ناصرکاظمی کو مداحوں سے بچھڑے 47 برس بیت گئے

دائم آباد رہےگی دنیا . . . ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

ادبی رپورٹر : ہفتہ 02 مارچ 2019



لاہور: اردو زبان کے معروف شاعر ناصر کاظمی کو ہم سے بچھڑے 47 برس بیت گئے لیکن آج بھی ان کا کلام سننے والوں کی سماعتوں میں رس گھولتا ہے۔
اردو ادب کے معروف شاعر ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925ء کو امبالہ میں پیدا ہوئے، ان کا پیدائشی نام سید ناصر رضا کاظمی تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم امبالہ اور شملہ میں حاصل کی بعد ازاں لاہور کے اسلامیہ کالج میں زیر تعلیم رہے۔

پاکستان بننے کے بعد ناصر کاظمی لاہور میں آباد ہوئے، جہاں انہوں نے اخبارات میں لکھنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان میں خدمات انجام دیں، اس کے ساتھ ساتھ شعری سفر بھی جاری رکھا۔ ناصر کاظمی نے جہاں بہت سی مقبول غزلیں تخلیق کیں، وہیں پہلی بارش، برگ نے، ہجر کی رات کا ستارہ اور نشاط خواب ان کی یادگار کتابوں میں شامل ہیں۔
ناصر کاظمی کی گراں قدر خدمات پر پاکستان پوسٹ نے 2013ء کو خصوصی ٹکٹ جاری کیا، ناصر کاظمی کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث 2 مارچ 1972ء کواپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ لیکن اپنی شعری تخلیقات میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔

سید تاثیر نقوی لکھتے ہیں

2۔ مارچ 1972 کی صبح اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ باصر کو دیکھا بس وہ یہی کہہ سکا۔”پاپا آئے ہیں۔“ اور پھر گلے لگ کر روئے ۔میں نے پاپا (اپنے والد ) کو بتایا ہم باصر کہ ساتھ باہر ایمبولینس تک گئے تو آگے اپنے گھر کی گلی جہاں ناصر کاظمی نے قیام پاکستان کے بعد سات برس گزارے تھے اور جس جگہ پر ناصر کاظمی،انتظار حسین،شیخ صلاح الدین،حنیف رامے گھنٹوں کھڑے باتیں کرتے تھے وہاں سٹریچر پر لیٹے سب کو دیکھ رہے تھے ایمبولینس میں مسز کاظمی ( میری پھوپھی اور والدین کی کزن ) سوگوار بیٹھی تھیں بھائی سے مل کر پرسہ لیا اور پھر کرشن نگر گھر روانہ ہوگیئں۔ ہم بھی الگ سے روانہ ہوئے ۔ دوپہر کو جنازہ کا جلوس قبرستان مومن پورہ کی طرف روانہ ہوا اور اس طرح سب عزیزوں دوستوں اور مداحوں نے روتی آنکھوں سے انہیں سپرد خاک کر دیا۔اس طرح ایک عظیم انسان اور شاعری کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔ آج 2 مارچ ہے اور صبح سے ہی طبیعت افسردہ ہے۔
2 مارچ 1972 کی تمام فلم آنکھوں کے سامنے ہے۔ وہ عظیم ہستی آج بھی زندہ ہے اپنی تخلیقات ،یادوں اور اس خدمت کی بدولت جو اس نے ادب کے لیے اپنی تمام زندگی وقف کی ہوئی تھی۔۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے ۔
تو جہاں چند روز ٹھہرا تھا
یاد کرتا ھے تجھ کو آج وہ گھر
(ناصرکاظمی)

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے