پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ

سنہ 2015 اور 2016 کے درمیان جنگلات کے رقبے میں 6 لاکھ ایکڑ کا اضافہ ہوا

ویب ڈیسک : 03 مارچ 2019

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی حال ہی میں جاری کی گئی تصاویر میں پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین نے اس کا کریڈٹ بلین ٹری سونامی منصوبے کو قرار دیا ہے۔
ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت سب سے زیادہ چین اور بھارت اپنے جنگلات کے رقبے میں اضافہ کر رہے ہیں اور یہ رقبہ دنیا کا ایک تہائی سبزہ ہے۔
بوسٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق سنہ 2000 سے دنیا بھر میں جنگلات کے رقبے میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے، یہ رقبہ برازیل کے ایمازون جنگلات کے برابر ہے جنہیں زمین کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بھی سنہ 2015 اور 2016 کے درمیان جنگلات کے رقبے میں 6 لاکھ ایکڑ کا اضافہ ہوا ہے۔
ایف اے او کے مطابق پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 3 کروڑ 62 لاکھ سے بڑھ کر 3 کروڑ 68 لاکھ سے زائد ہوگیا ہے تاہم اسی عرصے میں پرانے جنگلات کے رقبے میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں اضافے کا کریڈٹ بلین ٹری سونامی منصوبے کو جاتا ہے جس کی عالمی سطح پر پذیرائی کی جاتی رہی ہے۔
آئی یو سی این کی رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے پر کامیاب عملدر آمد کے بعد خیبر پختونخواہ کا شمار دنیا کے ان علاقوں میں ہونے لگا ہے جس نے عالمی معاہدے ’بون چیلنج‘ کو پورا کرتے ہوئے 35 لاکھ ایکڑ زمین پر جنگلات قائم کیے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کے بعد خیبر پختونخواہ پاکستان کا واحد صوبہ بن گیا ہے جہاں وسیع پیمانے پر شجر کاری کے ذریعے 35 لاکھ ایکڑ جنگلات کو بحال کیا گیا ہے۔
گزشتہ حکومت میں صوبہ خیبر پختونخواہ تک محدود یہ منصوبہ اب پورے ملک میں شروع کیا جاچکا ہے اور اس کے تحت بڑے پیمانے پر شجر کاری کی جارہی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے