ملک بھر میں بارشیں ، بلوچستان میں برفباری،سیلاب،2 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

محکمہ موسمیات نے سوموار تک ملک بھر میں بارشوں کی پیش گوئی کی ہے

ویب ڈیسک : اتوار 03 مارچ 2019


اسلام آباد،لاہور،کوئٹہ،ملتان: پاکستان کے طول و عرض میں برسات اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس سے ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
نیوز رپورٹس کے مطابق چمن میں شدید برسات اور تیز ہوائیں چلنے سے متعدد مکانوں کی چھتیں گر گئی ہیں۔ چھتیں گرنے سے 2 بچیاں جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔چمن میں گزشتہ شب شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد بجلی اور انٹرنیٹ سروس معطل ہوگئی ہے۔ ندی نالوں میں طغیانی سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔
لیویز حکام کا کہنا ہے کہ گلدارہ باغیچہ کے علاقے میں بھی کمرے کی چھت گرنے سے 6 افراد ملبے تلے دب گئے ہیں۔ ملبے سے ایک بچی کی لاش نکال لی گئی ہے اور 5 افراد زخمی ہیں۔زخمیوں میں باپ بیٹا بھی شامل ہیں اور انہیں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔بلوچستان میں بارش اور برفباری کے باعث سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ کئی رابطہ سڑکیں بندہوچکی ہیں جس سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کردیا –
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری کے باعث سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔وادی زیارت میں برف باری کا 15 برس پرانا ریکارڈ ٹو ٹ گیا اور اب تک 3 فٹ برف پڑ چکی ہے جبکہ کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں معمولات زندگی بھی سردی کے باعث متاثر ہورہی ہے اور لوگ گھروں تک محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے مذکورہ علاقوں میں مزید برف باری کی پیش گوئی کی ہے ساتھ ہی شدید برف باری کے باعث بجلی بند ہونے سے سیاحوں اور مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بارش اور برفباری کا باعث بننے والا سسٹم بلوچستان کے جنوب مغربی اور شمال مغربی علاقوں میں اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ کوئٹہ، زیارت اور قلعہ عبداللہ میں گزشتہ روز سے شدید بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ خانوزئی کے علاقے کان مہترزئی میں گزشتہ روز سے اب تک ڈیڑھ فٹ برف پڑ چکی ہے۔ اسی طرح کوئٹہ، کوہلو ،ہرناہی، دکی ،بارکھان اور زیارت سمیت اطراف کے دیگر علاقوں میں بھی بارش اور برفباری جاری ہے۔
شدید بارشوں اور برفباری کی وجہ سے کئی علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ قلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلے تباہی مچائی ہے۔ کوئٹہ چمن شاہراہ پر واقع مشہور باغک پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے ۔ سیلابی پانی شہر میں داخل ہوگیا ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کے کاموں میں مصروف ہیں۔


نوشکی میں موسلا دھار بارش کے باعث مشرقی قادر آباد کا حفاظتی بند ٹوٹنے کا خطرہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں ایمر جنسی کنٹرول روم قائم کردیے گئے ہیں۔
بلوچستان کے علاقہ عبداللہ میں پہاڑی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلوں سے شہر کا رابطہ مکمل طورپر منقطع ہوگیا ہے۔ زمینی رابطہ منقطع ہونے سے شہری مکمل طور پر محصور ہو گئے ہیں۔
سیلابی ریلے سے شہر پانی میں ڈوب گیا درجنوں مکانات مکمل منہدم ہوگئے ہیں۔ کوئٹہ چمن شاہراہ پر واقع مشہور باغک پل بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے۔ شہریوں نے پی ڈی ایم اے سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہنگامی ریسکیو اپریشن کی اپیل کی ہے۔صوبے میں بارشوں اور برفباری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کی نگرانی کے لیے و وزیراعلی جام کمال خان اور صوبائی وزیر داخلہ و پی ڈی ایم اے میر ضیالانگو کی ہدایات کی روشنی میں پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عمران زرکون اپنی ٹیم کے ہمراہ گزشتہ شب سے ایمرجنسی ریلیف سروسز کی نگرانی کر رہے ہیں۔


واضح رہے کہ بلوچستان کے تمام اضلاع جہاں پر بارشیں اور برف باری ہو رہی ہے۔پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی عمران زرکون نے ہم نیوز ڈاٹ پی کے سے گفتگو میں کہا کہ ان کی ٹیم صوبے میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور کمشنروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے ۔جہاں پر بھی ریلف کے اشیاء کی ضرورت پیش آرہی ہے وہاں پر ریلیف کے سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔عمران زرکون نے کہا اب تک ہزاروں اشیاء جن میں خوراک، گرم کپڑوں، عارضی قیام کے لیے ٹینٹس اور دیگر ساز وسامان کی گاڑیاں ارسال کیے گیے ہیں۔ کوئٹہ و دیگر ملحقہ علاقوں میں بارشوں کے نتیجے میں نکاسی آب کے لیے پی ڈی ایم اے کے ڈی واٹرنگ پمپ بھی بھجوا دیے گئے ہیں ۔
بلوچستان کے علاقے ہرنائی اور دیگر بلندپہاڑی سلسلوں پر برف باری سے بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایف سی اور پاک فوج کے جوان مختلف شاہراہوں پرلوگوں کی مدد کررہے ہیں۔
اپر اور جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ رحیم یار خان ،صادق آباد، تونسہ شریف، کوٹ ادو اور ملتان سمیت متعدد شہروں میں بھی بارشیں ہو رہی ہیں۔ ملتان اور گردو نواح میں بونداباندی کے ساتھ سرد ہوائیں بھی چل رہی ہیں۔
مری میں بھی برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے مری اور بالائی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے تین دن تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔لاہور میں وقفے وقفے سے بوندا باندی کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے موسم سرد ہوگیا ہے.
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے سوموار تک ملک بھر میں بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے