رائگاں شخص کی صحبت سے برا کچھ بھی نہیں

شاعری

غزل
عمیر نجمی



دھوپ کی عمر زیادہ ہے، سفر مجھ سے کم

اس لئے زرد تو ہوتی ہے مگر مجھ سے کم


رائگاں شخص کی صحبت سے برا کچھ بھی نہیں
ہجر اپناؤ کہ اس میں ہے ضرر مجھ سے کم


میں ہوں جنگل میں اترتا ہوا ذیلی رستہ
خلقتِ شہر کا ہوتا ہے گزر مجھ سے کم


ہر خزاں ایسے مرے زخم ہرے کرتی ہے
سبز لگتے ہیں بہاروں میں شجر مجھ سے کم


تو نہ ہو کر بھی یہاں اتنا رہا ہے مرے یار
تجھ سے مانوس زیادہ ہے یہ گھر، مجھ سے کم


کوئی ٹھیکہ ہو اداسی کا، مجھے ملتا ہے
کوئی بھرتا ہی نہیں نرخ اِدھر مجھ سے کم


ہاتھ اٹھائے، میں جسے ٹھیک نظر آتا ہوں
دیکھنا ہے یہاں کس کی ہے نظر مجھ سے کم


کیا کہا تو نے؟ فلاں مجھ سے بھی کم بولتا ہے؟
میں نہیں مانتا، سچ؟ یار!نہ کر! مجھ سے کم ؟


وہ فقط روتا ہے، ہنستا نہیں تادیر، عمیر!
میرے بیٹے میں ہے وحشت کا اثر مجھ سے کم

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے