پلوامہ واقعہ :بھارت نے پاکستان کی تحقیقات کی پیشکش قبول کرلی

ویب ڈیسک: جمعرات 28 فروری 2019
نئی دہلی،اسلام آباد : بھارت نے پاکستان کی پلوامہ واقعہ کی تحقیقات کی پیشکش قبول کرتے ہوئے ڈوزئیر پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔
بھارتی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے پلوامہ واقعہ کی تحقیقات کی پاکستانی پیشکش قبول کرتے ہوئے ڈوزیئر پر مبنی تحقیقاتی تقاضا سفارتی طور پر پاکستان کے حوالے کردیا ہے۔ بھارت نے وزیراعظم عمران خان کی تقریرکے بعد ڈوزیئر نئی دہلی میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنرکے حوالے کیا۔ ڈوزئیر میں پلوامہ واقعہ کی تفصیلات شامل ہیں۔
بھارتی ترجمان کے مطابق بھارت نے پاکستان کو دیئے جانے والے ڈوزیئر میں گرفتار بھارتی پائلٹ کے حوالے سے بھی تفصیلات کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے مقبوضہ کشمیرمیں زوردار کار بم دھماکے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے، ہر بار کی طرح اس بار بھی بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے حملے سے متعلق پاکستان پر الزامات عائد کیے ہیں تاہم پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

ادھر ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ پلوامہ واقعے پر بھارتی ڈوزیئر موصول ہوا ہے، مشاہدے کے دوران قانونی شواہد کا جائزہ لیا جائے گا، ثبوت قابل عمل ہوئے تو کارروائی کریںگے۔ بھارت نے اپنے پائلٹ کا معاملہ بھی اٹھایا ہے، جنگی قیدی کے درجے سے متعلق فیصلہ بعد میں ہو گا۔
دفتر خارجہ میں بریفنگ کے دوران ترجمان ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان کو پلوامہ واقعے پر ڈوزیئر موصول ہوا ہے، جس کا مشاہدہ کیا جائے گا، قانونی شواہد قابل عمل ہوئے تو پاکستان کارروائی کرے گا۔
ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان مذاکرات کیلئے تیار ہے جس میں دہشتگردی کےعلاوہ دیگرمسائل پربھی بات ہونی چاہیئے۔ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پلوامہ واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے ظلم و تشدد میں اضافہ کر دیا۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت نے پائلٹ کا معاملہ اٹھایا ہے، پاکستان کا اس سے متعلق موقف واضح ہے۔ بھارتی پائلٹ محفوظ اورصحت مند ہے، اسے عوام نے پکڑا اور فورسز نے بچایا، جنگی قیدی کے درجے سے متعلق فیصلہ بعد میں ہو گا، پائلٹ پر کونسا کنونشن لگنا ہے، فیصلہ ایک دو روز میں ہو گا۔
بھارت او آئی سی جائے گا تو ہم شریک نہیں ہوں گے، دونوں ممالک عالمی برادری سے رابطے میں ہیں۔ دہشتگردی کی بات کرنیوالے ممالک پر پوزیشن واضح کر دی، دہشتگردی ہوتب بھی بھارت کوسرحدی خلاف ورزی کی اجازت نہیں۔ دہشتگردی کے الزام کو قانونی جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر ایسا ہو تو پاکستان بھی کل کسی پرحملہ کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے ہی دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کر رہا ہے، بھارت یہاں آ کر بم نہ گراتا تو ہماری بھی کوئی خواہش نہیں تھی،
بھارت نے حملہ کیا تو ہم نے بھی جواب دے دیا۔ بھارت نے 350 ہلاکتوں کاایک بھی ثبوت نہیں دیا۔ ہوا میں چھکے مارنے ہوں تو ہم بھی 1800 ہلاکتوں کا کہتے-

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے