بریفنگ کے دوران بھارت کے مختلف میڈیا چینلز کی جانب سے شائع کی جانے والی شہ سرخیوں کو بھی اسکرین پر دکھایا۔انہوں نے کہا کہ ایک محاورہ ہے کہ بے وقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے، لیکن یہاں بھارت دشمنی میں بھی بے وقوفی کا ثبوت دیتا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس کے طیارے 21 منٹ تک ایل او سی کی دوسری جانب پاکستان کی فضائی حدود میں دراندازی کرتے رہے جو جھوٹے دعوے ہیں۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’اللہ کی ذات بڑی ہے ، آئیں پاکستان کی حدود میں 21 منٹ تک رہ کر دکھائیں۔‘ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ چنددنوں سے پاک بھارت کشیدگی جاری ہے، حالیہ کشیدگی کا آغاز پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد ہوا۔انہوں نے کہا کہ ’پلوامہ کے بعد وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عوام سے بات چیت کی اور انہیں اعتماد میں لیا، جس کے بعد میں نے (میڈیا سے) تفصیلی بات چیت کی۔‘
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’وزیراعظم نے کہا تھا کہ آپ (بھارت) نے اگر پاکستان پر حملہ کیا تو ہم جواب کا سوچیں گے نہیں بلکہ جواب دیں گے۔‘میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جس دن سے کشیدگی کا آغاز ہوا جنگ کی تیاری کے طریقہ کار کے مطابق بری، فضائی اور بحری افواج نے اقدامات کیے ہوئے ہیں۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہماری فوج تعینات ہے، اسی وجہ سے اگر بھارتی فوج زمینی راستہ اختیار کرتی انہیں وہی جواب ملتا جو ہم نے منصوبہ بنایا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو پہلے مختلف دو مقامات پر مصروف کیا لیکن پھر کشمیر میں علیحدہ مقام سے دراندازی کی۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ رات کو ہمارا کمبٹ ایئر پیٹرول مشن پیٹرولنگ پر تھا جب بھارتی طیارے پہلی مرتبہ سیالکوٹ –لاہور کے علاقے میں ریڈار پر سامنے آئے جو پاکستانی حدود کی جانب بڑھ رہے تھے جس پر ہماری پیٹرولنگ ٹیم نے فضا سے ہی ان طیاروں کو چیلنج کیا اور وہ پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہوسکے اور وہ سرحد سے 7 یا 8 میل دوری پر اپنی فضا میں ہی رہے۔انہوں نے کہا اس کے بعد ہمارے ریڈار پر سامنے آیا کہ بھارت کی ایک بھاری ٹیم مظفرآباد سیکٹر سے دراندازی کی کوشش کررہی تھی جب ہماری تیسری کمبٹ ایئرپیٹرول ٹیم نے بھارتی طیاروں کو چیلنج کیا اس وقت انہوں نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) میں دخل اندازی کی جس کے آنے اور جانے میں 4 منٹ لگے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے واپس جاتے ہوئے جابہ کے مقام پر 4 بم گرائے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ جھوٹ کا سہارا لیا، پاکستان ان کا جواب جھوٹ سے نہیں بلکہ سچ سے دے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 350 افراد کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تاہم اگر 10 افراد بھی مارے جاتے تو اس کے شواہد ہوتے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پاکستانی حدود میں کوئی کارروائی ہوتی تو وہاں لاشیں، عمارتوں کا ملبہ اور زخمیوں یا مارے جانے والوں کا خون ہوتا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ رواں برس 14 فروری کے بعد جب سے اس کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو سرحد کے دونوں اطراف اپنی اپنی فضائی کمبٹ پیٹرولنگ کرتے ہیں جن کی پیٹرولنگ جاری رہتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہر وقت کمبٹ ایئر پیٹرولنگ کے مشن فضا میں رہتے ہیں، ایسا ہی گزشتہ رات بھی تھا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی طیارے پہلے بھی سرحد کے نزدیک آئے تھے لیکن وہ اتنی نزدیک نہیں آئے تھے جہاں سے ہمیں محسوس ہوتا کہ یہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کا مقصد آزاد کشمیر میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، شہری آبادی کو نشانہ بنانا تھا تاکہ کسی ایسے مقام پر حملہ کیا جاتا جہاں شہری آبادی موجود ہو تاکہ یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ بھارت نے پاکستان میں کسی ٹریننگ کیمپ پر حملہ کیا اور یہ دعویٰ الیکشن میں ان کے لیے فائدہ مند ہوتا۔
خیال رہے کہ رواں برس 14 فروری کو ایک ریموٹ کنٹرول حملے کے نتیجے میں تقریباً 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے