پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں لیبارٹری ٹیسٹ50فیصد مہنگے

ویب ڈیسک |02مارچ 2019


لاہور: سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی ناکافی سہولیات سے پریشان عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے بجاۓ پنجاب حکومت نے اب علاج کرانا بھی مزید مشکل بنا دیا ہے۔
پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں تشخیصی ٹیسٹوں کی فیسوں میں 50 گنا اضافہ کرکے غربت اور تنگ دستی کے مارے غریب مریضوں پر مہنگائی بم گرا دیا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں لیبارٹری ٹیسٹوں کی فیسوں میں اضافہ کردیا گیا ہے، بعض ٹیسٹوں کے ریٹس نجی ہسپتالوں سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں۔
محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے میڈیکل ٹیسٹوں کے نئے ریٹس نافذ کردیئے اور ہسپتالوں کی انتظامیہ کو نئے ریٹس چارج کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں، انجیو گرافی کے ریٹس  25 ہزار 200  سے لیکر 45 ہزار اور  ایم آر آئی  کے4 ہزار 500 سے 9 ہزار روپے کرد یئے گئے ہیں۔
جنرل سرجری کو 5 کیٹگریز میں تقسیم کر دیاگیا، عام مریضوں کیلئے 3 ہزار سے 20 ہزار روپے، پرائیویٹ کمرہ لینے والوں کیلئے 15 ہزار سے 60 ہزار روپے مقرر کیے گئے۔ الیکٹرو فیزالوجی 2500 سے 90 ہزار روپے میں ہوگی۔
نیورو سرجری کے حوالے سے 4 کیٹگریز بنائی گئی ہیں، نیورو سرجری میں 25 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ تک کا آپریشن ہوگا، پرائیویٹ مریض کیلئے 50 ہزار سے ساڑھے 3 لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں جبکہ اے سی کمرے کے7 ہزار اور بغیر اے سی کے 2500 روپے لیے جائیں گے، پرائیویٹ روم میں کنسلٹنٹ کی فیس 2 ہزار روپے ہر وزٹ کی ہوگی۔
ادھر عوامی اور سماجی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو صحت اور عوام دشمن قرار دیتے ہوۓ کہا ہے کہ پہلے ہی سرکاری ہسپتالوں کے حالات دگرگوں ہیں۔مریضوں کو مفت علاج تو درکنار مفت ادویات تک نہیں ملتیں۔پی ٹی آئی حکومت کے آنے سے عوام کو امید کی کرن دکھائی دی تھی کہ اب سرکاری ہسپتالوں کے حالات بہتر ہوں گے اور عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات مفت ملیں گی لیکن حکومت نے بیماریوں کے تشخیصی ٹیسٹوں کی فیسوں میں اس قدر اضافہ کردیا ہے کہ اب کوئی غریب اور دیہاڑی دار اتنے مہنگے ٹیسٹ کرانے کا سوچے گا بھی نہیں۔حکومت نے مریضوں کو بیماری میں سسک سسک کر مرنے کے لیے موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے