بھارتی پائلٹ کی رہائی کا فیصلہ درست یا غلط؟

بھارتی پائلٹ کی رہائی کا فیصلہ درست یا غلط؟

فرحان احمد خان

گرفتار بھارتی پائلٹ کی رہائی کے اعلان کے بعد بہت سے لوگ فکر مند ہیں کہ انڈین میڈیا اسے پاکستان کی شکست قرار دے رہا ہے ، یہ لوگ کہنا چاہتے ہیں کہ عمران خان نے جلد بازی میں فیصلہ کیا۔ ابھی ہولڈ آن رکھنا چاہیے تھا۔

ہمارا مشاہدہ ہے کہ انڈین میڈیا کا بڑا حصہ انتہائی منفی ہے اور سنسنی سے بھرپور نشریات چلاتا ہے ۔ اگر یہ فیصلہ کچھ دیر بعد بھی ہوتا تب بھی وہاں سے پاکستان کے لیے حرف خیر نہیں آنا تھا۔ ہاں میں چند آوازوں کو استثنیٰ ضرور دیتا ہوں۔

سو ریاستوں کے معاملات اور ان کے جڑے فیصلوں کو دریدہ دہن ٹی وی اینکروں کی عینک سے نہیں دیکھا جاسکتا ۔ عمران خان اور مودی اگر ٹی وی دیکھ کر فیصلے کریں گے تو کل کی بجائے آج ہی جنگ شروع ہو جائے گی ۔ میڈیا کو بیچنے کے لیے سودا درکار ہوتا ہے اور سنسنی خیزی سودا بیچنے کا ذریعہ ہے۔

میڈیا اپنے طریقے سے دھندہ چلاتا رہے گا۔سوال یہ ہےکہ آپ اتنی بے تابی سے انڈین میڈیا فالو ہی کیوں کرتے ہیں۔ ان کے چینلوں کی ریٹنگ کیوں بڑھاتے ہیں۔ یہ ریٹنگ ہی کا دھندہ ہے۔ اپنے پاس پہلے سے ڈاؤن لوڈڈ انڈین فلموں پر قناعت کیوں نہیں کرلیتے۔

ریاستیں اگر کلی طور پر Idiot Boxes میں اچھلنے والوں کی خواہشات کی تکمیل کرنے لگیں تو تباہی کے علاوہ کچھ بھی نتیجہ نہیں ہوگا۔ ان حمق کے ڈبوں میں سرشام چھابڑیاں لگا کر بیٹھنے والے چند تجزیہ باز دونوں ملکوں کی اجتماعی دانش کے نمائندے نہیں ہیں ۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہی تو یہ ایک کھوکھلے زعم سے سوا کچھ نہیں۔

عمران خان کا گرفتار کمانڈر ابھے نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ ایک بہترین سفارتی اقدام ہے ۔ پاکستان بھارت کشیدگی کو لے کر فکر مند عالمی حلقوں میں اس بروقت اقدام کی اہمیت کم نہیں ۔ اب بال بھارت کے کورٹ میں لڑھکا دی گئی ہے ۔ مودی جس کی شناخت کی تشدد اور نفرت ہے ، اسے اس Gesture of peace کا جواب مناسب انداز میں دینا پڑے گا ۔ نہیں دے گا تو پاکستان کا کچھ نہیں بگڑے گا ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے